English
On the authority of Abdullah bin Shaddad bin Al-Had, he said: The Messenger of Allah ﷺ led the Asr prayer, and a man behind him recited, so the person next to him nudged him. When they finished the prayer, the man asked: "Why did you nudge me?" He replied: "The Messenger of Allah ﷺ was in front of you, and I disliked that you recite behind him." The Prophet ﷺ heard this and said: "Whoever has an imam, his recitation is his recitation." ]Narrated by Muhammad and Al-Daraqutni[
Al-Hakim also narrated it in his Mustadrak, and Al-Bayhaqi narrated something similar.
Al-Ayni said in his commentary on Al-Bukhari regarding this hadith: "A group of companions narrated it, including Jabir bin Abdullah, Ibn Umar, Abu Sa’id Al-Khudri, Abu Huraira, Ibn Abbas, and Anas bin Malik."
Sheikh Al-Abid As-Sindi mentioned in his explanation of Imam Abu Hanifa’s Musnad: "When the ten companions mentioned established this ruling and no one among them objected, despite the presence of many companions, it amounted to a silent consensus."
العربية
Typed, pending editorial approval
١١٥٥ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: أَمَّ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ فِي الْعَصْرِ، قَالَ: فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ فَغَمَزَهُ الَّذِي يَلِيْهِ، فَلَمَّا أَنْ صَلَّى قَالَ: لِمَ غَمَرْتَنِي؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ
قُدَّامَكَ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَقْرَأَ خَلْفَهُ. فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ ﷺ وَقَالَ: «مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامُ فَإِنَّ قِرَاءَتَهُ لَهُ قِرَاءَةٌ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ وَالدَّارَقُطْنِي. وَرَوَى الْحَاكِمُ فِي مُسْتَدْرَكِهِ وَالْبَيْهَقِيُّ نَحْوَهُ.
قَالَ الْعَلَامَةُ الْعَيْنِيُّ فِي شَرْحِ الْبُخَارِيِّ فِي بَيَانِ هَذَا الْحَدِيْثِ: إِنَّهُ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الصَّحَابَةِ، وَهُمْ جَابِرُ بْن عَبْدِ اللهِ وَابْنُ عُمَرَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكِ . وَقَالَ الشَّيْخُ الْعَابِدُ - السِّنْدِيُّ - مُوَلَّدًا وَالْمَدَنِيُّ مُهَاجِرًا - في شَرْحِ الْمُسْنَدِ لِإِمَامِنَا أَبِي حَنِيفَةَ بَعْدَ مَا ذَكَرَ هَذِهِ الرِّوَايَةَ: فَنَقُولَ: لَمَّا ثَبَتَ نَهْيُ الْعَشَرَةِ الْمَذْكُورَةِ وَلَمْ يَثْبُتْ رَدُّ أَحَدِهِمْ عَلَيْهِمْ عِنْدَ تَوَافُرِ الصَّحَابَةِ كَانَ إِجْمَاعًا سُكُوتِيًّا. انْتَهَى مُلَخَّصًا
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1317
عبداللہ بن شداد بن الہاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ
(ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر پڑھائی عبداللہ بن شداد کہتے ہیں ایک شخص نے
(باوجود مقتدی ہونے کے) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے قرأت کی تو اس شخص کے بازو والے
نے اس کو انگلی سے ٹوچا دیا، جب نماز پڑھ لی تو اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے نماز میں کیوں ٹوچا دیا
تھا؟ انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے امام تھے تو میں نے بُرا سمجھا کہ آپ
(مقتدی ہو کر) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پیچھے نماز میں قرأت کریں، اس گفتگو کو حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے سن لیا اور فرمایا کہ جو امام کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہو تو امام کی قرأت اسی کی قرأت ہے۔
(اس کی روایت امام محمد اور دارقطنی نے کی ہے اور حاکم نے مستدرک میں اور بیہقی نے بھی اسی
طرح کی روایت کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
علامہ عینی رحمہ اللہ نے شرح بخاری میں اس حدیث شریف کے بیان میں کہا ہے کہ اس کی روایت صحابہ کرام کی ایک جماعت نے کی ہے جن کے نام یہ ہیں، جابر بن عبداللہ ابن عمر، ابوسعید خدری، ابوہریرہ، ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم۔ علاوہ ازیں امام حارثی رحمۃ اللہ علیہ نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کتاب کشف الاسرار میں یہ روایت لکھی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں دس جلیل القدر صحابہ مقتدی کے لئے بڑی شدت سے قرأت خلف الامام کی ممانعت فرماتے تھے ان کے نام یہ ہیں: حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابی طالب، عبدالرحمن بن عوف، سعید بن ابی وقاص، عبداللہ بن مسعود، زید بن ثابت، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم۔ اس بارے میں علامہ عابد سندی مدنی رحمہ اللہ نے شرح مسند امام اعظم رضی اللہ عنہ میں لکھا ہے کہ قرأت خلف الامام کی ممانعت مذکورہ دس صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہوچکی ہے جن کا رد کسی صحابی نے نہیں کیا، حالانکہ اس وقت صحابہ کرام کی ایک کثیر تعداد موجود تھی اور اس کثرت کے باوجود کسی صحابی کا ان دس صحابہ پر رد نہ کرنا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دیگر صحابہ کا قرأت خلف الامام کی ممانعت پر سکوت حقیقت میں تمام صحابہ کرام کا اجماع سکوتی ہے جو شرعاً لائق حجت ہے۔