ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ جس شخص نے
(رمضان کے فوت شدہ روزوں کی قضاء ادا کرنے میں اتنی) تاخیر کی کہ دوسرا رمضان آ گیا تو وہ
دونوں (رمضان کے علیحدہ علیحدہ روزے) رکھے (اس طرح کہ پہلے موجودہ رمضان کے روزے
رکھ لے، پھر اس کے بعد فوت شدہ رمضان کے روزوں کی قضاء کرے اور اس طرح تاخیر کی وجہ
سے) حضرت ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ ایسے شخص پر کوئی فدیہ طعام لازم نہیں کرتے۔
اس کی روایت بخاری نے تعلیقاً کی ہے اور امام بخاری نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے (رمضان
کے روزوں کی قضاء کے بارے میں جو آیت نازل فرمائی ہے، اس میں قضاء کے ساتھ) کھانے
کھلانے کا ذکر نہیں فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے: ”فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ“ یعنی رمضان کی قضاء
دوسرے دنوں میں کر لو۔
سعید بن منصور نے اسے یونس کے واسطہ سے حضرت حسن سے موصولاً روایت
کیا ہے اور حارث عکلی کی سند سے بھی۔
And the words of Allah Almighty: “No bearer of burdens will bear the burden of another.” (Qur’an 6:164)
And His words: “But whoever is ill or on a journey, then an equal number of other days.” (1) (Qur’an 2:184)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1950 (unverified) 60% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
An equal number of other days.
(1) The statement: “An equal number of other days.” etc. The generality of Allah’s words, “An equal number of other days,” indicates that delaying the makeup fasts is not restricted until the next Ramadan. Aisha (may Allah be pleased with her) delayed her makeup fasts because the Prophet (ﷺ) would enjoy her company, and during Sha’ban, he would be preoccupied with fasting, so she would be busy making up her fasts. Outside of Ramadan, she would devote herself to serving him. This is mentioned in Al-Jawhar al-Naqi. In Al-Hidayah, it is said: “One may make up the missed fasts of Ramadan consecutively or separately, as the text is general. However, it is recommended to do so consecutively to hasten the fulfillment of the obligation. If one delays until the next Ramadan begins, they should fast the current Ramadan and make up the previous one afterward, as it is the time for making up the fasts. There is no expiation for this.” Regarding the hadith about expiation, Ibrahim ibn Nafi’ is mentioned. Abu Hatim Al-Razi said he was a liar, and some accused him of fabricating the hadith. This is mentioned in Fath al-Qadir.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: فعدة إلخ : عموم قوله تعالى: ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة: ١٨٤) يقتضي أن تأخير القضاء ليس بمقيد إلى مجيء رمضان آخر، وتأخير عائشة إنما كان؛ لأنه كان يستمتع بها، وكان في شعبان يشتغل بالصوم، فتشتغل هي بالقضاء، وفي غير رمضان تتفرغ لخدمته. قاله في الجوهر النقي». وقال في الهداية»: وقضاء رمضان إن شاء فرقه وإن شاء تابعه؛ لإطلاق النص، لكن المستحب المتابعة مسارعة إلى إسقاط الواجب، وإن أخره حتى دخل رمضان آخر صام الثاني؛ لأنه في وقته وقضى الأول بعده؛ لأنه وقت القضاء ولا فدية عليه انتهى. وفي حديث الفدية إبراهيم بن نافع، قال أبو حاتم الرازي: كان يكذب، وفيه أيضًا مَنِ التُّهم بالوضع، هكذا في فتح القدير».
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی عورت کے لئے جائز نہیں ہے کہ اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی
اجازت کے بغیر (کوئی نفل) روزہ رکھے اور (اسی طرح عورت کے لئے یہ بھی جائز نہیں کہ) شوہر
کے گھر میں (کسی غیر مرد یا عورت کو) اس کی اجازت کے بغیر آنے دے۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1026a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Without his permission.
