انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا: تم رکوع اور سجدہ پورا پورا ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے) کیا کرو، خدا کی قسم (رکوع اور سجدہ
کرتے ہوئے) جس طرح میں تم کو سامنے سے دیکھتا ہوں اسی طرح اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص رکوع اور سجدے میں جلدی کرے اور ان کو اطمینان سے ادا نہ
کرے تو اس کی نماز کامل نہیں ہوئی ناقص ہوئی۔ (اس لئے کہ اس نے تعدیل ارکان نہیں کیا ہے
حالانکہ تعدیل ارکان واجب ہے۔) (اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور دارمی نے کی
ہے۔) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”حَتّٰى يُقِيمَ ظَهْرَهُ“ کے لفظی معنی پیٹھ
سیدھی کرنے کے ہیں، کوکب دری اور بذل المجهود وغیرہ نے اس سے تعدیل ارکان مراد لئے ہیں اسی
لئے ہم نے اس حدیث کے ترجمہ کو عام فہم کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ میں جلدی نہ کرنے اور ان کو
اطمینان سے ادا کرنے کے معنی اختیار کئے ہیں اور اس سے بھی تعدیل ارکان ہی مراد ہے۔
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام اور
قعدہ دونوں زیادہ طویل ہوتے تھے اس لئے کہ قیام میں قرأت ہوتی تھی، اور قعدہ میں التحیات پڑھی
جاتی تھی) اس کے سوا باقی رکوع اور سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان کا جلسہ اور رکوع کے بعد
سیدھے کھڑے ہونے کا وقت یعنی قومہ یہ چاروں تقریباً برابر برابر ہوتے تھے (اس سے معلوم ہوا کہ
جو شخص بے پروائی سے قومہ اور جلسہ کچھ ادا کیا یا نہیں ادا کیا، اطمینان سے رکوع کے بعد سیدھا کھڑا نہ
ہوا اور دونوں سجدوں کے درمیان میں اطمینان سے نہیں بیٹھا تو اس کی نماز ناقص ہوئی (جو قابل اعادہ
ہے، اس لئے کہ قومہ اور جلسہ میں رکوع اور سجدہ کی طرح تعدیل ارکان واجب ہے قومہ اور جلسہ میں
تعدیل ارکان کے وجوب کو ردالمحتار شرح وقایہ اور سعایہ نے بیان کیا ہے۔) (اس کی روایت بخاری
اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع
کے بعد ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ“ (جو اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تعریف کو سنتے
اور قبول فرما لیتے ہیں) فرما کر قومہ میں کھڑے ہوتے تو بہت دیر کھڑے رہتے، یہاں تک کہ ہم سمجھنے
لگتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جو رکعت ہو چکی ہے اس کو ترک فرما کر از سر نو قیام شروع فرماتے ہیں، پھر
سجدہ فرماتے اور اس پہلے سجدے کے بعد (جلسہ) میں، بہت دیر تک بیٹھے رہتے، یہاں تک کہ ہم سمجھنے
لگتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پڑھی ہوئی رکعت کو ترک فرما کر نماز ختم فرما رہے ہیں اب دوسرا سجدہ نہیں
کریں گے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ چوروں میں بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز چراتا ہو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا
یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اپنی نماز کس طرح چراتا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
نماز چرانا یہ ہے کہ (تعدیل ارکان نہ کر کے) رکوع اور سجدہ کو پورا پورا ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا نہ
کرے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں نماز کے چور کو مال کے چور سے اس لئے بدتر قرار دیا گیا ہے کہ
مال کا چرانے والا بسا اوقات چوری سے دنیاوی فائدہ حاصل کر لیتا ہے پھر صاحب مال سے یا درگذر
کروا لیتا ہے یا اگر سزا میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ عذاب اخروی سے نجات پا لیتا ہے، اس کے
برخلاف نماز کا چور نماز کی وجہ سے جس ثواب کا مستحق ہو سکتا تھا اس سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ ثواب کے
بجائے عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے اس طرح آخرت میں سوائے نقصان اور عذاب کے کچھ بھی اس کے
ہاتھ نہیں آتا۔ (یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)
نعمان مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ
کرام سے دریافت فرمایا کہ شرابی، زانی اور چور کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اور یہ اس وقت کی بات
ہے جب کہ حدود کی آیتیں ابھی نازل نہیں ہوئی تھیں، صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی
