ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ مسلمانوں کے دو چیزوں کی ذمہ داری مؤذن کی گردن پر ہے: (1) ایک تو مسلمانوں کے
روزوں کی ذمہ داری اور (2) دوسرے مسلمانوں کے نمازوں کی ذمہ داری (اس لئے مؤذن کو چاہئے
کہ صحیح وقت اذان دے تاکہ نماز اور روزوں میں خلل نہ ہو)۔
(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
And the saying of Allah, the Almighty: "Who is better in speech than one who calls to Allah, does righteous deeds, and says, 'I am of the Muslims'?" (Qur'an, Fussilat 41:33).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 726 (unverified) 80% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اذان دینے والے قیامت کے دن سب سے زیادہ دراز گردن
(یعنی شاندار) ہوں گے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جب نماز کیلئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان اذان نہ سننے کی غرض سے گوز
مارتے ہوئے یعنی ہوا چھوڑتے ہوئے پشت پھیر کر بھاگتا ہے اور جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو واپس
آتا ہے اور جب نماز کیلئے اقامت ہوتی ہے تو پھر بھاگتا ہے اور جب اقامت ختم ہوجاتی ہے تو پھر
واپس آکر نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو، اور فلاں بات یاد
کرو اور وہ وہ باتیں یاد دلاتا رہتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں، بالآخر آدمی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی
نماز پڑھی۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب شیطان نماز کی اذان سنتا ہے تو وہ بھاگتا ہوا روحا تک چلا جاتا ہے
راوی کہتے ہیں کہ روحا مدینہ منورہ سے چھتیس میل کے فاصلے پر ہے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے خواہ جن ہو یا انسان یا کوئی اور چیز مؤذن کی اذان سنی ہو تو یہ
سب قیامت کے دن مؤذن کیلئے گواہی دیں گے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جتنی دور تک مؤذن کے اذان کی آواز پہنچتی ہے اتنی ہی اس کی بخشش ہوتی ہے
(یعنی اگر گناہوں کا جسم فرض کیا جائے اور اتنے گناہ ہوں کہ جہاں تک آواز پہنچتی ہے اتنے حصے میں
وہ بھر جاتے ہیں تو سارے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اس لئے مؤذن کو چاہئے کہ بہ آواز بلند اپنی
پوری قوت کے ساتھ اذان دیا کرے) اور مؤذن کے لئے ہر تر اور خشک شئے گواہی دے گی اور نماز
باجماعت ادا کرنے والے کیلئے پچیس نمازوں کا ثواب لکھا جاتا ہے اور باجماعت نماز ادا کرنے والے
کی دو باجماعت ادا کئے جانے والی نمازوں کے درمیانی اوقات کے گناہ بھی بخش دیئے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور نسائی نے ہر تر اور خشک کے ذکر تک
روایت کرنے کے بعد ”وَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ صَلّٰى“ (یعنی مؤذن کو سب نمازیوں کے ثواب کے برابر
ثواب ملے گا) کا اضافہ کیا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سات برس تک بغیر دکھاوے کے اللہ کی رضا جوئی اور ثواب کیلئے اذان
دیتا رہا تو اس کیلئے جہنم کی آگ سے برأت یعنی نجات لکھ دی جاتی ہے۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بارہ برس تک اذان دیتا رہا تو اس کیلئے جنت واجب ہو جاتی ہے، اور اذان
دینے کی وجہ سے اس کیلئے روزانہ ہر اذان پر ساٹھ نیکیاں اور اقامت کہنے کی وجہ سے ہر اقامت پر تیس
(30) نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔(اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمی قیامت کے دن مشک کے ٹیلوں پر رہیں گے(1) ایک وہ غلام جس نے
اللہ کا حق ادا کیا اور اپنے مالک کا بھی حق ادا کیا اور(2) دوسرا وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرتا رہا اور
لوگ اس سے خوش رہے، اور(3) تیسرا وہ شخص جو دن رات پانچوں نمازوں کی اذان دیتا رہا۔(اس
کی روایت ترمذی نے کی ہے۔)
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ارشاد فرمایا: اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اذان دینے میں کیا فضیلت ہے تو(ہر شخص اذان دینا چاہتا اس
لئے) اذان دینے کیلئے تلواریں لے کر لڑ پڑتے۔(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(جس کسی قوم پر حملہ کرتے تو) صبح صادق طلوع ہونے کے بعد حملہ کیا کرتے اور اذان کی طرف کان
لگائے منتظر رہتے اگر وہاں سے اذان سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ(اس بستی پر) حملہ کر دیتے تھے،
ایک بار کسی شخص کے یہ الفاظ سنے ”اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ“، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”
عَلَى الْفِطْرَةِ“ یہ اسلام پر ہے(کیوں کہ مسلمان ہی اذان کہتے ہیں) پھر اس شخص نے ”اَشْهَدُ اَنْ
لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہا(یعنی میں گواہ ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے) کہا تو رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ (توحید کے اقرار سے) تم جہنم کی آگ سے نکل گئے ہو، صحابہ نے دیکھا تو وہ
شخص بکریاں چرانے والا تھا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو انصار نے کہا کہ ہم میں سے ایک امیر ہو اور آپ (مہاجرین) میں سے ایک
امیر ہو تو ان کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ گئے اور کہا کہ کیا آپ لوگوں کو معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں تو (اب میں تم سے
پوچھتا ہوں کہ) وہ کون شخص ہے (جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہوتے ہوئے) ان سے سبقت
کرنے کو پسند کرتا ہے، سب نے بیک زبان کہا کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر سبقت
کرنے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view
(1) Explanation of the statement: "Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view":
The Shafi'i school uses the hadith of Abu Hurairah: "The Imam is a guarantor, and the Mu'adhdhin is a trustee. O Allah, guide the Imams and forgive the Mu'adhdhins," to argue that the Adhan is superior to leading prayer because the trustee is in a better position than the guarantor. However, this trustee only manages the timing, while the guarantor oversees the pillars of prayer and acts as an intermediary between the people and their Lord in supplication. How can the two be compared? The Imam is the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him), while the Mu'adhdhin is the successor of Bilal. Moreover, the supplication for guidance is higher than the supplication for forgiveness, as forgiveness implies prior sin, while guidance implies achieving one's goal. This is supported by the following hadiths, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله: الإمامة أفضل من الأذان عندنا إلخ واستدلال الشافعي بحديث أبي هريرة: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين على فضل الأذان على الإمامة؛ لأن حال الأمين أفضل من حال الضمين. وفيه أن هذا الأمين يتكفل الوقت فحسب، وهذا الضامن يتكفل أركان الصلاة، ويتعهد للسفارة بينهم وبين ربهم في الدعاء فأين أحدهما من الآخر؟ وكيف لا، والإمام خليفة رسول الله ، والمؤذن خليفة بلال له. وإن الدعاء بالإرشاد أعلى من الدعاء بالمغفرة؛ لأن الغفران يستدعي سبق ذنب، والإرشاد يستدعي وصول البغية. ويؤيده الأحاديث الآتية بعده، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف(1): امام ابن الہمام رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا
افضل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کرنے پر مداومت فرمائی ہے اور اسی طرح
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی امامت کرنے کی ہمیشہ پابندی کی ہے۔
ف(2): واضح ہو کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس امامت سے اذان دینا افضل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان کی
فضیلت پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ ”الْإِمَامُ ضَامِنٌ
وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ. اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ“، امام ضامن ہے۔ (کہ مقتدیوں کی نماز کی
صحت امام کی صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے۔ (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے
افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ امین کی حالت ضامن کی حالت
سے افضل ہوتی ہے، اس لئے امام پر مؤذن کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اس حدیث کے بارے میں اشعۃ
اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امام اور مؤذن میں کسی کی افضلیت ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے حال کو بیان فرما کر ہر دو کیلئے دعائے خیر فرمائی ہے۔ (اشعۃ
اللمعات کی عبارت ختم ہوئی)
اگر اس حدیث سے کسی ایک کی فضیلت ظاہر کرنا مقصود ہے تو درحقیقت امام ہی کی فضیلت
معلوم ہوتی ہے کہ مؤذن تو صرف اوقات نماز پر امین ہے حالانکہ امام ارکان نماز کا ضامن ہوتا ہے، نیز
امام بوقت دعا، مقتدیوں اور پروردگار کے درمیان سفارت اور واسطہ کا کام دیتا ہے، یہ کہاں اور وہ
کہاں؟ امام افضل کیوں نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اور مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کا
