English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "If someone is afflicted with vomiting, a nosebleed, regurgitation, or pre-seminal fluid (madhy), let them leave, perform ablution, and then resume their prayer without speaking." [Narrated by Ibn Majah]
Abdur-Razzaq, Al-Daraqutni, and Al-Bayhaqi narrated a similar report from Ali (may Allah be pleased with him) as a Mawquf (statement of a companion). Al-Daraqutni also narrated it as Mursal (a narration with a missing link in the chain).
In "Al-Fath" and Ibn 'Ayyash: Ibn Ma'in authenticated it, and the addition in the chain from Aisha is acceptable because it comes from a reliable narrator. The Mursal narration is considered evidence according to us and the majority of scholars, as mentioned in "Jami' Al-Athar."
Al-'Ayni said in "Al-Binayah": If you say, "You have relied on two narrations, one Mursal and the other weak," I say: The Mursal does not harm us because it is evidence according to us, and the weak narration is strengthened by what is reported from the companions. Ibn Abi Shaybah narrated in his "Musannaf" from Ali ibn Abi Talib, Abu Bakr As-Siddiq, Salman, Ibn Umar, and Ibn Mas'ud. It is also narrated from the Tabi'in, such as Alqamah, Tawus, Salim ibn Abdullah, Sa'id ibn Jubayr, Ash-Sha'bi, Ibrahim An-Nakha'i, 'Ata', Makhul, and Sa'id ibn Al-Musayyib.
How can one resort to analogy (qiyas) while ignoring the statements of these individuals? Their statements in matters that cannot be understood through analogy are like explicit texts, making them stronger than analogy. Some even said that this issue is based on the consensus of the companions, as it is narrated from Abu Bakr, Umar, Uthman, Ali, the three Abdallahs (Ibn Umar, Ibn Abbas, and Ibn Az-Zubayr), Anas, and Salman, permitting the continuation of prayer. The consensus of their jurists is meant here, and their statements override analogy. This is also narrated from Al-Awza'i, Ibn Abi Layla, Al-Hasan Al-Basri, Sufyan Ath-Thawri, and Abu Salama ibn Abdur-Rahman.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”إِنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَىْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ (یہ نماز ہے اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت (کسی طرح) ٹھیک نہیں، اس بارے میں ملا علی قاری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں کلام ناس کی نماز میں ممانعت مطلقاً مذکور ہے کہ جس میں عمداً یا سہواً واقف سے ہو یا ناواقف سے ہو کسی قسم کی قید نہیں ہے اور اس طرح مطلقاً ممانعت میں ہمارے لئے اس بات کی دلیل ہے کہ نماز میں کلام ناس عمداً ہو یا سہواً اصلاح نماز کے لئے ہو یا کسی اور غرض کے لئے واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے یہ سب نماز کو باطل کر دیتے ہیں، جیسا کہ ہدایہ میں مذکور ہے، اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ناواقف شخص سے نماز کے بعد ارشاد فرمایا کہ نماز ایسی چیز ہے کہ اس میں کسی قسم کا کلام ناس کسی طرح ٹھیک نہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مطلق ہونے کی وجہ سے ایسا ہی نماز کے منافی اور مفسد ہے، جیسا کہ نماز میں کھانا پینا نماز کے منافی اور مفسد ہے۔ صاحب عنایہ نے لکھا ہے کہ اس حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی ہیئت ہی ایسی ہے کہ اس میں کلام ناس یعنی لوگوں سے بات چیت کا نہ ہونا ایسا ہی ضروری ہے جیسا کہ نماز میں طہارت کا ہونا ضروری ہے تو جس طرح بغیر طہارت کے نماز جائز نہیں ہوتی اسی طرح کلام ناس سے بھی نماز جائز نہیں ہوتی، اور یہ ایک واضح بات ہے۔ (عنایہ کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) جامع الآثار میں لکھا ہے کہ یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ نکرہ جب نفی کے تحت واقع ہوتا ہے تو اس سے عموم کا فائدہ حاصل ہوتا ہے اس قاعدہ کو پیش نظر رکھ کر حدیث شریف کے الفاظ ”أَنَّ هٰذِهِ الصَّلَاةَ لَا يَصْلُحُ فِيهَا شَیْءٌ مِنْ كَلَامِ النَّاسِ“ پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لفظ شَیْءٌ نکرہ ہے اور نفی یعنی ”لَا يَصْلُحُ“، کے تحت واقع ہے جس سے وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گیا کہ ہر قسم کا کلام ناس عمداً ہو کہ سہواً ہو، واقف شخص سے ہو یا ناواقف شخص سے نماز کے منافی اور مفسد ہوگا۔ (جامع الآثار کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) اب رہی یہ بات کہ پھر کس وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا تو اس بارے میں امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ حدیث شریف میں ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کے حکم کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو واقعۃً نماز کے لوٹانے کا حکم نہیں دیا۔ امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صحابی کو نماز کے لوٹانے کا حکم تو دیا ہو لیکن انہوں نے اس حدیث میں اس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ (امام طحاوی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) امام طحاوی رحمہ اللہ کے اس قول کی تائید ترمذی کے قول اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس کی روایت خود ترمذی نے اس طرح کی ہے۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اس طرح بات چیت کر لیا کرتے تھے کہ ایک ساتھی اپنے پاس والے ساتھی سے بول لیا کرتا تھا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی ”وَقُوْمُوْا لِلّٰهِ قٰنِتِيْنَ“ (نماز میں اللہ کے سامنے خاموش ہو کر کھڑے رہو) پھر ہم لوگوں کو خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور بولنے سے منع کیا گیا۔ امام ترمذی اس حدیث کی روایت کر کے فرماتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور سب علماء کہتے ہیں کہ جو شخص نماز میں جان بوجھ کر یا بھول کر بات کر لے تو وہ نماز کو لوٹائے، امام سفیان ثوری اور امام ابن مبارک کا یہی قول ہے۔ (ترمذی کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔) خلاصہ بحث یہ ہے کہ امام طحاوی رحمة اللہ علیہ نے معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ کو نماز کے اعادہ کا حکم فرمانا ممکن بتلایا ہے لیکن ترمذی کے اس مذکورہ قول سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کے اعادہ کا حکم یقیناً ہوا ہوگا۔