اللہ علیہ وسلم خوب جانتے ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ گناہ کی باتیں ہیں اور ان میں
بڑی بڑی سزائیں ہیں، اور بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز چراتا ہو، صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نماز چرانا کیا بات ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز چرانا یہ ہے کہ تعدیل
ارکان نہ کر کے نماز میں رکوع اور سجدہ کو پورا پورا ٹھہر ٹھہر کر اطمینان سے ادا نہ کرے۔
(اس کی روایت امام مالک اور امام احمد نے کی ہے اور دارمی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے)
شقیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے
دیکھا کہ ایک شخص تعدیل ارکان کئے بغیر رکوع اور سجدے کو پورے پورے طور پر ٹھہر ٹھہر کر اطمینان
سے ادا نہیں کر رہا ہے، جب اس شخص نے نماز ختم کی تو حضرت حذیفہ نے اس کو بلا لیا اور اس سے فرمایا
کہ تمہاری نماز نہیں ہوئی شقیق کہتے ہیں میرا گمان ہے کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے
یہ بھی فرمایا کہ اگر تم بغیر تعدیل ارکان کئے ہوئے اسی طرح نماز پڑھتے رہو گے (اور بغیر توبہ کئے) اسی
حالت پر مر جاؤ گے تو اس دین پر نہ مرو گے کہ جس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا
فرمایا ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
طلق بن علی حنفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بندہ کی نماز کو قبول نہیں فرماتے جو تعدیل ارکان نہ کر کے نماز کے رکوع
اور سجدہ میں جلدی کرے اور ان کو اطمینان سے ادا نہ کرے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا خوب سن لو کہ رکوع یا سجدہ کی حالت میں مجھے قرآن پڑھنے کی ممانعت ہوگئی ہے
پس رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم کہہ کر خدا کی پاکی اور اس کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدہ میں سُبْحَانَ
رَبِّيَ الْأَعْلَى کہہ کر خوب عاجزی سے دعا و حمد و ثناء کیا کرو اس لئے کہ سجدہ میں جو دعا و حمد و ثناء کی جاتی
ہے وہ ضرور قبول کر لی جاتی ہے (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 479a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ“ سجدہ
میں خوب دعا کیا کرو، یہاں لفظ ”الدعاء“ کے معنی دعا، حمد و ثناء کے کئے گئے ہیں اس لئے کہ دعا کی
دو قسمیں ہیں ایک دعا، حمد و ثناء اور دوسری دعا، طلب سوال، دعا، حمد و ثناء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی اور
شان عالی بیان کی جائے مثلاً ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ کہنا اور دعا طلب سوال یہ ہے کہ خارج نماز
اپنے مقاصد اور ضرورتیں اللہ تعالیٰ سے مانگی جائیں۔ (یہ مضمون اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم حکم قرآنی ”فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ“ (تم اپنے پروردگار کی حمد و ثناء
کے ساتھ اس کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہوجاؤ اور اس سے گناہوں کی معافی چاہو) کی تعمیل کرتے
ہوئے رکوع اور سجدے میں بہت زیادہ مرتبہ یہ دعاء پڑھا کرتے تھے۔
”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ“ اے اللہ آپ پاک ہیں، اے
ہمارے پروردگار، ہم آپ کی تعریف کرتے ہیں، اے اللہ میرے گناہوں کو معاف فرما دیجئے۔ (اس کی
روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور
سجدہ میں یہ تسبیح پڑھا کرتے تھے، سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ (آپ کی ذات
مبارکہ پاک ہے اور آپ کے صفات عالیہ بھی پاک ہیں، آپ فرشتوں کے رب ہیں اور حضرت
جبرئیل علیہ السلام کے بھی رب ہیں۔) (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز (کسوف) پڑھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کے بعد
رکوع فرمایا تو آپ نے رکوع میں: ”سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ“
(پاک ہیں وہ جو زبردست اور سب پر غالب ہیں اور جو قادر مطلق اور سارے عالم کا انتظام کرنے والے
ہیں اور آسمان و زمین میں بڑائی اور عظمت ان ہی کی ہے) کی تکرار کرتے ہوئے اتنی دیر ٹھہرے رہے جس
میں سورۂ بقرہ اول سے لے کر آخر تک پڑھا جا سکتا ہو۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب
آیت ”فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ“ (اپنے عظمت والے پروردگار کے نام کی تسبیح و تقدیس
