Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer · Chapter 12

(یہ باب اس شئے کے بیان میں ہے جو تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جاتی ہے)

12 narrations · In source reading order

Hadith 1111

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1259Noor 1260
ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ جب نماز شروع کرتے تو یہ ثناء پڑھتے تھے (اور تعلیم کے لئے) ہم کو سناتے: غَيْرُكَ“۔ (اے اللہ! ہم آپ کی تعریف کرتے ہوئے تمام عیبوں سے آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں، آپ کا نام بڑا برکت والا ہے آپ بہت عالی شان ہیں آپ کے سوائے کوئی معبود لائق عبادت نہیں)۔ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے۔) اور مسلم نے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

Allah Almighty says: "And glorify the praises of your Lord when you rise (for prayer)." (Surah At-Tur, 52:48)

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 399a (unverified) 93% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

Subhanaka Allahumma wa bihamdika...

(1) The three Imams (Abu Hanifah, Malik, and Ahmad) agreed that the opening supplication (dua al-istiftah) in prayer is Sunnah. However, Malik said it is not Sunnah; rather, one should begin with the Takbir and start reciting (Quran). The wording preferred by Abu Hanifah and Ahmad is: "Subhanaka Allahumma wa bihamdika..." The wording preferred by Ash-Shafi'i is: "Wajjahtu wajhiya lilladhi fataras-samawati wal-ard..." (I have turned my face toward He who created the heavens and the earth...). Abu Yusuf said it is preferable to combine both, as mentioned in Rahmat al-Ummah and Sharh an-Nuqayah.

Note 1

قوله

(۱) قوله: إذا افتتح الصلاة إلخ واتفق الثلاثة على أن دعاء الاستفتاح في الصلاة مسنون، وقال مالك: ليس بسنة، بل يكبر ويفتتح القراءة، وصيغته عند أبي حنيفة وأحمد أن يقول: سبحانك اللهم وبحمدك إلخ». وصيغته عند الشافعي: وجهت وجهي للذي فطر السموات والأرض حنيفا الآيتين. إلا أنه يقول: وأنا من المسلمين». وقال أبو يوسف: المستحب أن يجمع بينهما، قاله في رحمة الأمة»، وكذا في شرح النقاية».

Hadith 1112

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1261
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بصرہ کے چند لوگ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ حضرات آپ کی خدمت میں صرف اسی لئے حاضر ہوئے تھے کہ تکبیر تحریمہ کے بعد شروع نماز میں ثناء کے متعلق دریافت کریں (کہ کن الفاظ میں پڑھی جائے) ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ نے فرمایا (بیان کر) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور نماز شروع فرمائی اور یہ سب لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اقتداء کرکے آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (تعلیم کے لئے) جہر سے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلٰهَ غَيْرُكَ“ پڑھ کر (بتلایا کہ ثناء میں یہ الفاظ سنت ہیں)۔

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ، وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس کی روایت امام محمد نے الآثار میں کی ہے اور دارقطنی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور امام محمد نے کہا ہے کہ ہم نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے انہی مذکورہ الفاظ کے پڑھنے کو (اختیار کئے ہیں) لیکن امام اور مقتدی دونوں کو چاہئے کہ وہ ثناء کے ان الفاظ کو جہر سے نہ پڑھیں، اب رہا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اس وقت ثناء کے ان الفاظ کو جہر سے پڑھنا محض سوال کرنے والوں کی تعلیم کی غرض سے تھا، امام ابن الہمام نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت عمر اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے عمل سے یہ ثابت ہوگیا کہ یہ سب حضرات تکبیر تحریمہ کے بعد نماز کو ثناء کے انہی الفاظ سے شروع کرتے تھے اور حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام کا لوگوں کی تعلیم کے لئے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“، تا آخر کو جہر کے ساتھ پڑھنا کہ لوگ اس ثناء کو اختیار کریں اور اس سے مانوس ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل ثناء کے انہی مذکورہ الفاظ کو پڑھنا تھا۔

