English
Rifa'ah ibn Rafi' (may Allah be pleased with him) narrated: I was praying behind the Messenger of Allah (peace be upon him) when I sneezed and said,
"Praise of Allah in abundance, pure and blessed, as our Lord loves and is pleased with." When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished the prayer, he turned and said, "Who was speaking during the prayer?" No one spoke. He asked a second time, and no one spoke. He asked a third time, and Rifa'ah said, "It was me, O Messenger of Allah." The Prophet (peace be upon him) said, "By the One in Whose hand is my soul, over thirty angels rushed to take it up." [Narrated by Al-Tirmidhi, Abu Dawud, and Al-Nasa’i]
Ibn Al-Malik said: This hadith indicates the permissibility of praising Allah after sneezing during prayer, according to the correct and relied-upon opinion, unlike the narration of invalidation, which is anomalous. However, it is better to praise Allah silently or remain silent to avoid disagreement, as mentioned in "Sharh Al-Munyah." The hadith can also be understood as referring to the time before speech during prayer was prohibited, as stated in "Al-Mirqah."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٤٦ - وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ (رضي الله عنه) قَالَ : صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ فَعَطَسْتُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ، مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ انْصَرَفَ ، فَقَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ؟» فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّانِيَةَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ أَحَدٌ ، ثُمَّ قَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقَالَ رِفَاعَةُ: أَنَا يَا رَسُوْلَ اللهِ. فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدِ ابْتَدَرَهَا بِضْعَةٌ وَثَلَاثُوْنَ مَلَكًا أَيُّهُمْ يَصْعَدُ بِهَا». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.
قَالَ ابْنُ الْمَلِكِ: يَدُلُّ الْحَدِيثُ عَلَى جَوَازِ الْحَمْدِ لِلْعَاطِسِ فِي الصَّلَاةِ، يَعْنِي عَلَى الصَّحِيحِ الْمُعْتَمَدِ، بِخَلَافِ رِوَايَةِ الْبُطْلَانِ؛ فَإِنَّهَا شَاذَّةٌ، لَكِنَّ الْأَوْلَى أَنْ يَحْمَدَ فِي نَفْسِهِ أَوْ يَسْكُتَ؛ خُرُوجًا مِنَ الْخِلَافِ، عَلَى مَا فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ». وَالْحَدِيثُ يُمْكِنُ حَمْلُهُ عَلَى مَا قَبْلَ نَسْخِ الْكَلَامِ فِي الصَّلَاةِ، كَذَا فِي الْمِرْقَاةِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1531
رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی (نماز کی حالت میں) مجھے چھینک آ گئی تو میں نے کہا
(سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے، ایسی تعریف جو کثرت سے کی جائے جو ریا سے پاک ہو اور خلوص
سے کی جائے جس میں برکت ہی برکت ہو اور جو تعریف کرنے والے کے لئے بھی باعث برکت ہو
ایسی تعریف جس کو ہمارا پروردگار پسند فرمائے اور تعریف کرنے والے سے راضی ہو جائے۔)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر پلٹے تو ارشاد فرمایا کہ نماز میں چھینک کے
بعد ان کلمات کا کہنے والا کون تھا؟ اس ارشاد کو سن کر کسی نے کچھ نہ کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ
دریافت فرمایا تو بھی کسی نے کچھ نہ کہا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر تیسری دفعہ دریافت فرمایا تو رفاعہؓ
نے عرض کیا کہنے والا میں تھا یا رسول اللہ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس
کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تیس سے زائد فرشتے دوڑے اور ان میں سے ہر ایک کی کوشش یہ
تھی کہ ان کلمات کو لے کر میں آسمان پر چڑھوں۔ (اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Arabic quotation in the English source
الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيْهِ، مُبَارَكًا عَلَيْهِ، كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرْضَى
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 404 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 773 (unverified) 90% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 931 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابن الملک نے کہا ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کی حالت میں نمازی کو چھینک آجائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہ زبان سے الحمدللہ کہے لیکن اولیٰ یہ ہے کہ نمازی چھینک آنے پر الحمدللہ دل سے کہے یا خاموشی اختیار کرے، نہ تو دل سے الحمدللہ کہے اور نہ زبان سے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