جانشین ہے، اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ امام اور مؤذن میں افضل کون ہے؟ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے اماموں کیلئے راہ حق پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ہے اور مؤذنین کیلئے مغفرت کی دعا فرمائی
ہے، واضح ہو کہ راہ حق پر قائم رہنے کی دعا مغفرت کی دعا سے اعلیٰ و ارفع ہے کیونکہ مغفرت کا تقاضہ یہ
ہے کہ کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں اور ان کی بخشش کی دعا کی جا رہی ہے اس کے برخلاف راہ حق پر قائم
رہنے کا تقاضہ مقصد کو پا لینا ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
امامت کے افضل ہونے کی تائید میں اور حدیثیں ہیں جو ذیل میں آ رہی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسجد میں تمام لوگوں میں افضل امام ہے اور امام کے بعد مؤذن ہے اور ان
دونوں کے بعد وہ شخص ہے جو امام کی سیدھی جانب ہو۔ (اس کی روایت دیلمی نے اپنی مسند میں کی ہے۔)
مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے
ہوئے دیکھا ہے اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی شخص اذان دے پھر تم میں سے (جو
علم میں یا عمر میں) سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 631 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 674a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امامت کی اذان پر فضیلت ثابت ہوتی ہے کیوں
کہ اذان دینے والے کیلئے کسی قسم کی شرط نہیں لگائی گئی اس کے برخلاف امام کیلئے بڑے ہونے کی شرط
لگائی گئی ہے اور یہ امامت کے افضل ہونے کی واضح ترین دلیل ہے۔12
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رحمت سب سے پہلے امام پر نازل ہوتی ہے، پھر اس شخص پر نازل ہوتی جو امام
کے سیدھے جانب (قریب ہونے میں) اول ہے، پھر اس کے بعد جو اول ہے اسی لحاظ سے رحمت
نازل ہوتی جاتی ہے۔ (اس کی روایت ابوالشیخ نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم ان لوگوں کو امام بنایا کرو جو تم میں سب سے اچھے ہوں اس لئے کہ وہ تمہارے
اور تمہارے رب کے درمیان نمائندے ہوتے ہیں۔
(اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور بیہقی نے سنن میں اور طبرانی نے کبیر میں اسی طرح
روایت کی ہے۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے ساتھ تھے، بلال رضی اللہ عنہ اٹھ کر اذان دینے لگے، جب بلال رضی اللہ عنہ خاموش
ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص (مؤذن کی طرح) یقین کے ساتھ اذان کے
ہر کلمہ کا جواب دیتا جائے تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے
عرض کیا کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بے شک اذان دینے والے، ہم پر فضیلت رکھتے ہیں تو
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی جس طرح مؤذن کہتے ہیں کہا کرو اور جب تم اذان
کے جواب سے فارغ ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو تمہاری دعا قبول ہوگی۔ (اس کی روایت
ابوداؤد نے کی ہے۔)
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اذان دینے والے اور اذان کا جواب دینے والے اپنی اپنی قبروں سے اس طرح
نکلیں گے کہ مؤذن اذان دے رہا ہوگا اور جواب دینے والا جواب دے رہا ہوگا۔
(اس کی روایت طبرانی نے الاوسط میں کی ہے۔)
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنو تو تم بھی مؤذن
کی طرح کہو جو وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو، اس لئے کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ
اس ایک درود کے بدلے اس پر دس دفعہ رحمت بھیجتے ہیں پھر تم اللہ تعالیٰ سے میرے لئے مقام وسیلہ
ملنے کی دعا کرو، کیوں کہ وسیلہ جنت میں ایک ایسا درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کسی ایک
ہی کیلئے مخصوص ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا (جس کو مقام وسیلہ ملے گا) تو جو
شخص میرے لئے مقام وسیلہ کے ملنے کی دعا کرے گا اس کیلئے میری شفاعت لازم ہوگی۔ (اس کی
روایت مسلم نے کی ہے۔)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Say what he says
(1) Explanation of the statement: "Say what he says": This means responding to the Adhan is obligatory. However, Al-Hulwani said it is recommended. The obligatory part is responding promptly so as not to miss the congregational prayer, which would be sinful. This is mentioned in Ad-Durr Al-Mukhtar. There is further elaboration on this matter in Rad Al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فقولوا مثل ما يقول: يعني ويُجيب وجوبا، وقال الحلواني: ندبًا، والواجب الإجابة بالقدم، أي لثلا تفوته الجماعة فيأثم، قاله في الدر المختار»، وفي المقام تفصيل آخر ، مَوْضِعُ بَسْطِهِ هو رد المحتار».