Hadith 1113

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1262
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر فرماتے، پھر دونوں ہاتھوں کو اس قدر بلند کرتے کہ دونوں انگوٹھے دونوں کانوں کے مقابل ہوجاتے تھے۔ اس کے بعد (ہاتھ باندھ کر) یہ ثناء پڑھتے ”سُبْحَانَكَ (اس کی روایت دارقطنی نے کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔)

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

[Narrated by Al-Daraqutni, who said: All the narrators in its chain are trustworthy]

Hadith 1114

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1263Noor 1264
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو یہ ثناء پڑھتے ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ (اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے) اور ابوداؤد کی سند حسن ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور ابن ماجہ نے بھی ابو سعید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے اس ثناء کو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے علاوہ علماء حدیث میں سفیان ثوری احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ نے بھی اختیار کیا ہے۔

Arabic quotation in the English source

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 776 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 243 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 399a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1115

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1265
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جماعت میں اس حالت میں شریک ہوا کہ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی اس نے ایسی حالت میں اللہ اکبر کہہ کر۔ (ہاتھ باندھا اور یہ ثناء پڑھی۔) ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ“ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے جو ریا اور دکھاوے سے پاک ہو اور جس تعریف میں برکت ہو۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کر دی تو ارشاد فرمایا کہ ان الفاظ کا کہنے والا کون تھا؟ سب لوگ خاموش رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ یہ الفاظ کس نے کہے تھے؟ (اس پر بھی) سب لوگ خاموش رہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر ارشاد فرمایا کہ جس کسی نے یہ الفاظ کہے ہیں تو اس نے کوئی بری بات نہیں کہی ہے (اس پر) ایک شخص نے (جو شریک جماعت ہوا تھا) کہا میں اس حالت میں شریک ہوا کہ میری سانس پھولی ہوئی تھی اور میں یہ کلمات کہہ گزرا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ بارہ فرشتے ان کلمات کو اوپر لے جانے کیلئے ایک دوسرے پر سبقت

Arabic quotation in the English source

اللَّهُ أَكْبَرُ، الحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 600 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

کر رہے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) بحر الرائق میں لکھا ہے کہ ثناء میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی بجائے ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُّبَارَكًا فِيهِ“ یہ اور اس قسم کے دوسرے الفاظ کا فرائض میں پڑھنا ابتداء اسلام میں تھا اور اس کی دلیل جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا عمل ہے کہ جب آپ نے نماز پڑھی تو ثناء میں تعلیماً ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کو جہر سے پڑھا تاکہ لوگ ثناء کے بارے میں آپ کی اتباع کریں اور اس کو سیکھ لیں، پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عمل اس بات کی دلیل ہے کہ فرائض میں ثناء کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل یہی تھا، اس لئے نماز میں یہ ثناء ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر پڑھی جائے۔

Hadith 1116

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1266
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے بعد قرأت شروع فرمانے سے پہلے کچھ دیر خاموش رہا کرتے تھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، حضور تکبیر اور قرأت کے درمیان خاموش رہنے کے وقت کیا پڑھتے ہیں، فرمایا یہ دعاء پڑھتا ہوں: الٰہی! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنی دوری کردے جتنی مشرق اور مغرب کے درمیان تو نے دوری کردی ہے، الٰہی! مجھے گناہوں سے ایسا پاک و صاف کردے جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے پاک و صاف کردیا جاتا ہے۔ الٰہی! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولے سے دھو ڈال۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 744 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 598a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 812 (unverified) 92% confidence

Mishkat (candidate) 812

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ ثناء میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی بجائے یہ اور اس قسم کی جو دعائیں منقول ہیں وہ ابتدائے اسلام میں تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جاتی تھیں اس کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے مرقات میں شرح منیہ کے حوالے سے لکھا ہے۔

