اردو
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت
کرتے ہیں: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد ان دونوں کی اقتداء کرتے رہنا
جو میرے صحابہ میں سے ہیں: ابوبکر و عمر کی اقتداء کرو اور عمار کی سیرت کو اختیار کرو (8) اور ابن ام عبد کی
وصیت کو مضبوط پکڑ لو (9)۔ (ترمذی)
اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے: تمسكوا بعهد ابن
ام عبد کی جگہ ما حدثكم ابن مسعود فصدقوه ہے۔ یعنی عبداللہ بن مسعود جو بیان کریں اس کی
تصدیق کرو۔ (ترمذی)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3805 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) The statement “be guided by the guidance of Ammar”: Meaning follow his way. Following is broader than guidance, as it encompasses speech and action, while guidance is specific to action. (As stated in Al-Mirqat)
Note 2
(2) The statement “hold fast to the covenant of Ibn Umm Abd”: Meaning the advice of Ibn Mas’ud. At-Turbushti said: It refers to the covenant of Abdullah ibn Mas’ud, i.e., what he advises and instructs. The most fitting interpretation of his covenant is the matter of the Caliphate, as he was the first to testify to its validity and affirm its correctness among the eminent companions, providing evidence for it, saying: We do not delay one whom the Messenger of Allah (ﷺ) advanced, and we are pleased for our worldly affairs with one he was pleased with for our religion. This meaning is supported by the connection between the beginning and end of the Hadith. At the beginning: “Follow the example of the two after me, Abu Bakr and Umar,” and at the end: “Hold fast to the covenant of Ibn Umm Abd.” The narration of Hudhayfah, “Whatever Ibn Mas’ud narrates to you, believe him,” further supports this, indicating what was confided to him regarding the Caliphate in this Hadith. This is also supported by the clarification in the Hadith of the Caliphate: “If I appoint a successor and you disobey him, you will be punished.” But: “Whatever Hudhayfah narrates to you, believe him.” Hudhayfah is the one who narrates from the Messenger of Allah (ﷺ): “Follow the example of the two after me,” and there is no clearer indication in the Sunnah of the Messenger of Allah (ﷺ) regarding the Caliphate than these two Hadiths, nor more authentic than the Hadith of Abu Sa’id: “Close every door to me except the door of Abu Bakr.” (As stated in Al-Mirqat)
Note 1
(۱) قوله: اهتدوا بهدي عمار : أي سيروا بسيره، وكان الاقتداء أعم من الاهتداء حيث يتعلق به القول والفعل بخلاف الاهتداء؛ فإنه يختص بالفعل. كذا في «المرقاة».
Note 2
(۲) قوله: وتمسكوا بعهد ابن أم عبد: أي بوصية ابن مسعود. وقوله: قال التوربشتي: يريد عهد عبد الله بن مسعود، وهو ما يعهد إليه فيوصيهم به وأرى أشبه الأشياء بما يراد من عهده أمر الخلافة؛ فإنه أول من شهد بصحتها، وأشار إلى استقامتها من أفاضل الصحابة، وأقام عليها الدليل، فقال: لا نؤخر من قدمه رسول الله ﷺ ، ألا نرضي لدنيانا من ارتضاه لديننا، ومما يؤيد هذا المعنى المناسبة الواقعة بين أول الحديث وآخره، ففي أوله: اقتدوا باللذين من بعدي أبي بكر، عمر، وفي آخره وتمسكوا بعهده ابن أم عبد، ومما يدل على صحة ما ذهبنا إليه قوله: وفي رواية حذيفة: ما حدثكم ابن مسعود فصدقوه. وهذا إشارة إلى ما أسر إليه من أمر الخلافة في الحديث الذي نحن فيه، ويشهد لذلك الاستدراك الذي أوصله حديث الخلافة فقال: لو استخلفت عليكم فعصيتموه عذبتم، ولكن ما حدثكم حذيفة فصدقوه، وحذيفة هو الذي يروي عن رسول الله ﷺ : اقتدوا باللذين من بعدي، ولم أر في التعريض بالخلافة في سنن رسول الله ﷺ أوضح من هذين الحديثين، ولا أصح من حديث أبي سعيد سدوا عني كل خوخة إلا خوخة أبي بكر . كذا في «المرقاة».
Note 1
(8) قولہ: اهتدوا بهدي عمار۔ یعنی ان کے طریقہ پر چلو۔ اور اقتداء اہتداء سے عام ہے، کیونکہ اقتداء قول و فعل دونوں کو شامل ہے، برخلاف اہتداء، یہ فعل سے مختص ہے۔ (مرقات) (9) قولہ: وتمسكوا بعهد ابن ام عبد۔ یعنی ابن مسعود کی وصیت کو۔ علامہ تورپشتی نے فرمایا: اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد حضرت عبداللہ بن مسعود کا وہ عہد و پیمان ہے جس کی وہ ان کو وصیت کریں۔ اور میں سمجھتا ہوں (حاشیہ پچھلے صفحہ سے) ان کے عہد و پیمان کے، بہترین معنی امر خلافت سے متعلق ان کی وصیت ہے، کیونکہ آپ سب سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے خلیفہ اول کے برحق ہونے کی گواہی دی، اور اس خلافت کے استقامت کا فاضل صحابہ نے مشورہ دیا اور آپ نے اس پر دلیل قائم کی اور فرمایا: ہم ان کو مؤخر نہیں کرسکتے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقدم کیا، کیا ہم اپنی دنیا کے لئے ان سے راضی نہیں ہوں جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے دین کے لئے پسند فرمایا۔ اس معنی کی تائید اس حدیث کے ابتدائی اور آخری حصہ میں پائی جانے والی مناسبت سے بھی ہوتی ہے، اس حدیث کے شروع میں اقتدوا باللذين من بعدي ابي بكر وعمر میرے بعد ان دونوں کی جو میرے صحابہ میں سے ہیں یعنی ابوبکر و عمر کی اقتداء کرو، اور اس حدیث کے آخر میں ہے ان ام عبد کی بات کو مضبوط پکڑلو۔ ہماری اس بات کی صحت پر امام ترمذی کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ: اور حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے ابن مسعود تم کو جو بیان کریں تم اس کی تصدیق کرو۔ اور اس میں اشارہ ہے
Note 2
حضرت ملا علی قاری نے فرمایا: اسی لئے ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ ان کی روایت اور قول کو اختیار کرتے ہیں خلفاء اربعہ کے بعد، ان کے کمال فقاہت اور ان کی وصیت کے اخلاص کی بناء پر۔