اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 631
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو ابن ابی قتادہ رضی
اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کے لئے وضوء کا پانی ڈالی، پس
ایک بلی آ کر اس میں سے پانی پینے لگی تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے پینے کے لئے برتن کو اور جھکا دیا
یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا جبکہ میں
حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی اور کہنے لگے اے میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا:
ہاں! ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلی نجس نہیں ہے
وہ تو تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آتی جاتی رہتی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک، امام احمد،
ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور امام محمد نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح
ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 75 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 92 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 68 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Sunan Ibn Majah 367 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 483 (unverified) 88% confidence
Mishkat (candidate) 483
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Unnumbered commentary
The statement "from those that frequently move around you" (min al-tawwafin)—The Sheikh explained that the reasoning behind considering the cat as tawwaf (one that moves around frequently) indicates that its original ruling is impurity. However, it has been exempted due to necessity. Therefore, the leftover water from all predatory animals (sabu‘) is considered impure, except in cases where necessity is established—such as with the cat. This was mentioned in the commentary on Ihya’ al-Sunan.
Note 1
(۱) قوله : من الطوافين: أفاد الشيخ أن علة الطواف تدل على أن الأصل فيها النجاسة. وإنما عفي عنها للحاجة، فيكون سؤر جميع السباع نجسًا، إلا فيها تتحقق فيه الضرورة، وهي الهرة، قاله في تعليق إحياء السنن».
Note 1
ف: بلی تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آتی جاتی رہتی ہے، اس کے متعلق علامہ شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ بلی کی بار بار آمد و رفت کو بلی کے ناپاک نہ ہونے کی علت قرار دی گئی ہے ،جس سے پتہ چلتا ہے دراصل وہ ناپاک ہے اور اس کی ناپاکی حاجت اور ضرورت کے تحت (کہ وہ موذی جانور کو مارتی ہے) معاف قرار دی گئی ہے، اس لحاظ سے درندہ کا جھوٹا ناپاک ہوگا اور بلی کا جھوٹا اس کے درندہ ہونے کے باوجود ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ضرورت اور حاجت ہے، احیاء السنن میں یہی مذکور ہے۔ بلی کی حاجت اور ضرورت اس طرح ہے کہ وہ خدمت کرتی ہے اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ موذی جانوروں کو مارتی ہے اور ان کی خبرگیری میں ثواب ہوتا ہے، اور اسی ضرورت کے تحت بلیوں کے جھوٹے پانی کو پاک قرار دیا گیا کہ اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔12