Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”حَتّٰى يُقِيمَ ظَهْرَهُ“ کے لفظی معنی پیٹھ
سیدھی کرنے کے ہیں، کوکب دری اور بذل المجهود وغیرہ نے اس سے تعدیل ارکان مراد لئے ہیں اسی
لئے ہم نے اس حدیث کے ترجمہ کو عام فہم کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ میں جلدی نہ کرنے اور ان کو
اطمینان سے ادا کرنے کے معنی اختیار کئے ہیں اور اس سے بھی تعدیل ارکان ہی مراد ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں نماز کے چور کو مال کے چور سے اس لئے بدتر قرار دیا گیا ہے کہ
مال کا چرانے والا بسا اوقات چوری سے دنیاوی فائدہ حاصل کر لیتا ہے پھر صاحب مال سے یا درگذر
کروا لیتا ہے یا اگر سزا میں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو وہ عذاب اخروی سے نجات پا لیتا ہے، اس کے
برخلاف نماز کا چور نماز کی وجہ سے جس ثواب کا مستحق ہو سکتا تھا اس سے محروم ہو جاتا ہے بلکہ ثواب کے
بجائے عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے اس طرح آخرت میں سوائے نقصان اور عذاب کے کچھ بھی اس کے
ہاتھ نہیں آتا۔ (یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 479a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ“ سجدہ
میں خوب دعا کیا کرو، یہاں لفظ ”الدعاء“ کے معنی دعا، حمد و ثناء کے کئے گئے ہیں اس لئے کہ دعا کی
دو قسمیں ہیں ایک دعا، حمد و ثناء اور دوسری دعا، طلب سوال، دعا، حمد و ثناء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پاکی اور
شان عالی بیان کی جائے مثلاً ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ کہنا اور دعا طلب سوال یہ ہے کہ خارج نماز
اپنے مقاصد اور ضرورتیں اللہ تعالیٰ سے مانگی جائیں۔ (یہ مضمون اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہوا کہ جب یہ آیتیں
”فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى نازل ہوئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ کو رکوع میں اور سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کو سجدہ میں مقرر کرلو۔
اور اس حدیث سے پہلے والی حدیثوں میں جو مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ
میں ”سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ اور سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ
اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِي“ پڑھا کرتے تھے تو اس قسم کی دعاؤں کے بارے میں درمختار میں لکھا ہے کہ یہ نفل
نمازوں سے متعلق ہیں کہ ان کو نفل نمازوں کے رکوع اور سجدوں میں پڑھا جا سکتا ہے جیسا کہ حلبی کا قول
ہے کہ نفل نمازوں میں اس قسم کی وسعت ہے کہ ان کے رکوع میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ“ کے بعد
اور سجدہ میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى“ کے بعد ان مذکورہ دعاؤں کو پڑھا جا سکتا ہے البتہ فرض نمازوں
کے رکوعوں میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ اور سجدوں میں سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى کے علاوہ کوئی اور
دعائیں یا تسبیحات نہ پڑھی جائیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 477a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں رکوع سے سر اٹھاتے وقت ”اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کے سوا جن
دعاؤں کا ذکر ہے یہ اور اس قسم کی دعاؤں کے بارے میں رد محتار میں لکھا ہے کہ ایسی دعائیں نفل نمازوں
میں پڑھی جا سکتی ہیں، اس لئے کہ نوافل میں اس طرح کی گنجائش ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 796 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 409a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امام
کے لئے سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور مقتدی کے لئے اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کا کہنا مقرر فرما دیا
ہے اور چونکہ اس حدیث میں سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ اور اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ کی تقسیم امام اور
مقتدی کے درمیان کر دی گئی ہے اس لئے مقتدی سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ نہ کہے اور اسی طرح امام
اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ نہ کہے۔ (یہ ہدایہ اور بنایہ میں مذکور ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رکوع اور سجدے میں تسبیحات کو تین بار سے زیادہ پڑھنا
مستحب ہے تین بار سے زیادہ جو تسبیحات پڑھی جائیں گی ان کو طاق عدد یعنی (5) یا (7) یا (9) یا
(11) مرتبہ پر ختم کرنا ضروری ہے جیسا کہ حدیث اِنَّ اللّٰهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ (اللہ تعالیٰ تنہا ہے اور
طاق عدد کو پسند فرماتا ہے) سے اس کی تائید ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ
میں تسبیحات کو طاق عدد پر ختم فرماتے تھے۔
واضح رہے کہ ابن جبیر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جو دس دس مرتبہ تسبیحات کا ذکر ہے اس
سے یہ نہ سمجھا جائے کہ عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ درحقیقت رکوع اور سجدہ میں دس دس بار تسبیحات پڑھا
کرتے تھے یہ صرف راوی کا اپنا اندازہ ہے لہذا ثابت ہوا کہ تسبیحات رکوع اور سجدہ کو تین سے بڑھانا اور
طاق عدد میں ختم کرنا مستحب ہے۔ (یہ ہدایہ اور سعایہ سے ماخوذ ہے)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ”حَتّٰى يُقِيمَ ظَهْرَهُ“ کے لفظی معنی پیٹھ سیدھی کرنے کے ہیں، کوکب دری اور بذل المجهود وغیرہ نے اس سے تعدیل ارکان مراد لئے ہیں اسی لئے ہم نے اس حدیث کے ترجمہ کو عام فہم کرنے کے لئے رکوع اور سجدہ میں جلدی نہ کرنے اور ان کو اطمینان سے ادا کرنے کے معنی اختیار کئے ہیں اور اس سے بھی تعدیل ارکان ہی مراد ہے۔