Note 1
ف: اس حدیث میں مذکور ہے کہ تم بھی اسی طرح کہو جو مؤذن کہتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ
اذان سننے والے پر واجب ہے کہ مؤذن جن الفاظ کو ادا کرے، جواب دینے والا بھی انہی الفاظ کو جواب
میں ادا کرتا جائے لیکن امام حلوانی نے کہا ہے کہ مؤذن کا جواب دینا زبان سے مستحب ہے اور واجب یہ
ہے کہ اذان سنتے ہی مسجد کی طرف چلتا کہ جماعت فوت نہ ہو۔ اگر اذان سن کر مسجد کو نہ جائے تو ترک
واجب سے گنہگار ہوگا۔
(یہ درمختار میں مذکور ہے اور درمختار میں اس جگہ اور بھی تفصیل ہے۔ (جس کی تشریح ردالمحتار میں
کی گئی ہے۔)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مؤذن ”اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہے تو سننے والا (مؤذن کے جواب
میں) ”اَللّٰهُ اَكْبَرُ اَللّٰهُ اَكْبَرُ“ کہے، پھر مؤذن ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہے تو یہ شخص بھی (اس
کے جواب میں) ”اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ“ کہے، پھر مؤذن ”اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ
“ کہے تو یہ بھی ”اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کہے پھر مؤذن ”حَيَّ عَلَى الصَّلٰوة“ کہے تو یہ ”
لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” کہے، پھر مؤذن “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” کہے تو یہ “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ
إِلَّا بِاللّٰهِ” کہے، پھر مؤذن “اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ” کہے تو یہ بھی “اللّٰهُ أَكْبَرُ اللّٰهُ أَكْبَرُ” کہے، پھر
مؤذن “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ” کہے تو یہ شخص بھی “لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ” کہے اور سب کا جواب صدق دل سے
دے تو ایسا شخص جنت میں داخل ہوگا۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 385 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Say, لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ
(1) Explanation of the statement: "Say, لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ ": This means saying, "There is no power nor strength except with Allah." In 'Umdat Al-Mufti, it is added: "What Allah wills, happens." In Al-Kafi, one is given the choice between the two. In Al-Muhit, it is specified to say "La hawla wa la quwwata illa billah" in place of "Hayya 'ala as-Salah" and "Ma sha'a Allah" in place of "Hayya 'ala al-Falah." The preferred opinion is the first one, as mentioned in Rad Al-Muhtar.
Note 1
قوله
(۱) قوله : قال لا حول ولا قوة إلا بالله : أي يقول: لا حول ولا قوة إلا بالله، وزاد في عمدة المفتي»: «ما شاء الله كان»، وخير بينهما في «الكافي»، وفصل في المحيط» بأن يأتي بالحوقلة مكان الصلاة»، وبالمشيئة مكان الفلاح». (إسماعيل) والمختار الأول (نوح آفندي)، كذا في رد المحتار».
Note 1
ف(1): علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ اس حدیث میں اذان کے تمام کلمات ایک
ایک بار مذکور ہیں جو بغرض تعلیم اختصار کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں ورنہ جیسے اوپر گزر چکا ہے اذان کے
یہ سب کلمات دو دو بار ہیں۔
ف(2): اس حدیث میں مذکور ہے کہ “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ”
ان ہر دو کلمات کے جواب میں “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” کہیں۔
عمدۃ المفتی میں لکھا ہے کہ “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” ان ہر دو کلمات
کے جواب میں “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” کے ساتھ “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ” اضافہ کریں اور
“کافی” میں ان دونوں چیزوں میں اختیار دیا ہے کہ چاہیں تو “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى
الْفَلَاحِ” کے جواب میں صرف “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ” پڑھیں یا صرف “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ”
پڑھیں، البتہ “محیط” میں تفصیل ہے کہ “حَيَّ عَلَى الصَّلٰوةِ” سن کر “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ
” کہے اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” پر “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ” کہے (اسماعیل) لیکن قول مختار قول اول ہے کہ “حَيَّ
عَلَى الصَّلٰوةِ” اور “حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ” ان کلمات میں سے ہر ایک کے جواب میں “لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ
إِلَّا بِاللّٰهِ” اور “مَاشَاءَ اللّٰهُ كَانَ” کو جمع کرے (نوح آفندی) یہ ردالمحتار میں مذکور ہے۔12
علقمہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں معاویہ
رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کے مؤذن نے اذان دی، معاویہ رضی اللہ عنہ اسی طرح کہتے
گئے جس طرح مؤذن نے کہا، یہاں تک کہ جب مؤذن نے ”حَيَّ عَلَى الصَّلٰوة“ کہا تو انہوں
نے ”لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ“ کہا اور جب مؤذن نے ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاح“ کہا تو انہوں نے ”
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْم“ کہا اور اس کے بعد مؤذن نے جس طرح کہا اسی طرح
کہہ کر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذان کے جواب میں اسی طرح کہتے ہوئے سنا
ہے۔ (اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے کہ وہ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ“ اور ”أَشْهَدُ
أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ“ کہہ رہا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ”وَأَنَا وَأَنَا“ (یعنی جیسے تم
گواہی دے رہے ہو، میں بھی ایسی ہی توحید اور رسالت دونوں کی گواہی دیتا ہوں اسی لئے حضور صلی
اللہ علیہ وسلم نے ”أَنَا“ کو مکرر ارشاد فرمایا ہے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
ابوامامہ رضی اللہ عنہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی صحابی
سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنا شروع کیا جب بلال رضی اللہ
عنہ ”قَدْ قَامَتِ الصَّلٰوة“ پر پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وَأَقَامَهَا اللّٰهُ وَأَدَامَهَا
“ یعنی اللہ تعالیٰ نماز کو قائم رکھے اور اس کو ہمیشہ رکھے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بقیہ الفاظ اقامت کا
جواب اسی طرح ادا فرمایا؛ جس طرح عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہوئی حدیث (حدیث
نمبر:21/1031) میں اذان کا جواب دیا گیا ہے (یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اقامت کے الفاظ
کو مؤذن نے جس طرح کہے آپ نے بھی اسی طرح ادا فرمائے البتہ ”حَيَّ عَلَى الصَّلٰوة
“ اور ”حَيَّ عَلَى الْفَلَاح“ کے جواب میں ”لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ“ فرمایا اور ”قَدْقَامَتِ
الصَّلٰوة“ کے جواب میں ”أَقَامَهَا اللّٰهُ وَأَدَامَهَا“ ارشاد فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ تکبیر کے کلمات کا
جواب بھی اسی طرح دینا چاہئے جس طرح اذان کے کلمات کا جواب دیا جاتا ہے۔) (اس کی روایت
ابوداؤد نے کی ہے۔)
سعید بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مؤذن کی اذان سن کر ”أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ
وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا“، یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ تعالیٰ کے جو یکتا ہے اور
جس کا شریک کوئی نہیں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس
کے رسول ہیں، میں اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے سے راضی ہوں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول
اللہ ہونے پر راضی ہوں اور اپنا دین اسلام ہونے سے راضی ہوں۔ اذان سن کر اس طرح کہنے والے
کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ اذان اور اقامت کے درمیان کی دعا رد نہیں ہوتی۔ (یعنی ضرور قبول ہوتی ہے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔)
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دو وقت ایسے ہیں جن میں دعائیں رد نہیں ہوتیں، یا یہ فرمایا کہ بہت کم رد کی
جاتی ہیں، ایک اذان کے وقت کی دعاء دوسرے جہاد کے وقت کی دعاء جب ایک دوسرے سے گتھ
جاتے ہیں، یا یہ فرمایا بارش میں بھیگنے وقت کی دعاء۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
اور دارمی نے بھی اس کی روایت کی ہے لیکن دارمی نے بارش میں بھیگنے وقت کی
دعا کا ذکر نہیں کیا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (پوری) اذان سنے اور اس کا جواب دینے کے بعد یہ دعا پڑھے:
اے اللہ! اے ہمارے پروردگار، سب بلاؤں سے نماز کا بلاوا مکمل ہے اور اے موجودہ نماز
کے مالک جس کی اذان دی جا رہی ہے! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مقام وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور آپ کو
مقام محمود عطا کر (جس کا تو نے آپ سے وعدہ فرمایا ہے) تو اس دعا کے پڑھنے والے کیلئے قیامت
کے دن میری شفاعت ضرور ہوگی۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم کو حکم دیا جاتا تھا کہ ہم
اذان مغرب کے وقت دعا کیا کریں۔ (اس کی روایت بیہقی نے الدعوات الکبیر میں ہے۔)
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے اذان مغرب کے وقت اس دعا کی تعلیم دی ہے، ”اللّٰهُمَّ هٰذَا إِقْبَالُ لَيْلِكَ وَإِدْبَارُ