Hadith 1117

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1267Noor 1268
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد (قیام میں) یہ دعاء پڑھتے: ترجمہ:۔ میں نے ایک ہی کا ہو کر اپنا رخ اُسی ذات پاک کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ترجمہ: میری نماز اور میری تمام عبادات، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ ”وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، اَنَا بِكَ وَاِلَيْكَ (یہ وہی دعاء ہے جس کا اشارہ مندرجہ بالا سیدنا علیؓ کی حدیث میں دیا گیا ہے۔) اور برائیوں کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جاسکتی اور وہی ہدایت پایا ہوا ہے جس کو آپ نے ہدایت کی ہو، میرا وجود آپ ہی سے ہے اور آپ ہی کی طرف مجھے واپس ہونا ہے، آپ کے عذاب سے آپ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، اور آپ کے سوا کوئی پناہ دینے والا بھی نہیں، آپ بڑی برکت والے ہیں۔

Arabic quotation in the English source

وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ. ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ. وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ. وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ.

اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُنِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي

اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَنْجَاً مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 771a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 813 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 813

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اور الفاظ بھی مروی ہیں جو آگے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔) اے اللہ! آپ ہی شہنشاہ ہیں، بجز آپ کے کوئی معبود برحق نہیں ہے، آپ ہی میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں میں نے (گناہ کر کے) اپنے نفس پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، میرے تمام گناہوں کو معاف کر دیجئے، یقیناً آپ کے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت کیجئے آپ کے سوا اچھے اخلاق کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں، اور برے اخلاق سے مجھے بچائے رکھئے آپ کے سوا برے اخلاق سے مجھے کوئی بچانے والا نہیں ہے، خدایا! آپ کی خدمت میں آپ کا حکم بجا لانے کے لئے حاضر ہوں! ساری بھلائیاں آپ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور برائیوں کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جا سکتی میرا وجود آپ ہی سے ہے اور آپ ہی کی طرف مجھے واپس ہونا ہے آپ بڑی برکت والے ہیں اور آپ عالیشان ہیں میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں اور آپ کے سامنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔) اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَ بِكَ اٰمَنْتُ، وَ لَكَ اَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَ بَصَرِي وَ مُخِّي وَ عَظْمِي وَ عَصَبِيْ۔ ترجمہ: اے اللہ! میں آپ کے لئے راضی ہونے کے لئے رکوع کیا ہوں اور آپ ہی پر ایمان لایا ہوں میں آپ ہی کا فرمانبردار ہوں اور اپنے سب کام آپ ہی کو سونپتا ہوں میری سماعت، میری بصارت، میری ہڈی کا گودہ، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے یہ سب آپ کے سامنے عاجزی سے جھکے ہوئے ہیں۔ ”اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَ مِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ“۔ ترجمہ: (اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! آپ ہی کے لئے حمد ہے اس قدر حمد جو سارے آسمان بھر کر ہو اور زمین بھر کر ہو اور زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر کر ہو، اور ان کے سوا آپ جو کچھ پیدا کرنا چاہیں وہ سب بھر کر ہو)۔ اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے: ”اللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ خَلَقَهٗ وَصَوَّرَهٗ، وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ“۔ ترجمہ: اے اللہ! میں آپ ہی کے لئے آپ ہی کے آگے اپنی ذلت اور عاجزی کے ظاہر کرنے کے لئے سجدہ کیا ہوں اور آپ ہی پر میں ایمان لایا ہوں، میں آپ ہی کا فرماں بردار ہوں اور اپنے سب کام آپ ہی کو سونپ رہا ہوں میں اپنا سر زمین پر اس ذات مبارک کے سامنے رکھ رہا ہوں جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کو اچھی صورت دی اور اس کے لئے کان سننے والے دیئے اور آنکھ دیکھنے والے دیئے، اے اللہ! آپ بڑی برکت والے ہیں جو سب ظاہری بنانے والوں سے، بہتر حقیقی طور پر بنانے والے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اخیر میں التحیات اور سلام کے درمیان یہ دعاء پڑھتے تھے: ”اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ مَاقَدَّمْتُ وَمَاأَخَّرْتُ، وَمَاأَسْرَرْتُ وَمَاأَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَاإِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ“۔ اے اللہ! معاف کر دیجئے میرے اگلے پچھلے گناہوں کو اور اُن گناہوں کو جن کو میں نے چھپ کر کئے اور ان گناہوں کو بھی جن کو میں نے علانیہ کئے اور ان گناہوں کو بھی جن کو میں نے حد اعتدال سے گزر کر کیا ہے اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف کیجئے جن کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں آپ بعضوں کو عزت دے کر آگے بڑھاتے ہیں اور بعضوں کو ذلت دے کر پیچھے ڈالتے ہیں آپ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اس حدیث میں قیام کی حالت میں جن دعاؤں کے پڑھنے کا ذکر ہے ان میں وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ کے بعد جو الفاظ ہیں ان کے بجائے امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کی روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں:

