اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7322
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے حضرت زید حضرت جعفر اور حضرت ابن رواحہ کی شہادت کی اطلاع آنے سے پہلے ہی
لوگوں کو اس کی خبر دی(26) جبکہ وہ لوگ اس سرزمین میں تھے جس کو مؤتہ کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا
حضرت زید نے جھنڈے کو لیا اور شہید ہو گئے، پھر حضرت جعفر نے لیا اور وہ بھی شہید ہو گئے، پھر
حضرت ابن رواحہ نے لیا وہ بھی شہید ہو گئے اور آپ کی دونوں آنکھیں بہہ رہی تھیں یہاں تک کہ اللہ
کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے یعنی خالد بن ولید نے اس کو لیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عطا
فرمائی۔(بخاری)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 3757 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4262 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (9)
Note 1
(1) His statement: announced the death: Meaning he informed of their deaths, permitting such announcements. His statement: before their news reached them: Meaning it was a miracle. His statement: Mu’tah: With damma on mim, sukun on hamza, then ta’ above, a village in Sham. This was in the eighth year, with 3,000 Muslims against 100,000 Romans with Heraclius.
Note 2
(2) His statement: he said: Explaining and detailing what came before.
Note 3
(3) His statement: Zayd took the banner: As it was custoMaryam (Mary) for the army’s leader to take it.
Note 4
(4) His statement: a sword from the swords of Allah: Meaning a brave warrior among His warriors, as he was worth a thousand, and eight swords broke in his hand that day. The attribution is for honor. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله : نعى أي أخبر بموتهم للناس فيه جواز النعي. وقوله: قبل أن يأتيهم خبرهم أي فكان معجزة. وقوله: مؤنة» بميم مضمومة فهمزة ساكنة فمثناة فوقية قرية بالشام، وكانت في السنة الثامنة، وكان المسلمون ثلاثة آلاف والروم مع هر قل مائة ألف.
Note 2
(۲) وقوله: «فقال» تفسير وتفصيل لما قبله.
Note 3
(۳) وقوله: «أخذ الراية زيد؛ إذ العادة أن يأخذه أمير العسكر.
Note 4
(٤) وقوله: «أخذ الراية سيف من سيوف الله أي شجيع من شجعانه؛ فإنه كان يعد ألفا، وانقطع في يده يومئذ ثمانية أسياف، والإضافة للتشريف. التقطته من «المرقاة».
Note 1
(26) قوله: نعى یعنی لوگوں کو ان حضرات کی موت کی اطلاع دی اس سے موت کی اطلاع دینے کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ وقوله : قبل ان ياتيهم خبرهم مطلب یہ ہے کہ یہ آپ کا معجزہ ہے۔ وقوله: مؤتة، اس میں میم کو پیش اور ہمزہ کو جزم ہے پھر ۃ ہے یہ ملک شام کا ایک شہر ہے اور اس جنگ میں مسلمان تین ہزار تھے اور رومی فوج ہرقل کے ساتھ آئی تھی اور وہ ایک لاکھ تھے اور یہ جنگ 8ہجری میں ہوئی۔ وقوله : فقال۔ یہ سابق مضمون کی تفصیل اور اس کی تفسیر ہے۔ وقوله : اخذ الراية زيد۔ کیونکہ عرف یہ ہے کہ لشکر کا امیر (کمانڈر) سردار جھنڈے کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے۔ وقوله : اخذ الراية سيف من سيوف الله۔ اس سے مراد بہادروں میں سے ایک بہادر ہے کیونکہ حضرت خالد بن ولید ایک ہزار آدمی کے برابر شمار کئے جاتے تھے، اور اس دن آپ کے ہاتھ میں آٹھ تلواریں ٹوٹی تھیں اور اس میں اضافت تشریفی ہے۔(ماخوذ از مرقات)۔