English
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said: During the time of the Messenger of Allah ﷺ, when the women completed their obligatory prayer, they would leave, while the Messenger of Allah ﷺ remained seated. The men who had prayed as much as Allah willed would also remain seated. When the Messenger of Allah ﷺ stood up, the men would then stand.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٢٠ - وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: إِنَّ النِّسَاءَ فِي عَهْدِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ كُنَّ إِذَا سَلَّمْنَ مِنَ الْمَكْتُوْبَةِ قُمْنَ، وَثَبَتَ رَسُولُ اللهِ ، وَمَنْ صَلَّى مِنَ الرِّجَالِ مَا شَاءَ اللهُ، فَإِذَا قَامَ رَسُولُ اللهِ ﷺ قَامَ الرِّجَالُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1502
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانہ میں عورتیں فرض نماز کا سلام پھیرنے کے بعد کھڑی ہوجاتی تھیں (اور مردوں سے پہلے
مسجد سے چلی جاتی تھیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے جب تک اللہ
تعالیٰ کو منظور ہوتا اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہتے تھے (تاکہ مرد اور عورتیں مسجد سے نکلتے وقت ایک دوسرے
سے مل نہ جائیں) (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کی مقدار معین نہ تھی بلکہ حالات کے لحاظ سے
نمازوں کے بعد بیٹھنے کی مقدار مختلف ہوا کرتی تھی، جن نمازوں کے بعد سنتیں ہوں اس میں حضور صلی
مقدار بیٹھتے اور جن نمازوں کے بعد سنتیں نہ ہوں ان میں بقدر دعا یا احکام الٰہی بیان کرنے کی مقدار
تشریف رکھتے اور فجر کی نماز میں سورج کے طلوع ہونے تک تشریف فرما ہوتے تھے) پھر جس وقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو لوگ بھی کھڑے ہوجاتے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ
مقتدیوں کیلئے مستحب یہ ہے کہ وہ امام کے اٹھنے سے پہلے نہ اٹھیں۔) (اس کی روایت بخاری نے کی
ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 866 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.