Hadith 1118

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1269
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے دیکھا کہ آپ نے (تکبیر تحریمہ) کے بعد فرمایا: ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا“ اللہ بہت بڑا ہے ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا“ اللہ بہت بڑا ہے ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا“ اللہ بہت بڑا ہے ساری بڑائیاں اسی کے لئے ہیں ”وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا“ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے ”وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا“ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے ”وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ كَثِيرًا“ سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے ”وَسُبْحَانَ اللّٰهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا“ میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ”وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا“، میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ”وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا“، میں صبح و شام اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرتا ہوں ترجمہ: میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتا ہوں شیطان مردود کے نفخ سے (یعنی غرور اور خود پسندی سے جن کو شیطان انسانوں کے دلوں میں ڈالتا ہے) اور نَفْث (یعنی سحر سے جس کو شیطان انسان سے کرواتا ہے) اور هَمْز سے (یعنی وسوسوں سے جن کو شیطان انسان کے دلوں میں پیدا کرتا رہتا ہے۔)

Arabic quotation in the English source

اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، اللهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا، وَسُبْحَانَ اللهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا

أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ نَفْخِهِ وَنَفْثِهِ وَهَمْزِهِ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 764 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 807 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 817 (unverified) 85% confidence

Mishkat (candidate) 817

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس کی روایت ابوداؤد اور ابن ماجہ نے کی ہے) اور ابن ماجہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کی یہ تفسیر بیان کی ہے کہ نفخ سے مراد کبر ہے جس کو شیطان انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے اور نفث سے مراد فُحش اور برے اشعار ہیں جن کو شیطان انسان سے کہلواتا ہے اور ہمز سے مراد ایک قسم کا جنون ہے جو شیطان کی طرف سے پیدا کیا جاتا ہے جس سے انسان مرگی میں مبتلا ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔

Hadith 1119

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1270
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر فرماتے پھر یہ دعاء پڑھتے: (میری نماز، اور میری تمام عبادتیں، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے فرمانبرداروں میں پہلا فرمانبردار ہوں۔ اے اللہ! آپ مجھے اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی ہدایت کیجئے کیونکہ اچھے اعمال اور اچھے اخلاق کی ہدایت کرنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے (اے اللہ) آپ مجھے برے اعمال اور برے اخلاق سے بچائے رکھئے، برے اعمال اور برے اخلاق سے بچانے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ہے۔) (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)

Arabic quotation in the English source

إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ اهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَعْمَالِ وَأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا (الأنعام: ١٦٢-١٦٣) إِلَّا أَنْتَ، وَ وَقِنِي سَيِّئَ الْأَعْمَالِ وَسَيِّئَ الْأَخْلَاقِ، لَا يَقِي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 896 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں ”وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ“ کے جو الفاظ مذکور ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص ہیں اس لئے اگر امتی یہ دعاء پڑھنا چاہے تو وہ ”أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ“ کی بجائے ”أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ“ پڑھے، البتہ قرآن کی تلاوت کر رہا ہو تو ”أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ“ ہی پڑھنا چاہئے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)

