اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1155
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باریک کپڑے پہنی ہوئیں داخل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ان سے منہ پھیر لیا، اور فرمایا کہ اے اسماء! (جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کو چاہئے کہ
پہنچوں تک دونوں ہاتھ اور چہرے کے سوا تمام بدن کو چھپائے۔)
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 4104 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 4372 (unverified) 94% confidence
Mishkat (candidate) 4372
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ باریک تنزیب یا جالی وغیرہ کا بہت باریک دوپٹہ اوڑھ کر نماز پڑھنا درست نہیں، یہ اس وقت ہے جب کہ اس کپڑے میں سے بدن دکھائی دیتا ہے اور اگر جتنے بدن کا ڈھانکنا ضروری ہے اس کو دوسرے کپڑے سے ڈھک لیا گیا اور اس کے اوپر سے باریک دوپٹہ بھی اوڑھ لیا جائے تو نماز ہو جائے گی۔ (منیہ اور درمختار۔)