(2) The statement: “Without his permission.” This means a woman may not observe a voluntary fast without her husband’s permission, except in cases of harm to him. Voluntary fasts are unrestricted, so they include what is originally voluntary but becomes obligatory due to circumstances. Therefore, it is said in Al-Bahr from Al-Qunya: “A husband may prevent his wife from anything that is obligatory on her part, such as voluntary acts, vows, and oaths, but not what is obligatory from Allah, such as making up Ramadan fasts.” This is mentioned in Al-Durr al-Mukhtar and Rad al-Muhtar, summarized from both.
Note 2
قوله
(۲) قوله : إلا بإذنه: أي لا تصوم المرأة نقلًا إلا بإذن الزوج إلا عند عمد الضرر به، وأطلق النفل، فشمل ما أصله نفل لكن وجب بعارض، ولذا قال في البحر» عن «القنية»: للزوج أن يمنع زوجته عن كل ما كان الإيجاب من جهتها، كالتطوع والنذر واليمين دون ما كان من جهته تعالى كقضاء رمضان. الدر المختار» ورد المحتار ملتقط منهما.
Note 1
ف: اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نفل روزہ نہیں
رکھ سکتی اور شوہر کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ہر ایسے روزہ رکھنے سے منع کرے جس کو اس
نے اپنے اوپر اپنی جانب سے واجب کر لیا ہے جیسے نذر کا روزہ یا کسی اور قسم کا روزہ لیکن ایسا روزہ جو اللہ
تعالیٰ کی جانب سے عورت پر فرض ہے جیسے رمضان کی قضاء کا روزہ تو اس سے شوہر اپنی بیوی کو منع نہیں
کر سکتا۔ (یہ درمختار، ردالمحتار اور بحر سے ماخوذ ہے)۔
معاذہ عدویہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین حضرت
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: اے ام المؤمنین! کیا بات ہے کہ حائضہ عورت روزہ کی تو
قضاء کرتی ہے لیکن نماز کی قضاء نہیں کرتی۔ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے جواب دیا کہ (رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں) ہم کو حیض آتا تو ہم کو روزہ کی قضاء کا حکم دیا جاتا اور نمازوں کی قضاء
کا حکم نہیں دیا۔ (اس سے معلوم ہوا کہ شارع علیہ السلام نے جو فرمایا اس کی علت پوچھنے کی ضرورت
نہیں، جو فرمایا اس کو کرنا چاہئے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
نافع رحمہ اللہ علیہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں اور وہ حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص
مر جائے اور اس سے ماہ رمضان کے روزے فوت ہو گئے ہوں (کہ ان کی قضاء اس پر واجب تھی) تو
اس کی جانب سے (رمضان کے ہر روزہ کے بدلہ) ہر دن ایک مسکین کو (دو وقت کا) کھانا کھلایا
جائے (یا ہر روزہ کے بدلہ ایک مسکین کو ایک فطرہ دیا جائے) اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
اور جو بیہقی میں مذکور ہے کہ اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے بھی مرفوعاً صحیح
سند کے ساتھ کی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابن
عمر رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ کیا کوئی شخص دوسرے کی جانب سے (فرض) روزہ رکھ سکتا
ہے یا کوئی شخص کسی دوسرے کی جانب سے (فرض) نماز ادا کر سکتا ہے؟ تو حضرت ابن عمرؓ جواب دیا
کرتے تھے کہ کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے نہ تو (فرض) روزے رکھ سکتا ہے اور نہ (فرض) نماز ادا
کر سکتا ہے۔ اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے، اور امام مالک نے کہا ہے کہ میں نے
کسی صحابی سے اور کسی تابعی سے مدینہ میں یہ نہیں سنا کہ جو یہ کہتا ہو کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ
رکھے یا کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے۔
اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف کے کتاب الوصایا میں حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ کوئی شخص نہ تو کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی
طرف سے نماز پڑھے (چنانچہ فتح القدیر میں مذکور ہے کہ اس بارے میں یہی آخری حکم ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Muwatta Malik 677 (unverified) 35% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
I have not heard…
(1) The statement: “I have not heard…” This supports the view of abrogation, as it reflects the final ruling established by the Shariah. This is mentioned in Fath al-Qadir.
