Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1184

(یہ باب نماز میں قرأت قرآن کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نماز میں قرأت قرآن کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1184Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1352
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میرے والد عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے مجھے نماز میں ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ و بلند آواز سے پڑھتے ہوئے سنا تو کہا بیٹا یہ تو بدعت ہے، اور بدعت سے بچو، پھر کہا کہ میں نے اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو بدعت سے عداوت و نفرت کرتے ہوئے نہیں دیکھا انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی مگر کسی کو بسم اللہ الرحمن الرحیم (بلند آواز سے) کہتے ہوئے نہیں سنا اس لئے تم کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم آواز سے نہ کہنی چاہئے جب تم نماز پڑھو تو ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ“ کہو۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔) اور نسائی اور ابن ماجہ نے بھی اس کی روایت کی ہے اور ہمارے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح روایت کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حدیث حسن ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ اور ان کے بعد اکثر تابعین کا بھی یہی عمل رہا ہے اور امام سفیان ثوری، امام ابن مبارک، امام احمد اور امام اسحق رحمہم اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، ان سب کا بھی یہی قول ہے کہ ”بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ“ جہر سے نہ پڑھی جائے بلکہ آہستہ پڑھنی چاہئے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 244 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.