اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 940
سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب
خیبر سے واپس ہوئے تو رات بھر چلتے رہے یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ باقی رہ گیا تو آرام
کیلئے ایک مقام پر اتر پڑے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا اے بلال
(رضی اللہ عنہ) تم بیدار رہ کر صبح کی نماز کیلئے ہم کو بیدار کر دو اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سو گئے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جہاں تک ہو سکا بیدار رہے پھر
بلال رضی اللہ عنہ اپنی سواری کو ٹیکا دے کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ رہے، یہاں تک کہ ان کو
بھی نیند لگ گئی اور دھوپ اوپر آنے تک نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور نہ بلال رضی
اللہ عنہ اور نہ کوئی صحابی قافلہ سے جاگ سکے، سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرائے ہوئے
اٹھے اور فرمایا اے کیا بلال؟ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بھی اسی
نے سلا دیا جس نے حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سلا دیا تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
کجاوے کسو اور یہاں سے چلو! تو سب نے اپنی سواریوں کو اٹھایا کجاوے کس دئیے اور کچھ دور چلے
(اور جب آفتاب ایک نیزہ بلند ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا
اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی دو سنتیں اطمینان کے ساتھ
ادا فرمائے (سنتوں کا پڑھنا التعلیق الممجد میں ”مسند امام احمد“ کے حوالے سے مذکور ہے) اور رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو اقامت کا حکم دیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو نماز صبح کی قضا پڑھائی اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے
فارغ ہونے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی نماز کو (اس طرح) بھول جائے (کہ نماز قضا ہوگئی) تو
وہ فوت شدہ نماز کی قضا اس وقت ادا کرلے جب اس کو یاد آجائے (اور وہ وقت مکروہ نہ ہو) کیوں کہ
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ سورہ طہ، پ:16، ع:1، آیت نمبر:14)
(جب نماز یاد آجائے تو پڑھ لیا کرو) (اس آیت کا ترجمہ ”لِذِكْرِي“ دال کے فتح اور الف مقصورہ
کی قرأت کے لحاظ سے ہے، جس کی تحقیق ذیل کے فائدہ نمبر 1 میں آرہی ہے۔
(اس کی روایت امام مالک اور مسلم نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 680a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): واضح ہو کہ ”وَأَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِي“ میں دو قرأت: (1) ایک لِذِكْرِي (راء کے زیر اور یا متکلم کے ساتھ) اور دوسرے ”لِذِكْرَى“ (راء کے زبر اور الف مقصورہ کے ساتھ)۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث (58/938) میں پہلی قرأت ”لِذِكْرِي“ کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی حدیث (60/940) میں دوسری قرأت لِلذِّكْرَى کے لحاظ سے ترجمہ کیا گیا ہے تحقیق یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں اس آیت سے جو استدلال فرمایا ہے وہ دوسری قرأت کی بناء پر جو راوی کے تصرف سے ”لِلذِّكْرَى“ ہوگیا ہے۔ چنانچہ ابوداؤد نے اسی روایت میں ”لِلذِّكْرَى“ کہا ہے اور ابن شہاب جن کو زہری کہا جاتا ہے اور جو اس حدیث کے راوی ہیں وہ بھی للذِّكرى کی قرأت پڑھا کرتے تھے۔ (التعلیق الممجد میں تنویر کے حوالہ سے ایسا ہی نقل کیا گیا ہے۔)12 ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی سواریوں کو اس مقام سے لے کر چلے یہاں تک کہ اس وادی سے باہر ہوگئے، چاہے تو یہ تھا کہ فوت شدہ نماز کو وہیں ادا کرتے اور پھر روانہ ہوتے ایسا نہ کر کے وہاں سے روانہ ہوئے اور نماز اس وقت ادا فرمائی جب کہ آفتاب ایک نیزہ بلند ہوچکا تھا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ممنوعہ اوقات میں نمازِ ادا آتے ہی نماز نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ ممنوع وقت گزرنے کے بعد فوت شدہ نماز کو ادا کرنا چاہئے جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے۔ (عمدة القاری۔)12