English
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (peace be upon him) was praying a voluntary prayer with the door closed. I came and asked for it to be opened, so he walked, opened it for me, and then returned to his place of prayer. 1 She mentioned that the door was in the direction of the Qiblah.
العربية
Typed, pending editorial approval
١٣٥٧ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ يُصَلِّي تَطَوُّعًا وَالْبَابُ عَلَيْهِ مُغْلَقُ، فَجِئْتُ فَاسْتَفْتَحْتُ فَمَشَى، فَفَتَحَ 1 لِي ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مُصَلَّاهُ، وَذَكَرَتْ أَنَّ الْبَابَ كَانَ فِي الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ، وَرَوَى النَّسَائِيُّ نَحْوَهُ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1543
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں کہ میں آئی اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ مبارک میں نماز پڑھ رہے تھے اور حجرہ کا دروازہ بند تھا میں دروازہ
کھلوائی تو حضور علیہ السلام چل کر میرے لئے دروازہ کھول دیئے پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم (الٹے
قدم) اپنی جگہ لوٹ آئے اور مجھے یاد ہے کہ حجرہ مبارک کا دروازہ قبلہ رخ تھا۔ (اس کی روایت امام
احمد، ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے اور نسائی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 922 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 601 (unverified) 96% confidence
- Candidate: Sunan al-Nasa'i 1206 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) His statement: "He opened it for me and then returned to his place of prayer." It is mentioned in "Al-Hilyah" in the chapter on disliked actions: Walking during prayer is either without an excuse or with an excuse. If it is without an excuse and is excessive and continuous, it invalidates the prayer, even if one does not turn away from the Qiblah. If it is excessive but not continuous, or if it is minimal, and one turns away from the Qiblah, the prayer is invalidated due to the contradiction without necessity; otherwise, it is not. It is disliked because what invalidates in large amounts is disliked in small amounts without necessity. If it is with an excuse, such as for purification due to an unexpected impurity or during the prayer of fear, it does not invalidate the prayer and is not disliked, whether minimal or excessive, and whether one turns away from the Qiblah or not. If it is for other reasons and one turns away from the Qiblah, the prayer is invalidated, whether minimal or excessive. If one does not turn away, minimal walking does not invalidate the prayer and is not disliked, but excessive and continuous walking invalidates it. As for non-continuous excessive walking, there is disagreement over whether it invalidates or is disliked. Reflect on this. (Summarized) It is also said in this Chapter on What appears is that non-continuous excessive walking is neither invalidating nor disliked if it is for an excuse, absolutely.
Note 1
(۱) قوله: ففتح لي ثم رجع إلى مصلاه: وذكر في الحلية» في فصل المكروهات»: أن المشي لا يخلو إما أن يكون بلا عذر أو بعذر، فالأول إن كان كثيرًا متواليا تفسد وإن لم يستدبر القبلة، وإن كان كثيرًا غير متوال، بل تفرق في ركعات أو كان قليلا، فإن استدبرها فسدت صلاته للمنافي بلا ضرورة، وإلا فلا، وكُره لما عرف أن ما أفسد كثيره کره قليله بلا ضرورة. وإن كان بعذر، فإن كان للطهارة عند سبق الحدث أو في صلاة الخوف، لم يفسدها ولم يكره، قل أو كثر استدبر أو لا. وإن كان لغير ما ذكر، فإن استدبر معه فسدت، قل أو كثر. وإن لم يستدبر، فإن قل لم يُفسد ولم يكره، وإن كان كثيرًا متلاحقا أفسد، وأما غير المتلاحق ففي كونه مفسدا أو مكروها خلاف، فتأمل، انتهى ملخصا. وقال في هذا الباب: والذي يظهر أن الكثير الغير المتلاحق غير مفسد ولا مكروه إذا كان لعذر مطلقا.
