Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues

Hadith 5924

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

In this book

Current reading

the Virtues

Chapter on the Virtues of the Prophet’s Household (ﷺ) (may Allah be pleased with them)

Zujajat al-Masabih 5924Volume 5

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 7637Noor 7638
ان ہی سے روایت ہے فرمایا حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر مبارک عبیداللہ بن زیاد کے پاس لایا گیا اور ایک طشت میں رکھا گیا تو وہ چھڑی سے چھونے لگا(29) اور آپ کے حسن کے بارے میں کچھ کہا(30) تو حضرت انس نے فرمایا: میں نے کہا خدا کی قسم آپ تمام لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مشابہ تھے اور آپ وسمہ بوٹی کا خضاب لگائے ہوئے تھے۔(بخاری)۔ اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں ہے، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: میں ابن زیاد کے پاس تھا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر مبارک لایا گیا تو وہ ایک چھڑی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ناک میں مارنے (چبھونے) لگا۔ اور کہتا تھا میں نے آپ کے جیسا حُسن نہیں دیکھا تو میں اس سے کہا: بے شک آپ رضی اللہ عنہ سب لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ مشابہ تھے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث صحیح حسن اور غریب ہے۔(ترمذی)
Commentary and footnotes (5)

Note 1

poke at it

(1) The statement “poke at it”: In An-Nihayah, it is said: Meaning, to reflect and talk to himself. Its origin is from poking with a stick, which is striking the ground with it. Poking the ground with a stick means making a mark with its tip, like a thinker lost in thought. (As stated in Al-Mirqat)

Note 2

said something about its beauty

(2) The statement “said something about its beauty”: It might initially seem that he belittled or criticized its beauty out of defiance or obstinacy, and Anas refuted him. However, it appears from At-Tirmidhi’s narration that he praised and described it with great beauty, but this was done mockingly and scornfully, out of joy and delight at his killing. (As stated in Al-Lama’at)

Note 1

قوله

(۱) قوله: ينكت في النهاية»: أي يفكر ويحدث بنفسه وأصله من النكت بالعصا، وهو ضرب الأرض بها، ونكت الأرض بالقضيب هو أن يؤثر فيها بطرفه كفحل المفكر الموهوم. كذا في «المرقاة».

Note 2

قوله

(۲) قوله: قال في حسنه شيئا قد يسبق إلى الزهن أنه طعن ونقص حسنه مكابرة وعنادا فرد عليه أنس قوله، ولكن يظهر من رواية الترمذي أنه حسنه ووصفه بالحسن البالغ، وكان ذلك بطريق السخرية والاستهزاء تبهجا وسرورا حصل له بقتله. كذا في «اللمعات».

Note 1

(29) قولہ: ینکت۔ کتاب نہایہ میں ہے یعنی غور و فکر کر رہا تھا اور اپنے آپ سے گفتگو کر رہا تھا، اس کی اصل النكت بالعصا یعنی چھڑی سے کریدنا، اور یہ زمین پر عصاء سے مارنا ہے ونكت الارض بالقضيب اور وہ یہ کہ ایک فکر میں ڈوبے ہوئے شخص کی طرح چھڑی کے ایک کنارے سے زمین پر نشان ڈالے۔ (مرقات) (30) قولہ: في حسنه شيئا۔ اس سے بھی ذہن اس بات کی طرف جاتا ہے کہ وہ اپنی بڑائی اور عناد کی وجہ سے آپ کے حسن میں نقص ظاہر کر رہا تھا تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے قول سے اس کا جواب دیا لیکن ترمذی (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) شریف کی روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے آپ کے انتہائی حسین ہونے کو بیان کیا اور یہ اس کا مذاق اور استہزاء کا انداز تھا اور آپ کو شہید کرنے کی خوشی میں کہہ رہا تھا۔(لمعات)