اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1306
ابن عمرو بیاضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ نمازی اپنے پروردگار سے (نماز میں) راز و نیاز کرتا رہتا ہے، پس وہ
غور کرلے کہ اپنے پروردگار سے کیا راز و نیاز کرتا رہتا ہے، پس وہ غور کرلے کہ اپنے پروردگار سے کیا
راز و نیاز کر رہا ہے؟ اس لئے تم (سب مقتدی) ایک دوسرے پر بآواز بلند قرأت قرآن کرکے (نماز
کے راز و نیاز میں خلل مت ڈالو بلکہ) سب خاموش رہا کرو۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 856 (unverified) 55% confidence
Mishkat (candidate) 856
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His saying: "Do not raise your voices over one another with the Qur'an": At-Tahawi said: Since these narrations differed, we sought to understand their ruling through reasoning. We found that they all agree that if a person joins the imam while he is bowing, he should say the takbir and bow with him, and that this counts as a valid rak'ah even if he did not recite anything. This could mean that it is allowed due to necessity, or that recitation behind the imam is not obligatory. When we examined the matter, we found that scholars agree that if a person bows before entering the prayer properly, it is not valid. This proves that certain pillars of prayer are essential, while recitation behind the imam is not necessarily one of them.
Note 1
(۱) قوله : لا يجهر بعضكم على بعض بالقرآن قال الطحاوي: فلما اختلفت هذه الآثار المروية في ذلك التمسنا حكمه من طريق النظر، فرأيناهم جميعا لا يختلفون في الرجل يأتي الإمام وهو راكع أنه يكبر ويركع معه، ويعتد تلك الركعة وإن لم يقرأ فيها شيئا. فلما أجزأه ذلك في حال خوفه فوت الركعة احتمل أن يكون إنها اجزاء ذلك لمكان الضرورة واحتمل أن يكون إنها أجزأه ذلك؛ لأن القراءة خلف الإمام ليست عليه فرضا، فاعتبرنا ذلك. فرأيناهم لا يختلفون أن من جاء إلى الإمام وهو راكع، فركع قبل أن يدخل في الصلاة بتكبير كان منه: إن ذلك لا يجزئه، وإن كان إنما تركه لحال الضرورة وخوف قوات الركعة. فكان لا بد له من قَوْمَةٍ في حال الضرورة وخوف فوات الركعة، فكان لا بد له من قومة في حال الضرورة وغير حال الضرورة. فهذه صفات الفرائض التي لا بد منها في الصلاة، ولا تجزئ الصلاة إلا بإصابتها. فلما كانت القراءة مخالفة لذلك وساقطة في حال الضرورة كانت من غير جنس ذلك، فكانت في النظر أنها ساقطة في غير حالة الضرورة، فهذا هو النظر في هذا.
Note 1
ف: واضح رہے کہ قرآن اور حدیث سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مقتدی جہری اور سری ہر دو نمازوں میں امام کے پیچھے نہ سورہ فاتحہ پڑھے اور نہ کوئی اور سورت، یہ نقلی دلیلیں تھیں جن کو آپ سن چکے اب اس پر عقلی دلیل امام طحاوی رضی اللہ عنہ سے سنئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس نے امام کو رکوع میں پایا اور قیام کی حالت میں تکبیر تحریمہ کے لئے ”اللہ اکبر“ کہہ کر بغیر قرأت کئے رکوع میں امام سے جاملا تو جمہور ائمہ کا بلا اختلاف اس بات پر اتفاق ہے کہ اس کو بلا شبہ وہ رکعت مل گئی، اگرچہ کہ اس نے اس رکعت کے قیام میں کچھ قرأت نہیں کی ہے۔ (یہ عمدۃ القاری، جلد:2، صفحہ:559، میں مذکور ہے۔) جمہور ائمہ کے اس قول کی توجیہ دو طرح سے کی گئی ہے، ایک یہ کہ مقتدی پر امام کے پیچھے قرأت فرض نہیں تھی اس لئے اس کو وہ رکعت قرأت ترک ہونے کے باوجود مل گئی اور یہی مذہب حنفی ہے۔ دوسری توجیہ یہ ہے کہ اس شخص پر قرأت فرض تو تھی مگر رکعت فوت ہونے کے اندیشہ سے ضرورۃً ساقط ہوگئی اور یہ دیگر ائمہ کا مسلک ہے، اس دوسری توجیہ کے سلسلہ میں فرض کی ماہیت پر غور کرنا ضروری ہے کہ کیا کسی فرض کو ضرورۃً ترک کر دیا جا سکتا ہے؟ ایک ایسا شخص جس نے امام کو رکوع میں پایا اور رکعت فوت ہونے کے اندیشہ سے ضرورۃً قیام کے لئے بغیر تکبیر تحریمہ کہے ہوئے امام سے رکوع میں جاملا تو جمہور ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ ایسے شخص کو وہ رکعت نہیں ملی، حالانکہ اس نے ضرورۃً قیام ترک کیا ہے، اس مثال سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوگیا کہ قیام فرض ہے اور فرض ایسا عمل ہے جس کو ضرورۃً بھی ساقط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کی ادائی ضرورت اور غیر ضرورت ہر دو موقعوں پر لازمی ہے۔ فرض کی ماہیت کو اس مثال سے سمجھنے کے بعد قرأت خلف الامام کی نوعیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرأت خلف الامام پر فرض کی ماہیت صادق نہیں آتی، اس لئے کہ مقتدی کے لئے قرأت خلف الامام جس طرح دیگر ائمہ کے پاس ضرورۃً ساقط ہو جاتی ہے اسی طرح ہمارے پاس متعدد احادیث سے ثابت نہ ہونے کی وجہ سے ساقط ہے اس کے برخلاف اگر قرأت خلف الامام فرض ہوتی تو وہ نہ ضرورۃً ساقط ہوتی ہے اور نہ بلا ضرورت اس لئے کہ فرائض کسی وجہ سے ساقط نہیں ہو سکتے۔ اس طرح ثابت ہو گیا کہ مقتدی پر قرأت خلف الامام فرض نہیں ہے جیسا کہ متعدد احادیث اس کے مقتدی پر فرض نہ ہونے پر وارد ہیں۔ (یہ پورا مضمون طحاوی شریف سے ماخوذ ہے۔)