شعبی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ کنویں کی ہر چار طرف سے
دس دس ہاتھ جملہ چالیس ہاتھ ہے کوئی شخص اس حد کے اندر دخل نہ دیوے اور نہ اس حد کے اندر دوسرا
کنواں کھود کر اس کے پانی میں تصرف کرے۔ (اس کی روایت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے کی
ہے۔)
امام صدر الشریعۃ نے کہا ہے کہ کنویں کے ہر جانب سے دس دس ہاتھ کا احاطہ اسی کنویں کا ہے
اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی دس ہاتھ کے اندر دوسرا کنواں کھدوانا چاہے تو اس کو روک
دیا جائے گا، اس لئے کہ پہلے کنویں کا پانی دوسرے کی جانب کھنچ جائے گا اور پہلے کنویں کا پانی کم
ہو جائے گا اور اگر کوئی اس حد کے اندر گڑھا کھدوائے جس میں غلیظ پانی جمع ہوتا ہو تو اس سے بھی روک
دیا جائے گا اس لئے کہ پہلے کنویں میں اس کی نجاست سرایت کر جائے گی اور اس کا پانی ناپاک ہو جائے
گا، البتہ کسی کو دہ در دہ احاطہ کے بعد سے کنواں کھدوانے سے منع نہیں کیا جائے گا، لہٰذا معلوم ہوا کہ
شریعت نے ناپاکی کے سرایت نہ کرنے کے متعلق دہ در دہ کا اعتبار کیا ہے، ہاں اگر اس کے بعد بھی
نجاست سرایت کر جاتی تو وہاں سے بھی روکا جاتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لئے ثابت ہو گیا کہ دہ
در دہ کے بعد نجاست سرایت نہیں کرتی ہے۔ اس تمام تقریر کا نتیجہ یہ ہے کہ فقہاء کا وہ دہ در دہ پانی، ہی کو آب
کثیر کی تعریف میں داخل کرنے کا ماخذ یہی حدیثیں ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے قلتین مقدار والے
پانی کو آب کثیر کے حکم میں داخل کیا ہے وہ حضرات۔
بئر بضاعۃ سے استدلال کرتے ہیں کہ بئر بضاعۃ مدینہ منورہ میں ایک کنواں تھا جس میں نجاست
گرتی تھی اور اس کا پانی لوگ استعمال کرتے تھے تو اس سے ان حضرات نے ثابت کیا ہے کہ قلتین مقدار
والا پانی نجاست کا متحمل ہوتا ہے اور آب کثیر کا حکم اس پر صادق آجاتا ہے۔ اس کے جواب میں احناف
نے یہ وضاحت کی ہے کہ بئر بضاعۃ ایسا کنواں تھا جس کی تہہ میں ایک نہر تھی جس سے مدینہ منورہ کے
باغوں کو زمین کے اندر سے ہمیشہ پانی بہا کرتا تھا جس کی وجہ سے نجاست رہنے نہیں پاتی تھی، بئر بضاعۃ
بظاہر تو ایک کنواں تھا لیکن حقیقت میں اس نہر کی وجہ سے اس کا پانی نہر جاری کے حکم میں تھا۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امام صدر الشریعۃ نے کہا ہے کہ کنویں کے ہر جانب سے دس دس ہاتھ کا احاطہ اسی کنویں کا ہے اور اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی دس ہاتھ کے اندر دوسرا کنواں کھدوانا چاہے تو اس کو روک دیا جائے گا، اس لئے کہ پہلے کنویں کا پانی دوسرے کی جانب کھنچ جائے گا اور پہلے کنویں کا پانی کم ہو جائے گا اور اگر کوئی اس حد کے اندر گڑھا کھدوائے جس میں غلیظ پانی جمع ہوتا ہو تو اس سے بھی روک دیا جائے گا اس لئے کہ پہلے کنویں میں اس کی نجاست سرایت کر جائے گی اور اس کا پانی ناپاک ہو جائے گا، البتہ کسی کو دہ در دہ احاطہ کے بعد سے کنواں کھدوانے سے منع نہیں کیا جائے گا، لہٰذا معلوم ہوا کہ شریعت نے ناپاکی کے سرایت نہ کرنے کے متعلق دہ در دہ کا اعتبار کیا ہے، ہاں اگر اس کے بعد بھی نجاست سرایت کر جاتی تو وہاں سے بھی روکا جاتا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا ہے اس لئے ثابت ہو گیا کہ دہ در دہ کے بعد نجاست سرایت نہیں کرتی ہے۔ اس تمام تقریر کا نتیجہ یہ ہے کہ فقہاء کا وہ دہ در دہ پانی، ہی کو آب کثیر کی تعریف میں داخل کرنے کا ماخذ یہی حدیثیں ہیں اور وہ حضرات جنہوں نے قلتین مقدار والے پانی کو آب کثیر کے حکم میں داخل کیا ہے وہ حضرات۔ بئر بضاعۃ سے استدلال کرتے ہیں کہ بئر بضاعۃ مدینہ منورہ میں ایک کنواں تھا جس میں نجاست گرتی تھی اور اس کا پانی لوگ استعمال کرتے تھے تو اس سے ان حضرات نے ثابت کیا ہے کہ قلتین مقدار والا پانی نجاست کا متحمل ہوتا ہے اور آب کثیر کا حکم اس پر صادق آجاتا ہے۔ اس کے جواب میں احناف نے یہ وضاحت کی ہے کہ بئر بضاعۃ ایسا کنواں تھا جس کی تہہ میں ایک نہر تھی جس سے مدینہ منورہ کے باغوں کو زمین کے اندر سے ہمیشہ پانی بہا کرتا تھا جس کی وجہ سے نجاست رہنے نہیں پاتی تھی، بئر بضاعۃ بظاہر تو ایک کنواں تھا لیکن حقیقت میں اس نہر کی وجہ سے اس کا پانی نہر جاری کے حکم میں تھا۔