Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5651

Chapter on Miracles

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on Miracles

Zujajat al-Masabih 5651Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7323
اور انہی سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ فرمایا جس وقت ہم کو ابوسفیان کے آنے کی اطلاع ملی تو حضرت سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے(27)اور کہا یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں حکم فرمائیں کہ ہم ان (گھوڑوں) کو سمندر میں ڈال دیں تو ہم ان کو ڈال دیں گے(28)اور اگر آپ ہمیں حکم فرمائیں کہ ہم ان کے جگر کو برک الغماد تک ایڑ لگائیں (29) تو ہم یقیناً عمل کریں گے راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بلایا (30) اور لوگ چلے یہاں تک کہ مقام بدر میں اترے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ فلاں (کافر) کے قتل کی جگہ ہے اور اپنا دست مبارک زمین پر یہاں اور یہاں رکھا رہے تھے۔ راوی نے کہا: ان میں کا ایک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی جگہ سے نہیں ہٹا۔ (مسلم)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1779 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (9)

Note 1

O people of Makkah, to the rescue!

(1) His statement: Sa’d stood: Meaning he rose among the companions, the leader of the Ansar. He said what he said because the consultation’s purpose was to test the Ansar, as they had not pledged to fight or pursue enemies but to protect him from attackers. When the opportunity arose to intercept Abu Sufyan’s caravan, he wanted to know if they agreed, and they responded with full agreement here and elsewhere. This encourages consulting companions and those with insight and experience. At-Tibi said: Quraysh came from Sham with great trade, accompanied by forty riders including Abu Sufyan. The Muslims were eager to intercept the caravan due to its wealth and few men. When they set out, Makkah heard of their move, so Abu Jahl called above the Ka’bah, “O people of Makkah, to the rescue!” Abu Jahl set out with all of Makkah’s people. He was told the caravan took the coastal route and escaped, so return to Makkah. He said, “No, by Allah,” and proceeded to Badr. Jibril descended, informing that Allah promised one of the two groups. The Messenger of Allah (ﷺ) said, “The caravan has passed along the coast, and here is Abu Jahl approaching.” Sa’d ibn Ubadah stood and said, “O Messenger of Allah,” etc. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

plunge it

(2) His statement: plunge it: Qadi said: Plunging means entering the water, referring to horses and camels by context. His statement: strike its livers: Qadi said: Striking the livers means urging the mount to travel beyond its capacity. The meaning is: If you ordered us to travel swiftly and far. (As stated in Al-Mirqat)

Note 3

Bark al-Ghimad

(3) His statement: Bark al-Ghimad: A place in Yemen, or five nights beyond Makkah, or the farthest inhabited land. In Al-Qastalani: Meaning, for example, a distant place. (As stated in Al-Mirqat)

Note 4

called

(4) His statement: called: Meaning he summoned. His statement: they reached Badr: Al-Nawawi said: Badr is a well-known water source about four stages from Madinah, between it and Makkah. Ibn Qutaybah said: It was a well belonging to a man named Badr. The Battle of Badr was on Friday, the seventeenth of Ramadan in the second year of Hijrah. His statement: none deviated: Meaning none moved, strayed, or exceeded. (As stated in Al-Mirqat)

Note 1

قوله

(۱) قوله: قام سعد أي وقد قام من بين الصحابة، وهو رئيس الأنصار. وقال ما قال مما سيأتي، وإنما خص بالقيام؛ لأن سبب الاستشارة اختبار الأنصار؛ لأنه لم يكن بايعهم على أن يخرجوا معه للقتال وطلب العدو، وإنما بايعهم على أن يمنعوه من قصده، فلما عرض له الخروج لعير أبي سفيان أراد أن يعلم أنهم يوافقونه على ذلك أم لا، فأجابوا أحسن جواب بالموافقة التامة في هذه المرة وفي غيرها. وفيه حث على استشارة الأصحاب وأهل الرأي والخبرة. قال الطيبي: وذلك أن قريشا أقبلت من الشام فيها تجارات عظيمة، ومعه أربعون راكبا منهم أبو سفيان فأعجب المسلمين تلقي العير لكثرة الخير وقلة القوم، فلما خرجوا بلغ مكة خبر خروجهم فنادى أبو جهل فوق الكعبة يا أهل مكة النجاء النجاء، فخرج أبو جهل بجميع أهل مكة، فقيل له : إن العير أخذت طريق الساحل ونجت فارجع إلى مكة بالناس، فقال: لا والله، فمضى بهم إلى بدر، ونزل جبريل، فأخبر أن الله وعدكم إحدى الطائفتين، فقال رسول الله ﷺ : إن العير قد مضت على ساحل البحر. وهذا أبو جهل قد أقبل، فقام سعد بن عبادة، فقال: يا رسول الله إلخ. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: إن نخيضها قال القاضي: الإفاضة الإدخال في الماء، والكناية للخيل والإبل، وإن لم يجر ذكرها بقرينة الحال. وقوله: «أن نضرب أكبادها قال القاضي ضرب الأكباد عبارة عن تكليف الدابة للسير بأبلغ مما يمكن. فالمعنى لو أمرتنا بالسير البليغ والسفر السريع. كذا في «المرقاة».

