English
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Kill the two black things during prayer: the snake and the scorpion."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 921 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 390 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ اس حدیث شریف میں سانپ اور بچھو کو نماز کی حالت میں مارنے کا جو حکم ہوا ہے وہ مطلق حکم ہے اور اس میں کسی قسم کی قید نہیں ہے اس لئے ان کے مارنے میں ایک ضرب سے کام لیا جائے یا متعدد ضربات سے نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ کہ یہ عمل کثیر ہے، ایسا ہی ان کے مارنے میں تین یا تین سے زائد قدم جانا پڑے تو اس سے بھی نماز فاسد نہ ہوگی، اگرچہ کہ یہ بھی عمل کثیر ہے، ایسا (قبلہ سے سینہ پلٹ جانے پر نماز کے فاسد نہ ہونے کا یہ مسئلہ فتح اللہ المعین علی شرح ملا مسکین، الکنز، نور الایضاح، مراقی الفلاح اور حاشیہ طحطاوی سے ماخوذ ہے۔) ہی ان کے مارنے میں سینہ قبلہ سے پلٹ جائے تو بھی نماز فاسد نہیں ہوگی اگرچہ کہ یہ عمل بھی مفسد نماز ہے اس لئے کہ یہ سب عمل کثیر اصلاح نماز کے لئے کئے جا رہے ہیں، اگر ایسا نہ کیا جائے گا تو ضرر کے اندیشہ سے دل بٹ جائے گا اور اطمینان و جمعیت باقی نہیں رہے گی اور یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ نماز میں وضو ٹوٹ جانے سے اصلاح نماز کے لئے عمل کثیر کر کے وضو کرنے کی غرض سے چلنے کی اجازت ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ نماز کی حالت میں سانپ اور بچھو کو مارنے سے متعلق دو حکم ہیں، ایک مستحب اور دوسرے واجب، اگر خود نمازی کو ان سے ضرر کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی صورت میں ان کو مارنا مستحب ہوگا، برخلاف اس کے اگر خود نمازی کو ان سے ضرر کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں ان کو مارنا واجب ہوگا اور اگر ان کے ضرر کے اندیشہ سے نماز توڑ دی جائے تو بھی درست ہے، اگر نماز توڑے بغیر ان کو مار ڈالا جائے تو ان کے مارنے کے لئے نماز جہاں سے چھوڑی گئی تھی پھر وہیں سے شروع کی جائے، نئے سرے سے پھر نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں۔ (درمختار، ردالمحتار، ہدایہ، فتح القدیر، عنایہ، عمدۃ الرعایۃ، اعلاء السنن، فتح اللہ المعین علی شرح ملا مسکین، الکنز، مراقی الفلاح شرح نور الایضاح برحاشیہ طحطاوی۔)