العربية
Typed, pending editorial approval
١١٣٦ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: أُمِرْنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.
وَفِي رِوَايَةٍ لِلتَّرْمِذِي وَابْنِ مَاجَه: لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأُ بِـ «الْحَمْدُ وَسُوْرَةٍ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَدِيٌّ عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا تُجْزِئُ الْمَكْتُوْبَةُ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَثَلَاثِ 1 آيَاتٍ فَصَاعِدًا».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 818 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "Three verses": Our scholars (Hanafis) acted upon all these narrations by obligating the recitation of Al-Fatihah along with a Surah or three additional verses. Since these are solitary narrations (ahad), they do not establish an absolute obligation (farḍ). The only obligation, according to us, is general recitation, as Allah said: "Recite what is easy of the Qur’an" (73:20). Restricting this to Al-Fatihah exceeds the general textual command, which is impermissible. Thus, we combined the narrations, obligating Al-Fatihah with a Surah or three verses. The statement "No prayer except with Al-Fatihah" is akin to "No prayer for the neighbor of a mosque except in the mosque" (indicating excellence, not validity). This was affirmed by prominent companions, as stated by Al-Ayni in ‘Umdat al-Qari.
Note 1
(۱) قوله: ثلاث آيات وقد عمل أصحابنا بكل الحديث حيث أوجبوا قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات معها؛ لأن هذه الأخبار أخبار آحاد، فلا تثبت بها الفرضية، وليس الفرض عندنا إلا مطلق القراءة؛ لقوله تعالى: ﴿فَأَقْرَهُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْءَانِ﴾ (المزمل: (۲۰) فأمر بقراءة ما تيسر من القرآن مطلقا، وتقييده بالفاتحة زيادة على مطلق النص، وذا لا يجوز، فعملنا بالكل، وأوجبنا قراءة الفاتحة وضم سورة أو ثلاث آيات معها. وقلنا: إن قوله: لا صلاة إلا بفاتحة الكتاب مثل معنى قوله: لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد، وصح أيضًا عن جماعة من الصحابة إيجاب ذلك، قاله العلامة العيني في عمدة القاري.
Note 1
ف: واضح ہو کہ نماز میں مطلق قرأت قرآن، سورہ فاتحہ اور ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین آیتیں یا تین آیتوں سے زیادہ کا پڑھنا ان میں مطلق قرأت قرآن کی فرضیت کے متعلق نص قرآنی اور دوسری چیزوں کے وجوب کے متعلق جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں احناف نے ان سب میں حسب ذیل طریقہ پر اس طرح تطبیق دی ہے کہ جس سے نص قرآنی اور ساری حدیثوں پر عمل ہو جاتا ہے وہ یہ ہے کہ نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہے اور سورہ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اور سورہ فاتحہ کے ساتھ ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین آیتوں کا پڑھنا بھی واجب ہے۔ احناف کے پاس نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہونے کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (تم لوگ نماز میں قرآن سے جو کچھ ہو سکے پڑھ لیا کرو۔) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ تم نماز میں قرآن سے جو ہو سکے پڑھ لیا کریں اور یہ حکم مطلق ہے جو قرآن کے کسی خاص حصے سے مخصوص اور مقید نہیں ہے کہ جس کو نماز میں پڑھنا لازم کیا جائے، اس کی تائید مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے: ”عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَاصَلَوةَ إِلَّا بِقِرَاءَةٍ“۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرأت قرآن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی۔) اس حدیث سے بھی نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔ جو حضرات نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دیتے ہیں ان کا استدلال یہ ہے کہ جب کسی مسئلہ میں دو حکم وارد ہوں جن میں (1) ایک مطلق ہو اور (2) دوسرا مقید، تو اصولیین کے قاعدے کے مطابق مطلق حکم سے مقید حکم مراد لیا جاتا ہے اور مطلق نہیں رکھا جاتا جیسے نماز میں قرأت کا مسئلہ ہے، اس میں دو حکم وارد ہیں، ایک مطلق ہے جو آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں مطلق قرآن کا پڑھنا فرض ہے اور دوسرا حکم حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے معلوم ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ کی قرأت کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اس لئے وہ حضرات جن کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے وہ اس اصولی قاعدے کے تحت اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ میں جو مطلق قرأت کا حکم ہے اس سے مراد حدیث شریف کا مقید حکم ہی ہے جو ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ سے معلوم ہو رہا ہے، اس طرح یہاں دو حکم علیحدہ علیحدہ نہیں ہیں بلکہ ایک ہی حکم ہے جو کہیں مطلق بیان کیا گیا اور کہیں مقید اور اسی بناء پر ان حضرات کے پاس نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا آیت اور حدیث دونوں سے فرض قرار پاتا ہے۔ حنفی حضرات اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ مطلق حکم اور مقید حکم سے ایک ہی چیز اسی وقت مراد ہوسکتی ہے جبکہ دونوں حکم کے ماخذ قوت میں برابر ہوں، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ مطلق قرأت تو قرآن سے ثابت ہو رہی ہے اور سورہ فاتحہ کی قرأت خبر واحد سے اگر آیت اور حدیث دونوں سے ایک ہی حکم مراد لیا جائے تو قرآن کے مطلق حکم پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی لازم آجائے گی حالانکہ کتاب اللہ پر خبر واحد کے ذریعہ زیادتی جائز نہیں ہے، اس لئے یہاں مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد نہیں لے سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہم نے مطلق کو مطلق رکھ کر بحکم کتاب اللہ نماز میں مطلق قرأت کو فرض قرار دیا اور مقید حکم یعنی سورہ فاتحہ کی قرأت کو خبر واحد سے ثابت ہونے کی وجہ سے واجب قرار دیا، اس طرح ہم نے قرآن اور حدیث دونوں پر عمل کیا۔ اس کے قطع نظر مطلق اور مقید دونوں سے ایک ہی حکم مراد لے کر نماز میں سورہ فاتحہ کو فرض قرار دیں تو وہ حضرات جن کے پاس سورہ فاتحہ کی قرأت فرض ہے ان پر لازم آ جائے گا کہ ضم سورہ کی قرأت کو بھی فرض قرار دیں، اس لئے کہ جن حدیثوں میں سورہ فاتحہ کا ذکر ہے ان میں ضم سورہ کا بھی ذکر موجود ہے، حالانکہ یہ حضرات ضم سورہ کی قرأت کو سنت قرار دیتے ہیں، اس کے برخلاف ہم مطلق اور مقید کو علیحدہ علیحدہ دو حکم قرار دے کر آیت سے مطلق قرأت کی فرضیت ثابت کرتے ہیں اور حدیث سے جس طرح سورہ فاتحہ کی قرأت کو واجب کہتے ہیں، ایسا ہی ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زائد آیتوں کو بھی واجب قرار دیتے ہیں۔ مذکورہ بالا توضیحات سے ثابت ہو گیا کہ حدیث ” لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ چونکہ خبر واحد ہے اس لئے یہ حدیث قوت میں آیت: ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ “ کے برابر نہیں ہو سکتی جس کی وجہ سے آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کیا جا سکتا۔ اگر کوئی کہے کہ حدیث ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ خبر واحد نہیں ہے بلکہ خبر مشہور ہے اس لئے اس حدیث سے آیت ” فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ “ کے مطلق حکم کو مقید کیا جا سکتا ہے تو اس کے دو جواب ہیں: (1) ایک جواب تو یہ ہے کہ ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کو اس لئے خبر مشہور نہیں کہا جا سکتا ہے کہ تابعین کے درمیان اس حدیث کے مشہور ہونے میں اختلاف ہے اور سب تابعین نے اس حدیث کو قبول نہیں کیا ہے اور خبر مشہور اس حدیث کو کہتے ہیں جس کو سب تابعین قبول کر لیں اگر ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کا خبر مشہور ہونا صحیح ہوتا تو اس حدیث سے آیت ” لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ کے حکم مطلق کو مقید کر کے نماز میں سورہ فاتحہ کی فرضیت کی جا سکتی تھی لیکن جب ”لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کا خبر مشہور ہونا ثابت نہیں ہوا تو یہ خبر واحد ہوئی اور ظاہر ہے کہ خبر واحد سے کتاب اللہ کے حکم مطلق کو مقید نہیں کیا جا سکتا، اس لئے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کا فرض ہونا اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ (2) دوسرا جواب یہ ہے کہ بالفرض اگر حدیث ” لَاصَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ “ کو خبر مشہور تسلیم کرلیا جائے تو اس کے باوجود بھی آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے حکم مطلق کو اس حدیث سے مقید نہیں کیا جاسکتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خبر مشہور سے کسی آیت کے حکم مطلق کو اسی وقت مقید کرسکتے ہیں جبکہ وہ خبر مشہور محکم ہو یعنی اس سے ایک ہی معنی مراد لئے جاتے ہوں، اور اس میں دوسرے معنے کا احتمال نہ ہو، یہاں ایسا نہیں ہے کیونکہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ میں دو معنوں کا احتمال موجود ہے ایک معنی تو یہ ہے کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز کامل نہیں بلکہ ناقص ہوتی ہے اور اس دوسرے معنی کی نظیر حدیث ”لَاصَلٰوةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِى الْمَسْجِدِ“ ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے بغیر صحیح نہیں ہوتی حالانکہ اس حدیث سے یہ معنی کسی نے بھی مراد نہیں لئے ہیں بلکہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز گھر میں ادا تو ہوجاتی ہے مگر ناقص اور غیر افضل رہتی ہے، اس سے ثابت ہوا کہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ میں مذکورہ دونوں معنوں کا احتمال ہے اور ایسی مشہور حدیث جس میں دو معنوں کا احتمال پایا جاتا ہو وہ کسی آیت کے مطلق حکم کو مقید نہیں کرسکتی۔ اس طرح ثابت ہوا کہ حدیث ”لَا صَلٰوةَ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ“ کے ذریعہ آیت ”فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ کے مطلق حکم کو مقید کرکے نماز میں سورہ فاتحہ کی قرأت کو فرض قرار دینا درست نہیں بلکہ آیت مذکورہ کے لحاظ سے نماز میں مطلق قرأت قرآن فرض ہے اور حدیثوں کے لحاظ سے نماز میں سورہ فاتحہ ضم سورہ یا ضم سورہ میں تین یا تین سے زیادہ آیتوں کا پڑھنا واجب ہے اور یہی مذہب حنفی ہے۔ (عمدة القاری، مرقات۔)