Note 3

قوله

(۳) قوله: برك الغماد بلدة باليمن أو وراء مكة بخمس ليال، أو أقصى معمور الأرض. كذا في القسطلاني. قال في «المرقاة»: أي مثلا من المواضع البعيدة.

Note 4

قوله

(٤) قوله: فندب: أي فدعا. وقوله: نزلوا بدرا». قال النووي: بدر ماء معروف على نحو أربع مراحل من المدينة، بينها وبين مكة. قال ابن قتيبة هو بئر كانت لرجل يسمى بدرا، وكانت غزوة بدر يوم الجمعة لسبع عشرة خلت من رمضان في السنة الثانية من الهجرة. وقوله: فما ماط» أي ما زال وبعد وتجاوز التقطته من «المرقاة».

Note 1

(27) قوله : قام سعد. یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم کے درمیان سے کھڑے ہوگئے اور آپ انصار کے سردار تھے پھر آپ نے وہ بات کہی جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے اور خاص طور پر آپ کے اٹھنے کا ذکر اس لئے ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا انصار کے بارے میں معلوم کرنا تھا کیونکہ انصار نے جو بیعت کی وہ جنگ کے لئے نکلنے اور دشمن کا پیچھا کرنے کے لئے نہیں تھی بلکہ ان کی بیعت اس بات پر تھی کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے درپے ہوگا وہ اس کو روکیں گے۔ پس جب ابوسفیان کے قافلہ کے لئے نکلنے کا معاملہ درپیش ہوا تو آپ نے چاہا کہ یہ معلوم کریں کہ وہ اس میں موافقت کرتے ہیں یا نہیں۔ تو انصار نے اچھا جواب دیا اور کمل موافقت کے ساتھ اس بار بھی اور اس کے علاوہ بھی۔ اور اس حدیث میں اپنے اصحاب، اہل رائے، اور اہل تجربہ حضرات سے مشورہ کی ترغیب ہے۔ علامہ طیبی نے فرمایا کہ قریش ملک شام سے بڑی بڑی تجارتوں کے ساتھ واپس آئے اور ان کے(40)چالیس سوار تھے اور ان میں ابوسفیان بھی تھے۔ مسلمانوں کو یہ بات پیش تھی کہ قافلہ کو روک لیا جائے کیونکہ اس کی تعداد کم تھی اور مال زیادہ تھا، جب مسلمان اس قافلہ کو روکنے کے لئے نکل پڑے تو یہ خبر اہل مکہ کو پہنچ گئی تو ابوجہل کعبہ کے اوپر چڑھ کر دوسرے قریش کو آواز دیا کہ جلدی کرو جلدی کرو۔ پھر یہ تمام اہل مکہ کو لے کر نکل پڑا اور اس سے جب یہ کہا گیا کہ قافلہ ساحل سمندر کا راستہ اختیار کر کے محفوظ طریقہ پر پہنچ گیا ہے لوگوں کو لیکر تم مکہ کو واپس ہوجاؤ تو اس نے کہا نہیں خدا کی قسم اور ان کو لیکر بدر کی طرف چل پڑا تو حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور اس بات کی اطلاع دیئے کہ اللہ تعالیٰ نے دو جماعتوں میں سے ایک جماعت کا تم سے وعدہ کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قافلہ سمندر کے ساحل کے راستہ سے گزر چکا ہے اور یہ ابوجہل ہے جو آگیا ہے تو حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اٹھے اور بولے یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر آپ حکم فرمائیں تو سمندروں میں بھی گھوڑے دوڑا دیں گے۔ (مرقات)۔ (28) قوله : ان نخيضها. علامہ قاضی نے فرمایا الاخاضة کے معنی پانی میں داخل کر دینا ہے اور ہا ضمیر کا مرجع خیل وابل یعنی گھوڑے اور اونٹ ہے اگرچہ اس کا سابق میں ذکر نہیں ہے اور یہ قرینہ حال سے واضح ہے۔ وقوله : ان نضرب اكبادها. علامہ قاضی نے فرمایا ضرب الاكباد (جگر کو ایڑ لگانا) سے مراد گھوڑے کو جس قدر ممکن ہو تیز (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) دوڑانا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر آپ حکم فرمائیں تو سفر میں تیز سے تیز تر چلیں گے اور سواریوں کو تیز سے تیز تر دوڑائیں گے۔ (مرقات)۔ (29) قوله : برك الغماد۔ یہ یمن کا ایک شہر ہے یا مکہ سے آگے پانچ دن کی مسافت پر ایک شہر ہے یا زمین کی آخری آبادی۔ (قسطلانی) صاحب مرقات نے کہا ہے کہ یہ مثال کے طور پر ہے یعنی دور سے دور تک بھی چلیں گے۔ (مرقات)۔ (30) قوله : فندب۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا۔ وقوله نزلوا بدرا۔ امام نووی نے فرمایا بدر پانی کا مشہور چشمہ ہے جو کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان چار مراحل پر ہے اور ابن قتیبہ نے فرمایا یہ بدر نامی ایک شخص کا کنواں تھا۔ اور جنگ بدر کا واقعہ سترہ (17) رمضان المبارک 2 ہجری جمعہ کے دن واقع ہوا۔ وقوله : فما ماط ذرا بھی نہیں ہٹا اور اس سے کچھ بھی تجاوز نہیں کیا۔ (ماخوذ از مرقات)۔