العربية
Typed, pending editorial approval
١٢٦٢ - وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ أَبِيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ، فَأَتَيْتَهُ بَوَضُوْئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: «سَلْ»، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ. قَالَ: «أَوَغَيْرَ ذَلِكَ؟» قُلْتُ : هُوَ ذَاكَ. قَالَ: «فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 489 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح رہے کہ اس حدیث سے چند فائدے معلوم ہوئے، (1) ایک یہ کہ بزرگوں کی خدمت اور ان کو راضی رکھنا دارین کی سعادت کا باعث ہوتا ہے، (2) دوسرا فائدہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے فرمایا جو چاہے مانگو وہ دیا جائے گا اس سے ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا اور آخرت کی ہر چیز پر اختیار دیا گیا تھا کہ آپ جو چاہیں جس کو چاہیں اللہ تعالیٰ کے حکم سے عطا فرما دیں، چنانچہ مرقات میں کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنت بطور جاگیر عطا فرمائی ہے کہ آپ جس کو چاہیں دیں، اللہ تعالیٰ اس دینے سے راضی ہیں، (3) تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ صد ہزار تحسین کے قابل ہیں کہ آپ نے دنیا کو نہ مانگا آخرت ہی کو مانگا، یہ دنیا کی چیزوں میں سے جو بھی مانگتے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ضرور عطا فرما دیتے مگر آپ کا دنیا کو چھوڑ کر آخرت ہی کو مانگنا اس میں طالب صادق کے لئے سبق ہے کہ وہ ہمیشہ دنیا پر آخرت ہی کو ترجیح دیا کرے، (4) چوتھا فائدہ یہ ہے کہ امید وہوس لگائے رکھنا اور خود کچھ نہ کرنا طالب صادق کا کام نہیں بلکہ خود بھی ریاضتیں کرکے حصول مقصد کی امید باندھنا چاہئے، یہی وجہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کو ارشاد فرمایا تم بکثرت نمازیں پڑھ کر اور کثرت سے سجدے کرکے جنت میں میری رفاقت کے قابل بنو۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)