اے اللہ! یہ وقت تیری رات کی آمد کا ہے اور تیرے دن کے رخصت کا اور تیری اذان دینے
والوں کی اذان کا وقت ہے پس تو مجھے بخش دے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور بیہقی نے الدعوات الکبیر میں بھی اس کی روایت کی ہے۔)
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) Explanation of the statement: "Leading prayer is superior to calling the Adhan in our view": The Shafi'i school uses the hadith of Abu Hurairah: "The Imam is a guarantor, and the Mu'adhdhin is a trustee. O Allah, guide the Imams and forgive the Mu'adhdhins," to argue that the Adhan is superior to leading prayer because the trustee is in a better position than the guarantor. However, this trustee only manages the timing, while the guarantor oversees the pillars of prayer and acts as an intermediary between the people and their Lord in supplication. How can the two be compared? The Imam is the successor of the Messenger of Allah (peace be upon him), while the Mu'adhdhin is the successor of Bilal. Moreover, the supplication for guidance is higher than the supplication for forgiveness, as forgiveness implies prior sin, while guidance implies achieving one's goal. This is supported by the following hadiths, as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: الإمامة أفضل من الأذان عندنا إلخ واستدلال الشافعي بحديث أبي هريرة: «الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين على فضل الأذان على الإمامة؛ لأن حال الأمين أفضل من حال الضمين. وفيه أن هذا الأمين يتكفل الوقت فحسب، وهذا الضامن يتكفل أركان الصلاة، ويتعهد للسفارة بينهم وبين ربهم في الدعاء فأين أحدهما من الآخر؟ وكيف لا، والإمام خليفة رسول الله ، والمؤذن خليفة بلال له. وإن الدعاء بالإرشاد أعلى من الدعاء بالمغفرة؛ لأن الغفران يستدعي سبق ذنب، والإرشاد يستدعي وصول البغية. ويؤيده الأحاديث الآتية بعده، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف(1): امام ابن الہمام رضی اللہ عنہ نے کہا ہے کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امامت کرنے پر مداومت فرمائی ہے اور اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے بھی امامت کرنے کی ہمیشہ پابندی کی ہے۔ ف(2): واضح ہو کہ ہمارے پاس اذان دینے سے امامت کرنا افضل ہے، اس کے برخلاف امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس امامت سے اذان دینا افضل ہے، امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اذان کی فضیلت پر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی جس حدیث سے استدلال کیا ہے وہ حدیث یہ ہے کہ ”الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ. اَللّٰهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ“، امام ضامن ہے۔ (کہ مقتدیوں کی نماز کی صحت امام کی صحت نماز پر منحصر ہے) اور مؤذن امانت دار ہے۔ (کہ لوگ نمازوں کے پڑھنے اور روزوں کے افطار میں مؤذن پر اعتماد کرتے ہیں) اے اللہ! اماموں کو علم و عمل کی ہدایت فرما اور مؤذنوں کو بخش دے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے استدلال یہ ہے کہ امین کی حالت ضامن کی حالت سے افضل ہوتی ہے، اس لئے امام پر مؤذن کو فضیلت حاصل ہے، لیکن اس حدیث کے بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے امام اور مؤذن میں کسی کی افضلیت ظاہر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کے حال کو بیان فرما کر ہر دو کیلئے دعائے خیر فرمائی ہے۔ (اشعۃ اللمعات کی عبارت ختم ہوئی) اگر اس حدیث سے کسی ایک کی فضیلت ظاہر کرنا مقصود ہے تو درحقیقت امام ہی کی فضیلت معلوم ہوتی ہے کہ مؤذن تو صرف اوقات نماز پر امین ہے حالانکہ امام ارکان نماز کا ضامن ہوتا ہے، نیز امام بوقت دعا، مقتدیوں اور پروردگار کے درمیان سفارت اور واسطہ کا کام دیتا ہے، یہ کہاں اور وہ کہاں؟ امام افضل کیوں نہ ہو کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہے اور مؤذن بلال رضی اللہ عنہ کا جانشین ہے، اس سے بخوبی ظاہر ہے کہ امام اور مؤذن میں افضل کون ہے؟ علاوہ ازیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اماموں کیلئے راہ حق پر قائم رہنے کی دعا فرمائی ہے اور مؤذنین کیلئے مغفرت کی دعا فرمائی ہے، واضح ہو کہ راہ حق پر قائم رہنے کی دعا مغفرت کی دعا سے اعلیٰ و ارفع ہے کیونکہ مغفرت کا تقاضہ یہ ہے کہ کچھ گناہ سرزد ہوئے ہیں اور ان کی بخشش کی دعا کی جا رہی ہے اس کے برخلاف راہ حق پر قائم رہنے کا تقاضہ مقصد کو پا لینا ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔) امامت کے افضل ہونے کی تائید میں اور حدیثیں ہیں جو ذیل میں آ رہی ہیں۔