ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات فرماتے ہیں
کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے جمعہ کے دن غسل کیا، اور
اس کے پاس جو کپڑے ہیں، اور ان میں سے جو اچھے کپڑے ہیں (اور جو شریعت میں ناجائز نہیں
ہیں) وہ پہنا اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو اس کو لگایا پھر نماز جمعہ کے لئے مسجد میں آیا، اور (مسجد میں)
لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے نہیں گزرا (بلکہ جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا) پھر جو نماز اس کو
پڑھنا ہے پڑھا اور پھر جب امام خطبہ کے لئے اٹھا تو اس وقت سے نماز ختم کرنے تک خاموش رہا تو
ایسے شخص کے وہ سب گناہ جو گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک ہوئے ہیں وہ سب بخش دئے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور امام طحاوی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ ابوداؤد
اور امام طحاوی کی روایت میں مذکور الصدر الفاظ تھے۔)
اور امام احمد کی روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جب مسجد میں آیا تو کسی کو ایذا نہ دیا
(جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ گیا اور دیکھا کہ) امام ابھی خطبہ کے لئے نہیں نکلا ہے تو جو نماز اس کو پڑھنا
ہے پڑھ لیا، اور اگر دیکھا کہ امام خطبہ دینے کے لئے نکل چکا ہے تو (بغیر کوئی نماز پڑھے کے اپنی جگہ
) بیٹھ گیا اور خطبہ سنتا رہا، (اگر اس کو ایسی جگہ ملی کہ وہاں اس کو امام کے خطبہ کی آواز نہیں پہنچ رہی
ہے تو) خاموش رہا (اس کا خاموش رہنا بھی خطبہ سننے کے حکم میں ہیں) یہاں تک کہ امام نے خطبہ اور
نماز ختم کر لی۔ (اس حدیث کے راوی صحیح کے راوی ہے۔)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نماز جمعہ کے لئے (مسجد میں) آنے والے تین طرح کے ہوتے
ہیں، ایک تو ایسا شخص ہے کہ (خطبہ ہو رہا ہے) لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتا ہوا ایذا دیتا ہوا آ رہا
ہے، پھر بیٹھا بھی ہے تو کچھ باتیں کر رہا ہے یا اشارہ کر رہا ہے، ایسے شخص کو جمعہ سے کوئی حصہ نہیں۔
دوسرا شخص ایسا ہے کہ (خطبہ ہو رہا ہے تو وہ لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے نہیں آیا اور نہ کسی کو
ایذا دیا، مگر یہ سمجھ کر کہ یہ دعاء کی قبولیت کا وقت ہے (زبان سے) دعاء کر رہا ہے (دل میں دعا کا
خیال رہنا کافی تھا یہ زبان سے دعاء میں مشغول رہنے کی وجہ سے خطبہ برابر نہیں سن رہا ہے، اس وجہ
سے اس کو بھی جمعہ کا ثواب نہیں ملے گا۔ اب رہی دعاء تو اللہ کو اس کا اختیار ہے کہ چاہے قبول کرے یا
نہ کرے۔ تیسرا شخص وہ ہے کہ خطبہ سے پہلے حاضر ہو کر بغیر کسی کو ایذا دئے ہوئے بیٹھا ہے یا خطبہ
کے وقت آیا تو کسی کو ایذا نہیں دیا، جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گیا، اور بہت توجہ سے خطبہ سن رہا ہے تو یہ
شخص جمعہ کی غرض پوری کر رہا ہے اسی کو یہ صلہ ملے گا کہ اس جمعہ سے لے کر گزشتہ جمعہ تک کے اس
کے تمام گناہ معاف ہو جائیں گے، چونکہ اس کو اللہ کی رضامندی مقصود تھی اور کوئی غرض نہ تھی اس لئے
نیکیوں کے ثواب کا اللہ تعالیٰ کے پاس جو قاعدہ مقرر ہے کہ ایک نیکی کو دس گنا کر کے دیتے ہیں، اس
لئے (7) دن کے سوا اور تین دن کے گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ (جمعہ کے دن جہاں تک ہو سکے جلد مسجد پہنچے)
اگر کوئی (اتفاق سے) ایسے وقت آیا کہ امام منبر پر بیٹھا ہے (اور خطبہ شروع کرنا چاہتا ہے) تو اس کو
