اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 7677
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا تم قرآن کے پڑھنے کو چار حضرات (7) سے سیکھو۔ عبداللہ بن مسعود سے اور سالم
مولیٰ ابی حذیفہ، ابی بن کعب اور معاذ بن جبل سے۔ (متفق علیہ)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 4999 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 2464a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement “learn the Qur’an from four”: Meaning seek the Qur’an from these four, as they were the memorizers among the companions. In the commentary of Muslim, it is said: These four dedicated themselves to learning the Qur’an directly from him, while others sufficed with learning from each other. Or it indicates their prominence after his passing, as they were the most proficient reciters. (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: استقروا القرآن من أربعة: أي اطلبوا القرآن من هؤلاء الأربعة؛ فإنهم حفظة الصحابة في شرح مسلم، قالوا: هؤلا الأربعة تفرغوا لأخذ القرآن منه المشافهة وغيرهم اقتصروا على أخذ بعضهم من بعض، أو أنه أراد الإعلام بما يكون بعد وفاته من تقدم هؤلاء الأربعة، وأنهم أقرأ من غيرهم. كذا في «المرقاة».
Note 1
(7) قولہ: استقرؤا القرآن من اربعة۔ یعنی قرآن مجید کو ان چار حضرات سے سیکھو، یہ حفاظ صحابہ میں سے ہیں۔ شرح مسلم میں ہے علماء نے فرمایا یہ چار حضرات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالمشافہ قرآن سیکھنے کے لئے اپنے آپ کو فارغ کر لیا تھا۔ ان کے علاوہ دیگر صحابہ نے آپس میں ایک دوسرے سے سیکھنے پر اقتصار کر رکھا تھا۔ اس بات کی طرف کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو زیر بحث امر خلافت کے بارے میں پوشیدہ طور پر بتا دیا تھا۔ اس کی گواہی اس استدراک سے ہوتی ہے جس کو صاحب کتاب (مشکوٰۃ) نے حدیث خلافت کے ذریعہ سے جوڑا ہے کہ: آپ نے فرمایا اگر میں تم پر خلیفہ بناؤں اور تم اس کی نافرمانی کرو تو تم عذاب میں مبتلا کئے جاؤ گے، لیکن تم سے حذیفہ جو بیان کریں تم اس کی تصدیق کرو۔ اور یہ حضرت حذیفہ ہی تو ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اقتدوا باللذين من بعدي الخ (میرے بعد ابوبکر و عمر کی اقتداء کرو) اور میں سمجھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث شریفہ میں خلافت سے متعلق سب سے زیادہ واضح اشارہ مذکورہ ان دو حدیثوں میں موجود ہے اور حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ”سُدُّوا عَنِّي كل خوخة إِلا خوخة أبى بكر“ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے بڑھ کر کوئی صحیح حدیث نہیں ہے (امر خلافت میں)۔ یا (یہ معنی ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ذریعہ یہ اعلان کرنے کا ارادہ فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد یہ چار حضرات تعلیم قرآن میں آگے رہیں گے، کیونکہ یہ چار حضرات دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قاری ہیں۔ (مرقات)