العربية
Typed, pending editorial approval
١١٦٨ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنه) : أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ : هَلْ يَقْرَأُ أَحَدٌ مَعَ الْإِمَامِ؟ قَالَ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ مَعَ الْإِمَامِ فَحَسْبُهُ قِرَاءَةُ الْإِمَامِ. وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ مَعَ الْإِمَامِ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ. هَذَا طَرِيقُ جَيِّدُ الْإِسْنَادِ، لَا يُتَصَوَّرُ فِيهِ الْكَلَامُ أَصْلًا.
وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مَالِكُ وَزَادَ: وَإِذَا صَلَّى وَحْدَهُ فَلْيَقْرَأُ». وَقَالَ الْعَيْنِيُّ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَكَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ اقْتِدَاءٌ بِرَسُولِ اللهِ ﷺ. انْتَهَى
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 188 (unverified) 40% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 855 (unverified) 35% confidence
Mishkat (candidate) 855
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
محمد نے کی ہے۔ اس حدیث کی سند جید ہے اور اس کے متعلق کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے، اور امام طحاوی نے بھی اس حدیث کی اسی طرح روایت کی ہے اور امام مالک نے بھی اس کی روایت کی ہے، اور امام مالک نے اس حدیث کی جو روایت کی ہے اس میں یہ اضافہ ہے ”وَإِذَا صَلّٰى وَحْدَهٗ فَلْيَقْرَءْ“، یعنی مقتدی کو امام کی قرأت کافی ہے ہاں اگر وہ مسبوق ہو تو باقی نماز میں قرأت کیا کرے۔ علامہ عینی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما قرأت خلف الامام نہیں کرتے تھے اور آپ کی شان یہ ہے کہ آپ لوگوں میں سب سے زیادہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کیا کرتے تھے اور اپنے زمانہ میں اسی وجہ سے اتباع سنت میں سب سے زیادہ مشہور تھے اس لئے آپ کا قرأت خلف الامام نہ کرنا عین سنت ہے۔