Note 1
قوله
(۱) قوله: لم أسمع إلخ : هذا مما يُؤيد النسخ، وإنه الأمر الذي استقر عليه الشرع آخر. قاله في «فتح القدير».
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کی جانب
سے نہ تو روزہ رکھے اور نہ کسی کی جانب سے نماز پڑھے بلکہ ہر دن یعنی ہر روزہ کے بدلہ (فدیہ میں)
ایک ایک مد گیہوں (یعنی نصف صاع یعنی دو کیلو ایک مسکین کو) دیدے (اسی طرح نماز کا بھی حکم
ہے کہ میت کی جانب سے ہر نماز کے بدلے میں ایک مسکین کو نصف صاع گیہوں 2 کیلو دے یا دو
وقت کا کھانا کھلائے) اس حدیث کی روایت نسائی نے اپنی سنن میں کی ہے۔
اور ابوبکر رازی نے مختصر طحاوی کی شرح میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے
روایت کی ہے کہ حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر
کوئی شخص مر جائے اور اس سے رمضان کے روزے فوت ہو گئے ہوں تو ایسے شخص کی جانب سے ہر
روزہ یعنی ہر روزہ کے بدلہ نصف صاع (2 کلو گیہوں) ایک مسکین کو دیا جائے۔
قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کی جانب
سے قضاء روزہ نہ رکھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (سورہ بنی اسرائیل پ 15 ع2 میں) کوئی شخص
کسی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ اس کو ’’الجوہر النقی‘‘ میں بیان کیا ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: “An equal number of other days.” etc. The generality of Allah’s words, “An equal number of other days,” indicates that delaying the makeup fasts is not restricted until the next Ramadan. Aisha (may Allah be pleased with her) delayed her makeup fasts because the Prophet (ﷺ) would enjoy her company, and during Sha’ban, he would be preoccupied with fasting, so she would be busy making up her fasts. Outside of Ramadan, she would devote herself to serving him. This is mentioned in Al-Jawhar al-Naqi. In Al-Hidayah, it is said: “One may make up the missed fasts of Ramadan consecutively or separately, as the text is general. However, it is recommended to do so consecutively to hasten the fulfillment of the obligation. If one delays until the next Ramadan begins, they should fast the current Ramadan and make up the previous one afterward, as it is the time for making up the fasts. There is no expiation for this.” Regarding the hadith about expiation, Ibrahim ibn Nafi’ is mentioned. Abu Hatim Al-Razi said he was a liar, and some accused him of fabricating the hadith. This is mentioned in Fath al-Qadir.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: فعدة إلخ : عموم قوله تعالى: ﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة: ١٨٤) يقتضي أن تأخير القضاء ليس بمقيد إلى مجيء رمضان آخر، وتأخير عائشة إنما كان؛ لأنه كان يستمتع بها، وكان في شعبان يشتغل بالصوم، فتشتغل هي بالقضاء، وفي غير رمضان تتفرغ لخدمته. قاله في الجوهر النقي». وقال في الهداية»: وقضاء رمضان إن شاء فرقه وإن شاء تابعه؛ لإطلاق النص، لكن المستحب المتابعة مسارعة إلى إسقاط الواجب، وإن أخره حتى دخل رمضان آخر صام الثاني؛ لأنه في وقته وقضى الأول بعده؛ لأنه وقت القضاء ولا فدية عليه انتهى. وفي حديث الفدية إبراهيم بن نافع، قال أبو حاتم الرازي: كان يكذب، وفيه أيضًا مَنِ التُّهم بالوضع، هكذا في فتح القدير».