بیان کرتے رہو) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس کو اپنے رکوع کی تسبیح
مقرر کرلو، اور جب آیت ”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى“ (اپنے پروردگار عالیشان کی تسبیح و تقدیس
کیا کرتے رہو) نازل ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس کو اپنے سجدے کو تسبیح
مقرر کرلو (یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ (میرا عظمت والا پروردگار پاک ہے) اور سجدے
میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى (میرا عالی شان پروردگار پاک ہے) پڑھا کرو۔ (اس کی روایت ترمذی،
ابوداؤد، ابن ماجہ، طحاوی اور دارمی نے کی ہے)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوا کہ جب یہ آیتیں
”فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى نازل ہوئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کو رکوع میں اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کو سجدہ میں مقرر کرلو۔
اور اس حدیث سے پہلے والی حدیثوں میں جو مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ
میں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ اور سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ
اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي“ پڑھا کرتے تھے تو اس قسم کی دعاؤں کے بارے میں درمختار میں لکھا ہے کہ یہ نفل
نمازوں سے متعلق ہیں کہ ان کو نفل نمازوں کے رکوع اور سجدوں میں پڑھا جا سکتا ہے جیسا کہ حلبی کا قول
ہے کہ نفل نمازوں میں اس قسم کی وسعت ہے کہ ان کے رکوع میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ“ کے بعد
اور سجدہ میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ کے بعد ان مذکورہ دعاؤں کو پڑھا جا سکتا ہے البتہ فرض نمازوں
کے رکوعوں میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ اور سجدوں میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کے علاوہ کوئی اور
دعائیں یا تسبیحات نہ پڑھی جائیں۔
عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اٹھتے ہوئے یہ فرماتے تھے، ”سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، اللّٰهُمَّ رَبَّنَا
کی تعریف کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی تعریف کو سنتے اور قبول فرماتے ہیں، اے اللہ اے ہمارے
پروردگار آپ ہی کے لئے تعریف ہے آسمانوں بھر کر اور زمین بھر کر اور ان دونوں کے سوا جو چیزیں ہیں
اور جو چیزیں آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ سب بھر کر۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر مبارک کو اٹھاتے تو یہ دعاء پڑھتے ”اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ
ذَاالْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ“ اے اللہ اے ہمارے پروردگار آپ ہی کے لئے تعریف ہے آسمانوں بھر کر
اور زمین بھر کر اور ان دونوں کے سوا جو چیزیں ہیں اور جو چیزیں آپ پیدا کرنا چاہتے ہیں وہ سب بھر
کر، اے وہ مبارک ذات جو تعریف اور عظمت کے لائق ہے آپ ہی اس تعریف سے بڑھ کر تعریف
کے مستحق ہیں، جس کو ایک بندہ کر سکتا ہے اور ہم سب آپ ہی کے بندے ہیں، اے اللہ جس چیز کو
آپ دینا چاہیں اس کا کوئی روکنے والا نہیں اور جس چیز کو آپ روکنا چاہیں اس کا کوئی دینے والا
نہیں، اگر آپ کسی کو عذاب دینا چاہیں تو اس کا مال اور دولت اور سب اس کو آپ کے عذاب سے نہیں
بچا سکتے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 477a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں رکوع سے سر اٹھاتے وقت ”اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کے سوا جن
دعاؤں کا ذکر ہے یہ اور اس قسم کی دعاؤں کے بارے میں رد محتار میں لکھا ہے کہ ایسی دعائیں نفل نمازوں
میں پڑھی جا سکتی ہیں، اس لئے کہ نوافل میں اس طرح کی گنجائش ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام جب سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو تم اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کہو،
کیوں کہ جس کا یہ قول فرشتوں کے قول کے موافق ہوجائے تو اس کے صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف
ہوجاتے ہیں۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں اور نسائی کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ
جب امام سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہے تو تم اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ کہو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 796 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 409a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امام
کے لئے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور مقتدی کے لئے اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کا کہنا مقرر فرما دیا
ہے اور چونکہ اس حدیث میں سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کی تقسیم امام اور
مقتدی کے درمیان کر دی گئی ہے اس لئے مقتدی سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ نہ کہے اور اسی طرح امام
اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ نہ کہے۔ (یہ ہدایہ اور بنایہ میں مذکور ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب تنہا
نماز پڑھتے) تو سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے ہوئے (رکوع سے سر اٹھاتے تھے) اور قومہ
میں رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فرماتے۔ (اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور بخاری کی ایک روایت میں اور اسی طرح مسلم کی ایک روایت میں ابوہریرہ
رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جب تنہا نماز پڑھتے تو) رکوع سے سر اٹھاتے
ہوئے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور قومہ میں رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ فرماتے تھے۔
عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے
روایت کرتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
جب تم میں سے کسی نے رکوع کیا اور اس میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ تین مرتبہ کہا تو اس کا رکوع پورا ہو گیا
اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہے اور جب کسی نے سجدہ کیا اور سجدہ میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى تین بار کہا تو اس کا
سجدہ پورا ہو گیا، اور یہ اس کا ادنیٰ درجہ ہے۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابن جُبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک
رضی اللہ عنہ سے سنا ہے وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں سوائے اس نوجوان
یعنی عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے کسی اور کے پیچھے ایسی نماز نہیں پڑھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتی ہو، راوی کہتے ہیں کہ ہم نے ان کے رکوع کے تسبیحات کا اندازہ کیا تو
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمِ دس بار پڑھ رہے ہیں، اور اسی طرح ہم نے ان کے
سجدہ کی تسبیحات کا اندازہ کیا تو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلٰى بھی دس بار پڑھ رہے
ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رکوع اور سجدے میں تسبیحات کو تین بار سے زیادہ پڑھنا
مستحب ہے تین بار سے زیادہ جو تسبیحات پڑھی جائیں گی ان کو طاق عدد یعنی (5) یا (7) یا (9) یا
(11) مرتبہ پر ختم کرنا ضروری ہے جیسا کہ حدیث اِنَّ اللّٰهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ (اللہ تعالیٰ تنہا ہے اور
طاق عدد کو پسند فرماتا ہے) سے اس کی تائید ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ
میں تسبیحات کو طاق عدد پر ختم فرماتے تھے۔
واضح رہے کہ ابن جبیر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جو دس دس مرتبہ تسبیحات کا ذکر ہے اس
سے یہ نہ سمجھا جائے کہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ درحقیقت رکوع اور سجدہ میں دس دس بار تسبیحات پڑھا
کرتے تھے یہ صرف راوی کا اپنا اندازہ ہے لہذا ثابت ہوا کہ تسبیحات رکوع اور سجدہ کو تین سے بڑھانا اور
طاق عدد میں ختم کرنا مستحب ہے۔ (یہ ہدایہ اور سعایہ سے ماخوذ ہے)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”حَتّٰى يُقِيمَ ظَهْرَهُ“ کے لفظی معنی پیٹھ سیدھی کرنے کے ہیں، کوکب دری اور بذل المجهود وغیرہ نے اس سے تعدیل ارکان مراد لئے ہیں اسی لئے ہم نے اس حدیث کے ترجمہ کو عام فہم کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ میں جلدی نہ کرنے اور ان کو اطمینان سے ادا کرنے کے معنی اختیار کئے ہیں اور اس سے بھی تعدیل ارکان ہی مراد ہے۔