چاہئے کہ امام کے خطبہ سے فارغ ہونے تک (خاموش بیٹھا رہے) اور دونوں خطبوں کے وقت)
کوئی نماز نہ پڑھے اور نہ کوئی کلام کرے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
ف: درمختار میں لکھا ہے کہ جب امام خطبہ شروع کر دے تو حاضرین کو اس کا سننا واجب ہے
خواہ امام کے نزدیک بیٹھے ہوں یا دور اور کوئی ایسا فعل کرنا جو خطبہ سننے میں مخل ہو مکروہ تحریمی ہے، اور کھانا
پینا، بات چیت کرنا، چلنا، پھرنا، سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا، سبحان اللہ یا اسی قسم کا کوئی اور وظیفہ پڑھنا،
یا کسی کو شرعی مسئلہ بتانا، یا اگر کوئی باتیں کر رہا ہو تو اس کو خاموش رہو کہنا۔ یہ سب چیزیں جیسا کہ حالت نماز
میں ممنوع ہیں، ویسا ہی شروع خطبہ سے لے کر دونوں خطبوں کے ختم ہونے تک ممنوع ہیں)۔
حضرت علی، حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی گئی
ہے کہ خطیب (جس مصلی پر بیٹھا ہے) خطبہ دینے کے لئے جب اپنے مصلی سے اٹھے (تو اس وقت
سے دونوں خطبوں کے ختم ہونے تک) کسی نماز کے پڑھنے یا کلام کرنے کو یہ سب حضرات مکروہ
(تحریمی) سمجھتے تھے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
اور امام طحاوی نے بھی ابن عمر اور ابن عباس رضی اللہ عنہم سے اسی طرح روایت کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایسا شخص (جس کو معلوم ہے کہ جمعہ کے دونوں خطبوں کے وقت کلام
کرنا مکروہ تحریمی ہے باوجود اس کے پھر وہ) ایسے وقت کہ جمعہ کا خطبہ ہو رہا ہو، کوئی کلام کرے تو اس
کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس پر مسائل کی کتابیں لدی ہوئی ہوں (کہ اس گدھے کو ان
کتابوں سے کوئی فائدہ نہیں (ایسا ہی وہ شخص ہے جو مسئلے کے واقف ہونے کے باوجود پھر کلام کرے
تو اس مسئلے کے واقف ہونے سے اس کو کوئی فائدہ نہیں) اور اگر کسی نے خطبہ کی حالت میں باتیں
کرنے والے کو (زبان سے کہا) چپ رہو، تو یہ چپ رہو کہنے والے کو جمعہ کا ثواب نہیں ملے گا۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Candidate: Musnad Ahmad 2033 (unverified) 40% confidence
Mishkat (candidate) 1393
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(شروع اسلام میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی مسجد میں جمع ہوتی تھیں، ایسے موقع پر کوئی
شخص آنکھوں کو روک سکتا ہے) مگر دل کا روکنا اس کے قابو سے باہر ہے، نماز میں کھڑا ہے بے اختیار
عورت کا خیال آ رہا ہے، جب اگر بیوی سے جماع کر لے تو شہوت کے وساوس اور خطرات دل سے
سب نکل جاتے ہیں، اور یکسوئی دل میں پیدا ہوتی ہے، اس یکسوئی کے حاصل کرنے ارشاد ہو رہا ہے
کہ جمعہ کی تیاری میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیوی سے جماع کر لے تا کہ شہوت کے خیالات دل سے
نکل جائیں، دل سب خطرات سے پاک ہو جائے اس لئے)۔
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے جمعہ کے دن بیوی سے جماع کر کے خود بھی غسل کیا اور بیوی
کو بھی غسل کرلیا (اور سارے خطرات شہوت سے پاک دل لے کر) مسجد کی طرف چلا، اور بہت
سویرے مسجد میں پہنچ گیا تا کہ خطبہ ابتدا ہی سے اس کو مل سکے (عذر سے اگر سوار ہو کر جائے تو وہ
اور بات ہے، بغیر عذر کے سواری میں جانے سے غرور اور نخوت پیدا ہوتی ہے، اس سے بھی دل کو
پاک و صاف کرنے کے لئے ارشاد ہو رہا ہے کہ) مسجد کو پیدل جائے اور سوار نہ جائے اور امام سے
