Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Purification

Hadith 564

Chapter on the rulings of water

In this book

Current reading

Purification

Chapter on the rulings of water

Zujajat al-Masabih 564Volume 1

English

It is narrated from Kabshah bint Ka‘b ibn Malik, who was the wife of the son of Abu Qatadah, that Abu Qatadah entered her house. She poured some water for him to perform ablution. A cat came and started drinking from it, so he tilted the vessel for it to drink. Kabshah said: "He saw me looking at him in surprise, so he said: ‘Are you amazed, O daughter of my brother?’ I replied, ‘Yes.’ He then said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not impure, for it is among those that frequently move around you.’" This was narrated by Malik, Ahmad, Al-Tirmidhi, Abu Dawud, Al-Nasa’i, Ibn Majah, Al-Darimi, and Muhammad. Al-Tirmidhi graded it Hasan Sahih.

العربية

Typed, pending editorial approval
٥٦٤ - وَعَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبْتُ لَهُ وَضُوْمًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ، فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِيْنَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ. فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ: «إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِينَ1 عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ». رَوَاهُ مَالِكُ وَأَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارِمِيُّ وَمُحَمَّدُ، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 631
کبشہ بنت کعب بن مالک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، جو ابن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میں ان کے لئے وضوء کا پانی ڈالی، پس ایک بلی آ کر اس میں سے پانی پینے لگی تو ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے پینے کے لئے برتن کو اور جھکا دیا یہاں تک کہ اس نے پانی پی لیا، کبشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھ لیا جبکہ میں حیرت سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی اور کہنے لگے اے میری بھتیجی! کیا تم تعجب کرتی ہو؟ میں نے کہا: ہاں! ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلی نجس نہیں ہے وہ تو تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آتی جاتی رہتی ہے۔ (اس کی روایت امام مالک، امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ، دارمی اور امام محمد نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 75 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 92 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 68 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 367 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 483 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 483

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Unnumbered commentary

from those that frequently move around you

The statement "from those that frequently move around you" (min al-tawwafin)—The Sheikh explained that the reasoning behind considering the cat as tawwaf (one that moves around frequently) indicates that its original ruling is impurity. However, it has been exempted due to necessity. Therefore, the leftover water from all predatory animals (sabu‘) is considered impure, except in cases where necessity is established—such as with the cat. This was mentioned in the commentary on Ihya’ al-Sunan.

Note 1

قوله

(۱) قوله : من الطوافين: أفاد الشيخ أن علة الطواف تدل على أن الأصل فيها النجاسة. وإنما عفي عنها للحاجة، فيكون سؤر جميع السباع نجسًا، إلا فيها تتحقق فيه الضرورة، وهي الهرة، قاله في تعليق إحياء السنن».

Note 1

ف: بلی تمہارے پاس (خادموں کی طرح) آتی جاتی رہتی ہے، اس کے متعلق علامہ شیخ عبدالحق رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ بلی کی بار بار آمد و رفت کو بلی کے ناپاک نہ ہونے کی علت قرار دی گئی ہے ،جس سے پتہ چلتا ہے دراصل وہ ناپاک ہے اور اس کی ناپاکی حاجت اور ضرورت کے تحت (کہ وہ موذی جانور کو مارتی ہے) معاف قرار دی گئی ہے، اس لحاظ سے درندہ کا جھوٹا ناپاک ہوگا اور بلی کا جھوٹا اس کے درندہ ہونے کے باوجود ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ اس میں ضرورت اور حاجت ہے، احیاء السنن میں یہی مذکور ہے۔ بلی کی حاجت اور ضرورت اس طرح ہے کہ وہ خدمت کرتی ہے اور اس کی خدمت یہ ہے کہ وہ موذی جانوروں کو مارتی ہے اور ان کی خبرگیری میں ثواب ہوتا ہے، اور اسی ضرورت کے تحت بلیوں کے جھوٹے پانی کو پاک قرار دیا گیا کہ اس سے وضو کیا جا سکتا ہے۔12