Hadith 1120

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1271
محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نفل نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہہ کر یہ دعاء پڑھتے، ”إِنِّي وَجَّهْتُ میں نے تو ایک ہی کا ہو کر اپنا رخ اسی ذات پاک کی طرف کر لیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ محمد بن مسلمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے بعد دعاء کے وہی الفاظ نقل کئے جو جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں بیان کئے گئے ہیں لیکن جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جہاں ”أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِيْنَ“ کے الفاظ ہیں ان کی بجائے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ”وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ“ کے الفاظ بیان کئے ہیں (پھر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے دعائیہ الفاظ کے بعد) یہ دعاء پڑھی: اے اللہ! آپ ہی شہنشاہ ہیں، بجز آپ کے کوئی معبود برحق نہیں، ہم آپ کی تعریف کرتے ہوئے تمام عیبوں سے آپ کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اَعُوْذُ اور بِسْمِ اللّٰهِ کے بعد) قرأت فرماتے تھے۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)

Arabic quotation in the English source

اللهُ أَكْبَرُ، وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ

سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَجَهْتُ وَجْهِيَ إلخ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 898 (unverified) 45% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہوکہ مذکورہ بالا حدیثوں سے نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد جن دعاؤں کے پڑھنے کا ذکر ہے یہ دعائیں ابتداء اسلام میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی بجائے پڑھی جاتی تھیں، لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے، معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری عمل تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء میں صرف ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کا پڑھنا ہی تھا اس طرح ثابت ہوا کہ فرض نمازوں میں ثناء صرف ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر ہی پڑھی جائے اور ثناء کے ساتھ کوئی اور دعاء شامل نہ کی جائے۔ اب رہا نوافل اور تہجد میں ان مذکورہ دعاؤں کا پڑھنا، اس بارے میں حنفی مذہب یہ ہے کہ ” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کے بعد ان دعاؤں کو بھی پڑھا جاسکتا ہے، اس لئے کہ نفل نمازوں میں اس قسم کے اضافہ کی گنجائش ہے جیسا کہ ابوداؤد کی اس حدیث سے ظاہر ہوتا ہے وہ حدیث یہ ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثُمَّ يَقُولُ ” سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ “ ، ثُمَّ يَقُولُ : ” لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ “–ثَلَاثًا– ثُمَّ يَقُولُ : ” اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا “–ثَلَاثًا – أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ . ثُمَّ يَقْرَأُ. اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تہجد اور نوافل میں تکبیر تحریمہ کے بعد ” سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَ بِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا اِلٰهَ غَيْرُكَ “ پڑھتے، پھر اس حدیث کے دعائیہ الفاظ پڑھنے کے بعد قرأت شروع فرماتے۔ اور بیہقی کی ایک حدیث میں بھی یہی مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کے بعد ”وَجَّهْتُ وَجْهِيَ، الخ“ پڑھا کرتے تھے۔ حاصل بحث یہ ہے کہ فرض نمازوں میں تو صرف ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کی ثناء پر اکتفا کیا جائے اور نوافل و تہجد میں ”سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ“ تا آخر کے ساتھ مذکورہ احادیث کی دعاؤں اور اسی قسم کی دوسری دعائیں جو اور حدیثوں میں مذکور ہیں ان کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ (رد المحتار، مرقات۔)

Hadith 1121

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1272
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے (تو تکبیر تحریمہ کے بعد) کسی قدر سکوت اختیار فرماتے (”یہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے“، یہاں سکوت سے مراد عدم جہر ہے، مطلق سکوت نہیں، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس سکوت میں آہستہ ثناء پڑھتے تھے۔)(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 896 (unverified) 78% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 1122

Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1273
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے ختم پر (قعدۂ اولیٰ کے بعد تیسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوتے تو سکوت نہیں فرماتے تھے (اس لئے کہ تیسری رکعت کے شروع میں ثناء نہیں پڑھی جاتی) اور ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ“ سے قرأت شروع فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 599 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح رہے کہ جس طرح تیسری رکعت کے شروع میں ثناء نہیں پڑھی جاتی ہے اسی طرح دوسری اور چوتھی رکعت کے شروع میں بھی ثناء نہیں پڑھی جاتی۔ (اشعۃ اللمعات۔)