Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1262

Chapter on Prostration and Its Virtues

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Prostration and Its Virtues

Zujajat al-Masabih 1262Volume 1

English

It is narrated from Rabi’ah ibn Ka’b (may Allah be pleased with him) who said: "I used to spend the night with the Messenger of Allah (peace be upon him) to bring him his water for ablution and whatever he needed. He said to me: 'Ask.' I said: 'I ask for your companionship in Paradise.' He said: 'Or something else?' I said: 'That is it.' He said: 'Then help me with yourself by prostrating often.'"

العربية

Typed, pending editorial approval
١٢٦٢ - وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ أَبِيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَأَتَيْتَهُ بَوَضُوْئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: «سَلْ»، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَوَغَيْرَ ذَلِكَ؟» قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1438
ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں راتوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا کرتا تھا اور حضور علیہ السلام کے لئے وضوء کا پانی اور دیگر ضروریات مہیا کرتا تھا ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کچھ مانگو میں نے عرض کیا کہ جنت میں حضور کی رفاقت چاہتا ہوں، حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا (یہ تو بڑی بات ہے) اس کے سوا کچھ اور مانگو میں نے عرض کیا جی بس یہی میرا مقصود و مدعا ہے (حضور نے جب یہ دیکھ لیا کہ یہ طالب صادق ہے تو ارشاد فرمایا کہ میں تو تم کو ساتھ رکھوں گا مگر) تم بھی بکثرت نمازیں پڑھ کر کثرت سے سجدے کرکے اپنے کو اس درجے کے قابل بنالو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 489 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے چند فائدے معلوم ہوئے، (1) ایک یہ کہ بزرگوں کی خدمت اور ان کو راضی رکھنا دارین کی سعادت کا باعث ہوتا ہے، (2) دوسرا فائدہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو چاہے مانگو وہ دیا جائے گا اس سے ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کی ہر چیز پر اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عطا فرما دیں، چنانچہ مرقات میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت بطور جاگیر عطا فرمائی ہے کہ آپ جس کو چاہیں دیں، اللہ تعالیٰ اس دینے سے راضی ہیں، (3) تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ صد ہزار تحسین کے قابل ہیں کہ آپ نے دنیا کو نہ مانگا آخرت ہی کو مانگا، یہ دنیا کی چیزوں میں سے جو بھی مانگتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عطا فرما دیتے مگر آپ کا دنیا کو چھوڑ کر آخرت ہی کو مانگنا اس میں طالب صادق کے لئے سبق ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا پر آخرت ہی کو ترجیح دیا کرے، (4) چوتھا فائدہ یہ ہے کہ امید وہوس لگائے رکھنا اور خود کچھ نہ کرنا طالب صادق کا کام نہیں بلکہ خود بھی ریاضتیں کرکے حصول مقصد کی امید باندھنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تم بکثرت نمازیں پڑھ کر اور کثرت سے سجدے کرکے جنت میں میری رفاقت کے قابل بنو۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)