قریب بیٹھے۔ (اول وقت جانے کی وجہ سے قریب جگہ مل گئی) اور خطبہ کو بہت دل لگا کر غور سے سنے
اور کوئی ایسی حرکت نہ کرے کہ جس سے خطبہ کا ثواب ضائع جائے تو ایسے شخص کو اس کے ہر ہر قدم
کے بدلے ایک سال کے روزے اور ایک سال کی شب بیداری کا ثواب ملے گا (یہ ہے خدا کی دین،
وہ بڑے قدردان ہیں، تھوڑی سی عبادت پر بہت بڑا ثواب دیتے ہیں)۔
(اس حدیث کی روایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
عبید بن سباق تابعی رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ کو یہ حدیث اس طرح پہنچی ہے
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جمعہ میں ارشاد فرمائے: مسلمانو! (جمعہ کا دن بڑا عظمت والا
دن ہے) اللہ تعالیٰ نے اس دن کو مسلمانوں کے لئے عید بنایا ہے (عید کے دن تم غسل کیا کرتے ہو،
جمعہ بھی عید کا دن ہے) جمعہ کے دن بھی غسل کیا کرو، اگر کسی کے پاس خوشبو موجود ہو تو اس کو چاہئے
کہ خوشبو لگالے اور تم اس دن ضرور مسواک کیا کرو (تا کہ اس سے منہ کی بو باقی نہ رہے، اور طہارت
کامل ہو جائے)۔ (اس حدیث کی روایت امام مالک نے کی ہے۔)
اور ابن ماجہ نے بھی عبید بن سباق کے واسطے سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے
روایت کی ہے اور حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا
ہی سنا ہے۔
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جمعہ کا غسل ثابت ہے یعنی ہر مسلمان کے لئے مشروع ہے (جمعہ کے دن نماز جمعہ
کے لئے غسل کرے کہ یہ مستحب ہے) (غیروں سے خوشبو مانگنے کی ضرورت نہیں، اپنے پاس یا) اپنے گھر
والوں کے پاس خوشبو ہی ہو تو اس کو لگا لیوے، اگر خوشبو نہ پائے تو اس کے لئے پانی ہی خوشبو ہے (یعنی
غسل کرنا ہی خوشبو کے برابر ہے کہ اس سے خوشبو کا مقصد ایک حد تک پورا ہو جائے گا کیونکہ پانی سے میل
کچیل اور جسم کی بدبو اور پسینہ دور ہو جاتا ہے)۔ (اس حدیث کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (اگرچہ غسل کرنا جمعہ کے دن مستحب تھا، کسی وجہ سے نہ کر سکا تو خیر) وضو ہی
کر لے (وہی کافی ہے) اور وضو کو (گھر ہی سے) مستحبات اور سنن کی پابندی کے ساتھ کیا، پھر جمعہ
کے لئے مسجد (اول وقت) آیا اور (امام کے نزدیک ہو کر بیٹھا) غور سے اور خاموشی کے ساتھ خطبہ
سنتا رہا تو اس کو یہ صلہ ملے گا کہ اس جمعہ سے لے کر گزشتہ جمعہ تک کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ اور تین دن کے گناہ بھی معاف کر دے جائیں گے) اور جو (خطبہ کی حالت میں
بجائے دل لگا کر خطبہ سننے کے) کنکریاں الٹ پلٹ کرتا رہا تو اس نے لغو فعل کیا (اور اس لغو فعل کی
وجہ سے اس کو خطبہ کا کامل ثواب نہیں ملے گا)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب جمعہ کا دن ہوتا ہے تو فرشتے (جامع) مسجد کے ہر دروازہ پر صبح ہی
سے ٹھہرتے ہیں اور ترتیب وار ہر آنے والے کا نام لکھتے رہتے ہیں، جمعہ کے دن سویرے اول وقت
جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان میں سے ہر ایک کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ مکہ معظّمہ کو قربانی کے
لئے اونٹ بھیجنے والے کو ملتا ہے اس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب
کہ مکہ معظّمہ کو قربانی کے لئے گائے بھیجنے والے کو ملتا ہے اس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ
ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ مکہ معظّمہ میں قربانی کے لئے مینڈھا بھیجنے والے کو ملتا ہے اور اس کے بعد جو
لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ مکہ معظّمہ میں خیرات کے لئے مرغ بھیجنے
والے کو ملتا ہے، اور اس کے بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کو وہ ثواب ملتا ہے جو ثواب کہ مکہ معظّمہ
میں خیرات کے لئے انڈا بھیجنے والے کو ملتا ہے (اسی طرح یہ ثواب بڑھتا رہتا ہے) یہاں تک کہ خطیب
خطبۂ جمعہ کے لئے اٹھتا ہے تو فرشتے اپنے دفتر کو لپیٹ لیتے ہیں (یعنی امام خطبہ کے لئے اٹھنے کے
بعد جو لوگ مسجد میں آتے ہیں ان کا نام فرشتے فہرستوں میں لکھنا بند کر دیتے ہیں) اور فرشتے خطبہ
سننے (کے لئے مسجد میں آ جاتے ہیں اور خطبہ سننے) میں لگ جاتے ہیں۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی شخص جمعہ کے دن اپنے بھائی کو خود اس کی جگہ بیٹھنے کے لئے ہرگز اس کی
جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ یہ کہے کہ ذرا ذرا ہٹ کر مجھے بھی جگہ دو۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ
عنہما کو یہ فرماتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 911 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2177a (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس کی جگہ بیٹھنے سے منع فرمایا ہے، نافع سے دریافت کیا گیا کہ کیا یہ ممانعت صرف جمعہ کے لئے
ہے؟ تو حضرت نافع جواب دیتے نہیں، یہ ممانعت جمعہ کے لئے بھی ہے اور جمعہ کے سوا دوسری
نمازوں کے لئے بھی ہے (ہاں) اگر کوئی شخص ایثار کے طور پر خود اٹھ کر دوسرے کو اپنی جگہ بٹھائے تو
اس شخص کا بیٹھنا جائز ہے۔ (درالمختار میں ایسا ہی لکھا ہے اور مرقات میں لکھا ہے کہ کسی کو اس کی
مرضی کے خلاف جگہ سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جانا حرام اور ناجائز ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
عبداللہ بن سلّام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم میں سے کسی کو گنجائش ہے تو وہ اپنے روزانہ استعمال
کے کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے لئے ایک جوڑا (خاص) بنائے رکھے۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
اور امام مالک نے اس کی روایت یحییٰ بن سعید سے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1095 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں جمعہ کے لئے ایک خاص جوڑا بنائے رکھنے کا جو حکم ہے اس کا
مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی عزت کرے، اور مقدور کے موافق صاف ستھرے عمدہ کپڑے پہنے، جیسے کوئی
دربار میں جاتا ہے تو کس اہتمام اور شان سے جاتا ہے غرض جمعہ کے دن ایک خاص جوڑا بنائے
رکھے اور جمعہ کے دن اس کو پہنا کرے (مرقات)12
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (جمعہ کے دن مسجد میں اوّل وقت آیا کرو صف اوّل میں بیٹھا
کرو) جہاں تک ہو سکے (بغیر کسی کو ایذا دئے) امام سے قریب رہا کرو (تاکہ تم آسانی سے خطبہ سن سکو)
(بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ وسیع جگہ ملنے کے لئے امام سے دور رہا کرتے ہیں۔ ان کو یاد رکھنا چاہئے
کہ وہ جنت میں داخل تو ہوں گے مگر جنت کے جانے میں ان کو پیچھے رکھا جائے گا، ایسا ہی جنت کے
مراتب و درجات کے دینے میں بھی ان کو پیچھے ہی رکھا جائے گا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جب امام کھڑا
ہوا (جمعہ کا) خطبہ دے رہا ہو، ایسے وقت کوئی شخص آیا اور لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے
چلا۔ ایسا شخص گھر ہی میں بیٹھے رہتا تو اچھا ہوتا (کہ وہ خطبہ کے وقت گردنوں پر سے پھلانگنے کے ناجائز
عمل کا مرتکب نہ ہوتا، جب وہ دیر سے آیا تھا تو پھلانگتے ہوئے آگے جانے کے بجائے اس کو چاہئے تھا
کہ گرم پتھروں پر ہی بیٹھتا اور وہیں نماز پڑھتا)۔ اس کے لئے گرم پتھروں پر ہی نماز پڑھ لینا لوگوں کی
گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے آگے جانے سے بہتر تھا۔ (اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے۔)
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صاحب جمعہ کے دن مسجد
میں ایسے وقت آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، وہ صاحب لوگوں
کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے آگے بڑھنے لگے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان
سے فرمایا:! وہیں بیٹھ جاؤ (کیا جمعہ کے لئے آنے کا یہ وقت ہے) تم بہت دیر کر کے آئے ہو
(خطبہ شروع ہونے کے بعد بغیر ایذاء (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12) دینے کے
بھی پھلانگ کر آنا ناجائز ہے) تم تو ایذاء دیتے ہوئے پھلانگ کر آ رہے ہو۔ (یہ تو بہت ہی برا ہے،
یوں بھی خطبہ شروع ہونے کے بعد کوئی عمل ہو، ناجائز ہے، پھلانگ کر آنا بھی عمل ہے اس طرح سے
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1115 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
بھی تم ناجائز کام کر رہے ہو۔ ہاں خطبہ شروع ہونے کے پہلے بغیر کسی کو ایذاء دیئے کہ اگلی صفوں میں
خالی جگہ کو پُر کرنے کے لئے پھلانگتے ہوئے جانے میں مضائقہ نہیں، مگر اس کا اندازہ کرنا کہ پھلانگتے
ہوئے جانا بغیر ایذاء دیئے کے ہے بہت مشکل ہے، اس لئے پھلانگ کر نہ جائیں بھی تو اچھا
ہے) (جیسا کہ درمختار اور ردالمحتار میں مذکور ہے۔12)۔ (اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
أَبُو زَاهِرِيَّةَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جمعہ کے دن صحابی
رسول عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (وہ ہم کو احادیث سنا رہے تھے) ایک
شخص لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے ہمارے پاس آ رہا تھا اس کو دیکھ کر عبداللہ بن بسر
فرمانے (مجلسوں میں بغیر ایذاء دیئے کے پھلانگتے ہوئے اگر کوئی آئے تو یہ جائز ہے، اگر ایذاء
دیتے ہوئے پھلانگ کر آئے تو ناجائز ہے، ان صاحب کے پھلانگتے ہوئے آنے پر مجھے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ یاد آیا) ایک وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے
رہے تھے، ایک صاحب ایسا ہی گردنوں پر سے پھلانگتے ہوئے آ رہے تھے ان کو دیکھ کر رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے (کہ خطبہ کی حالت میں تمہارا پھلانگتا ہوا آنا ہی ناجائز ہے، پھر ایذاء دیتے
ہوئے پھلانگ کر آنا اور بھی برا ہے اس لئے) تم جہاں جگہ ملی وہیں بیٹھ جاؤ۔ تمہارے پھلانگ کر
آنے سے لوگوں کو ایذاء پہنچی ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
اور امام احمد کی روایت میں اس طرح مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
ارشاد فرمایا کہ جب امام اپنی جگہ سے اٹھ کر جمعہ کا خطبہ دینے کے لئے جا رہا ہو، اس وقت اگر کوئی شخص
لوگوں کی گردنوں پر سے پھلانگتا ہوا جائے اور (صف میں بیٹھے ہوئے) دو شخصوں کو چیرتے ہوئے
چلے تو اس کو کچھ خبر ہے کہ وہ کیسے عذاب کا مستحق ہو رہا ہے، یاد رکھو کہ مکہ معظمہ میں جو شخص بت پرستی کا
