English
Abdur-Rahman ibn Ghanm reported from the Prophet (peace be upon him): "Whoever says before turning away and lifting his foot after Maghrib and Fajr prayers:
'There is no god but Allah alone, with no partner. To Him belongs the dominion and to Him belongs all praise. In His hand is all good, He gives life and causes death, and He is over all things competent'
… ten times, will have ten good deeds recorded for him, ten sins erased, and ten degrees raised for him. It will be a protection for him from every evil, a protection from the accursed Satan, and no sin will overtake him except shirk (associating partners with Allah). He will be among the best in deeds, except for a man who surpasses him by saying more than he said." [Narrated by Ahmad]
Al-Tirmidhi narrated a similar hadith from Abu Dharr up to the words: "except for shirk," without mentioning "the Maghrib prayer" or "بِيَدِهِ الْخَيْرُ" He said: "This is a Hasan Sahih Gharib hadith."
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۳۳۰ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ (رضي الله عنه) ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «مَنْ قَالَ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ وَيَثْنِيَ رِجْلَهُ مِنْ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَالصُّبْحِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، عَشْرَ مَرَّاتٍ كُتِبَ لَهُ بِكُلِّ وَاحِدَةٍ عَشْرُ حَسَنَاتٍ، وَمُحِيَتْ عَنْهُ عَشْرُ سَيِّئَاتٍ، وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ، وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ كُلِّ مَكْرُوْهِ، وَحِرْزًا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، وَلَمْ يَحِلُّ لِذَنْبٍ أَنْ يُدْرِكَهُ إِلَّا الشَّرْكَ، وَكَانَ مِنْ أَفْضَلِ النَّاسِ عَمَلًا ، إِلَّا رَجُلًا يَفْضُلُهُ: يَقُوْلُ أَفْضَلَ مِمَّا قَالَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ عَنْ أَبِي ذَرٍّ له إِلَى قَوْلِهِ: «إِلَّا الشَّرْكَ وَلَمْ يَذْكُرُ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ»، وَلَا بِيَدِهِ الْخَيْرُ»، وَقَالَ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
اردو
عبدالرحمن بن غنم رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مغرب کی (کی سنت کے) اور نماز فجر کے فرض کے
بعد کسی طرف پلٹے بغیر اس حالت میں کہ وہ ہیئت نماز پر ہی اپنے پیروں کو موڑے ہوئے (یعنی تشہد
میں جیسا بیٹھا تھا ویسا ہی بیٹھا ہو) یہ دعا دس بار کہے ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ، لَهُ
الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ بِيَدِهِ الْخَيْرُ يُحْيِىْ وَيُمِيْتُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ“، تو ہر بار کے
کہنے پر اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کے
دس درجے بلند کر دیئے جاتے ہیں اور وہ شخص تمام دن ہر آفت و ناپسندیدہ چیز اور شیطان مردود سے
اللہ کی حفاظت و نگہبانی اور امان میں رہے گا (یہ دعاء پڑھنے کے بعد پھر اگر اس سے کوئی گناہ ہو جائے
تو اس دعا کی برکت سے اس کو توبہ کی توفیق ہوگی) اور وہ اس گناہ کی وجہ سے عذاب میں گرفتار نہ ہوگا،
ہاں اگر اس نے اس دعاء کے پڑھنے کے بعد شرک کیا (تو اس دعاء میں جو توحید تھی وہ شرک سے زائل
ہوگئی اور وہ مذکورہ ثواب سے محروم ہو کر عذاب میں گرفتار ہو جائے گا) اور اس دعاء کے پڑھنے والے کے
نیک عمل اُن لوگوں کے مقابلہ میں جو اس کو نہ پڑھتے ہوں زیادہ لکھے جائیں گے البتہ جو شخص اس دعا کو دس
مرتبہ سے زیادہ پڑھے تو اس کے اعمال اس دس مرتبہ پڑھنے والے کے اعمال سے زیادہ ہوں گے۔
(اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔)
اور ترمذی نے بھی ابوذر رضی اللہ عنہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Arabic quotation in the English source
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ، لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 974 (unverified) 80% confidence
Mishkat (candidate) 974
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں صلوٰۃ مغرب کے بعد مذکورہ دعاء پڑھنے کا جو ذکر ہے یہاں صلوٰۃ مغرب سے مراد فرض مع سنت ہے کیونکہ صلوٰۃ مغرب کا اطلاق فرض اور سنت دونوں پر ہوتا ہے اس لئے اس دعاء کو پڑھنے والا مغرب کی دو سنتوں کے پڑھنے کے بعد ہیئت نماز پر ہی جیسے کہ وہ تشہد میں بیٹھا تھا ویسے ہی بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے البتہ فجر کے فرض کے بعد چونکہ سنتیں نہیں ہیں اس لئے فجر کے فرض کے بعد بھی اسی حالت میں بیٹھے ہوئے یہ دعاء پڑھے۔ اور ترغیب و ترہیب میں نسائی کی جو روایت مذکور ہے اس میں بجائے مغرب کے عصر کا ذکر ہے اس لئے فجر اور عصر کے فرض کے بعد اسی ہیئت نماز پر یہ دعاء پڑھی جائے تو اس کے پڑھنے والے کو مذکورہ ثواب حاصل ہوگا۔ (اعلاء السنن)