English
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that he said: "While a man was praying with his garment hanging down, the Messenger of Allah (peace be upon him) said to him: 'Go and perform ablution.' So he went and performed ablution, then returned. Someone asked: 'O Messenger of Allah, why did you order him to perform ablution?' He replied: 'He was praying with his garment hanging down, and Allah does not accept the prayer of a man who lets his garment hang down.'" [Narrated by Abu Dawud]
Ali Al-Qari said: "Letting the hem of the garment hang down is disliked according to Abu Hanifah and Ash-Shafi'i, whether in prayer or otherwise." In "Rad Al-Muhtar": "It is disliked for men to wear trousers that reach the back of the feet."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۰۱۹ - وَعَنْهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ»، فَذَهَبَ وَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ؟ قَالَ: «إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَأَنَّ اللهَ لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ». رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
وَقَالَ عَلَيَّ الْقَارِي: إِطَالَةُ الذَّيْلِ مَكْرُوهَةٌ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيَّ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهَا. وَفِي رَدَّ الْمُحْتَارِ»: وَيُكْرَهُ لِلرِّجَالِ السَّرَاوِيلُ الَّتِي تَقَعُ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمَيْنِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1143
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک شخص اپنے تہبند کو
ٹخنے سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اس شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز ختم کرنے
کے بعد) حکم فرمایا کہ جاؤ اور وضوء کرلو (یہ سن کر) وہ گیا اور وضوء کر کے واپس آیا، ایک اور شخص نے
دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے اس شخص کو کس لئے وضوء کا حکم فرمایا ہے؟
(حالانکہ وہ باوضوء تھا) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ وہ اپنے تہبند کو ٹخنے کے نیچے لٹکائے
ہوئے نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے جو اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے
لٹکائے ہوئے نماز پڑھتا ہے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 638 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4086 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 761 (unverified) 88% confidence · Validation similarity: 0.924
Mishkat (candidate) 761
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): ملّا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ حالت نماز میں ہوں یا نماز کے باہر ہوں ہر دو صورتوں میں امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ کے پاس تہبند یا پاجامہ کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانا مکروہ ہے اور ردالمحتار میں ہے کہ مردوں کیلئے ایسے پاجاموں کا پہننا مکروہ ہے جن کے کنارے پنجوں پر گرتے ہوں۔ ف(2): اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”إِنَّ اللَّهَ لَايَقْبَلُ صَلٰوةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ“۔ (اللہ تعالیٰ) اس شخص کی نماز قبول نہیں فرماتے جو اپنے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھتا ہے۔ واضح ہو کہ یہاں ٹخنوں کے نیچے تہبند کے لٹکانے پر نماز کے قبول نہ ہونے کا ارشاد ہوا ہے اور نماز کے صحیح نہ ہونے کا ارشاد نہیں ہوا، جس سے ثابت ہے کہ نماز میں ٹخنوں سے نیچے تہبند یا پاجامہ کو رکھنے سے نماز مکروہ ہوتی ہے اور فاسد نہیں ہوتی۔ چنانچہ امام ابوحنیفہ اور امام شافعی رحمہما اللہ نے تہبند یا پاجامہ کو ٹخنوں سے نیچے رکھ کر نماز ادا کرنے پر نماز کی کراہت کا حکم لگایا ہے نماز کے فساد کا حکم نہیں لگایا۔ اس حدیث میں اس شخص کو جو ٹخنوں سے نیچے تہبند لٹکائے ہوئے نماز ادا کر رہا تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: ”اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ‘‘، (جاؤ اور وضوء کرلو) یہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اس کے باوضوء ہونے کے باوجود دوبارہ وضوء کرنے کا جو حکم ارشاد فرمایا ہے اس کی ایک غرض یہ تھی کہ اس شخص نے تہبند کو ٹخنوں سے نیچے رکھے ہوئے جو نماز ادا کی ہے اس کا گناہ معاف ہوجائے اس لئے کہ وضوء سے صغیرہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں، علاوہ ازیں اس شخص کو دوبارہ وضوء کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے اس کی دوسری غرض یہ تھی کہ اس شخص نے اپنے تہبند کو ٹخنے سے نیچے رکھ کر اپنے باطن میں کبر و غرور کی جو گندگی پیدا کرلی تھی وہ اس دوبارہ وضوء سے زائل ہوجائے اور اس طرح اس طہارت ظاہری سے اس کو طہارت باطنی حاصل ہوجائے کہ ظاہر کا باطن پر اثر پڑتا ہے۔ (یہ مضمون مرقات اور اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے۔)12