آغاز کیا تھا، وہ دوزخ میں اپنی آنتیں کھینچتا ہوا جیسے سزا پائے گا ویسے ہی یہ شخص بھی جو گردنوں پر سے
پھلانگتے ہوئے ایذا دیتے ہوئے جاتا ہے اسی طرح کی سزا پائے گا۔
اور طبرانی کی ایک روایت میں امام احمد کی صدر کی روایت کی طرح مذکور ہے
مگر طبرانی کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں کہ (ایک شخص خطبہ کی حالت میں لوگوں کی گردنوں پر
سے پھلانگتا ہوا گزر رہا تھا، اس کو دیکھ کر حضور نے ارشاد فرمایا) میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگوں کی گردنوں
پر سے پھلانگتے ہوئے ایذا دیتے ہوئے جا رہے ہو تم اس کو معمولی بات سمجھ رہے ہو، (ایسا نہیں ہے
تم مسلمانوں کو جو ایذا دیتے ہوئے جا رہے ہو) سنو کہ جو مسلمانوں کو ایذا دیتا ہے سمجھو کہ وہ مجھے
ایذا دے رہا ہے اور جو مجھے ایذا دیتا ہے تو اس کو سمجھنا چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو ایذا دے رہا ہے
(اور جو اللہ کو ایذا دیتا ہے اس کا کیا انجام ہوگا تم کو معلوم ہے)۔
یعلی بن شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں معاویہ
رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیت المقدس حاضر ہوا حضرت معاویہ نے ہم کو نماز جمعہ پڑھائی، میں نے دیکھا کہ
مسجد میں جتنے لوگ ہیں ان میں سب سے بڑی تعداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام کی ہے،
میں نے دیکھا کہ امام خطبہ دے رہے تھے اور وہاں جتنے صحابہ کرام موجود تھے وہ سب احتباء کئے ہوئے
بیٹھے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ عبداللہ بن عمر، انس بن مالک، شریح، صعصعہ ابن صوحان، سعید بن
المسیب، ابراہیم نخعی، مکحول، اسمعیل بن محمد بن سعد اور نعیم بن سلامہ یہ سب حضرات امام کے خطبہ دینے کی
حالت میں احتباء کئے ہوئے بیٹھا کرتے تھے اور ابوداؤد نے یہ بھی کہا ہے کہ جمعہ کے دن امام کے خطبہ
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1111 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
دینے کے وقت احتباء کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی واسطے عمدۃ الرعایہ میں جامع المضمرات
کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں مصلیوں کے لئے کوئی بیٹھک خاص
نہیں ہے، چاہے تو احتباء کئے ہوئے بیٹھے، چاہے چوزانو بیٹھیں، یا جس حالت میں آسانی اور
سہولت ہو اس حالت میں بیٹھیں۔
اب احتباء کے معنی سنئے۔ احتباء یہ ہے کہ مصلی پر اس طرح بیٹھے کہ دونوں گھٹنے
کھڑے ہوں اور پیروں کے دونوں تلوے زمین پر جمے ہوئے ہوں اور دونوں ہاتھوں سے
دونوں گھٹنوں کو گھیرے ہوئے ہو، یا کپڑا کمر سے لے کر گھٹنوں سمیت باندھے اور زمین پر
ٹک کر بیٹھے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی شخص جمعہ کے دن ہو (یا کوئی اور دن مسجد میں
ہو) اور اس کو نیند آئے اور اونگھنے لگے تو اسے چاہئے کہ اپنی جگہ سے اٹھ کر وہ جگہ بدل دے
(تاکہ حرکت سے نیند اچاٹ ہو جائے اور نیند کا غلبہ جاتا رہے۔ بخلاف اس کے کسی کو جمعہ کا
خطبہ ہوتے وقت نیند آئے تو اٹھ کر جگہ نہیں بدلنا چاہئے۔ اس لئے کہ خطبہ سنتے وقت کوئی
حرکت جائز نہیں ہے)(جیسا کہ بذل المجہود میں مذکور ہے۔12)۔
(اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) "This indicates the importance of hastening to Friday prayer and preparing for it."
Chapter-heading commentary
(۱) قوله : وذروا البيع : فيه إشارة إلى التبكير.