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں تین چیزیں قابل غور ہیں: (1) ایک یہ کہ دروازہ کھولنا، (2) دوسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلنا اور (3) تیسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے بعد پھر اپنی جگہ پر واپس ہونا، دروازہ کھولنے کے بارے میں بحر الرائق میں لکھا ہے کہ دروازہ کا بند کرنا تو عمل کثیر ہے لیکن دروازہ کا کھولنا عمل کثیر نہیں بلکہ یہ عمل قلیل ہے، اس لئے یہاں جو دروازہ کھولا گیا ہے عمل قلیل ہونے سے مفسد نماز نہیں ہوا۔ دوسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے لئے چلنا، تو اس بارے میں اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ حجرہ مبارک اس قدر تنگ تھا کہ دروازہ کھولنے کے لئے ایک یا دو قدم سے زیادہ چلنے کی گنجائش ہی نہ تھی، اس لئے حدیث شریف میں دروازہ کھولنے کے لئے چلنے کا جو ذکر ہے وہ ایک یا دو قدم چلنے کی وجہ سے عمل کثیر نہیں ہوگا بلکہ عمل قلیل ہی ہے، اس لئے یہ بھی مفسد نماز نہیں ہوا۔ تیسرے یہ کہ دروازہ کھولنے کے بعد اپنی جگہ پر واپس ہونا، تو اس بارے میں مرقات میں لکھا ہے کہ دروازہ کھولنے کے لئے آگے چلنا اور پھر واپس ہونا عمل کثیر تو ہے مگر اس لئے مفسد نماز نہیں کہ یہ چلنا اور واپس ہونا پے در پے نہیں تھا، اس لئے کہ دروازہ کھولنے میں ایک رکن کی ادائی کے مقدار وقت صرف ہونے کے بعد واپسی ہوئی اور نماز میں ایک رکن کی مقدار ٹھہر ٹھہر کر چلنا پے در پے نہ ہونے سے مفسد نماز نہیں ہوتا ہے جیسا کہ ردالمحتار میں لکھا ہے کہ نماز کی حالت میں بقدر ایک مصلّٰی (یعنی قدم سے لے کر سجدہ کی جگہ) قبلہ رخ ایک یا دو قدم میں چل کر ایک رکن کی ادائی کی مقدار ٹھہرنے کے بعد پھر اتنا ہی چلنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی، چونکہ اس حدیث شریف میں بھی ایسا ہی ہوا ہے اس لئے یہ عمل بھی مفسد نماز نہیں ہوا۔ ف(2): حلیہ کی فصل مکروہات میں مذکور ہے کہ نماز کی حالت میں مشی یعنی چلنے کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں، ایک یہ کہ نمازی نماز میں بلا عذر چلے اور دوسرے یہ کہ نمازی کا نماز میں چلنا کسی عذر کی وجہ سے ہو، نماز میں بلا عذر چلنے کی بھی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ چلنا کثیر ہو، اور پے در پے ہو تو اس صورت میں نماز فاسد ہوجائے گی اگرچہ کہ نمازی قبلہ رخ ہی کیوں نہ چلے، دوسرے یہ چلنا کثیر ہو لیکن پے در پے نہ ہو، بلکہ کئی رکعتوں میں متفرق طور پر چلا ہو تو اس صورت میں اگر نمازی کا سینہ قبلہ کی طرف سے پلٹ جائے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر نمازی کا سینہ قبلہ کی طرف سے نہ پلٹے تو نماز فاسد نہیں ہوگی بلکہ مکروہ ہوگی، اگر نمازی نے نماز میں بلا عذر مشی قلیل کی اور اس کا سینہ قبلہ کی طرف سے پلٹ جائے تو مشی قلیل ہونے کے باوجود بھی نماز فاسد ہوجائے گی، اگر سینہ قبلہ کی طرف سے نہ پلٹا ہو تو نماز مکروہ ہوگی۔ واضح ہو کہ مذکورہ صورتیں نماز میں بلا عذر چلنے کی تھیں اب نماز میں عذر کے ساتھ چلنے کی صورتیں ملاحظہ ہوں۔ اگر نماز کی حالت میں مشی عذر کی وجہ سے ہو جیسے نماز میں وضوء ٹوٹنے کی صورت میں وضوء کرنے کی خاطر چلا ہو یا صلاۃ خوف یعنی جہاد میں جو نماز ادا کی جاتی ہے اس میں چلنے کی نوبت آئی ہو یا نماز کی حالت میں (سانپ اور بچھو کو مارنے کے لئے چلنے کی ضرورت ہوئی ہو تو ان صورتوں میں نماز میں چلنے سے نماز نہ تو فاسد ہوگی اور نہ مکروہ ہوگی، خواہ مشی قلیل ہو یا کثیر ہو، اور چلنے میں سینہ قبلہ کی طرف سے پلٹا ہو یا نہ ہو، ان مذکورہ صورتوں میں یعنی صلاۃ خوف یا نمازی کا حدث کے بعد وضوء کے لئے مشی کرنا یا سانپ اور بچھو کو مارنے کے لئے نماز میں چلنا ان کے علاوہ اگر کسی اور عذر کے بناء پر نمازی نے مشی قلیل کی ہو، یا مشی کثیر جس میں اس نے اپنا سینہ قبلہ کی جانب سے پلٹ دیا ہو تو اس سے نماز فاسد ہو جائے گی، اگر نماز کی حالت میں عذر کی وجہ مشی قلیل کی ہو تو اس سے نہ تو نماز فاسد ہوتی ہے نہ مکروہ، بشرطیکہ چلنے میں نمازی کا سینہ قبلہ کی جانب سے نہ پلٹا ہو، اگر نماز میں عذر کی وجہ سے مشی کثیر ہو اور پے درپے ہو تو یہ مشی نماز کو فاسد کردے گی اور اگر مشی کثیر ہو لیکن پے درپے اور متواتر نہ ہو تو ایسی مشی کے مفسد نماز ہونے یا مکروہ ہونے میں اختلاف ہے لیکن بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نمازی نے نماز میں مشی کثیر کی ہو، جو پے درپے نہ ہو تو وہ نماز کو فاسد نہیں کرتی اور نہ تو اس سے نماز مکروہ ہوتی ہے بشرطیکہ یہ مشی مطلق عذر کی بناء پر کی گئی ہو۔