Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1412

(یہ باب ان اوقات کے بیان میں ہے جن میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع یا مکروہ ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب ان اوقات کے بیان میں ہے جن میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع یا مکروہ ہے)

Zujajat al-Masabih 1412Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1617
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں مدینہ پہنچ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوا، میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ارشاد ہو کہ وہ اوقات کیا ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز ہے اور یہ بھی ارشاد ہو کہ وہ اوقات کون سے ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: (اچھا سنو) فجر کی نماز سنت اور فرض جب اس کے مستحب وقت میں پڑھو تو پھر نفل نماز اس وقت تک نہ پڑھنا کہ سورج نکل کر (ایک نیزہ برابر) اونچا نہ ہو جائے۔ (سورج نکلنے کے وقت ایک نفل ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس وقت تو کل نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ بھی ممنوع ہیں) کیونکہ سورج جب نکلتا ہے تو شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان سے نکلتا ہے، یہ ایسا شیطانی وقت ہے جس میں کفار سورج کو سجدہ کیا کرتے ہیں (اور سورج کی یہ پرستش حقیقت میں شیطان ہی کی پرستش ہے اور چونکہ اس وقت عبادت کرنے سے کفار کے فعل سے مشابہت ہوتی ہے، اس لئے تمام مذکورہ عبادتوں سے منع کیا گیا) پھر جب سورج نیزہ برابر اونچا ہو جائے تو (اشراق اور چاشت اور ان کے سوا جو نفل نماز چاہے پڑھو اس لئے کہ یہ مقبولیت کا وقت ہے) ان اوقات میں فرشتے حاضر ہوا کرتے ہیں اور اس وقت تم جو نمازیں ادا کرو گے فرشتے اس پر گواہ رہیں گے (یہ مقبولیت کا وقت اس وقت تک رہتا ہے جبکہ سایہ نیزہ کے قدم میں غائب ہو جائے، یعنی ٹھیک دوپہر ہو جائے تو اس وقت نہ کوئی نماز پڑھنا اور نہ سجدۂ تلاوت ادا کرنا اور نہ نماز جنازہ) کیونکہ اس وقت دوزخ کی آگ دہکائی جاتی ہے، پھر جب سایہ ڈھل جائے یعنی زوال ہو جائے تو اس وقت ظہر اور نوافل جو چاہو ادا کرو (کیونکہ زوال کے بعد مقبولیت کا وقت شروع ہوتا ہے) اس لئے اس وقت بھی فرشتے حاضر ہوا کرتے ہیں، اور اس وقت تم جو نمازیں پڑھو گے فرشتے اس پر گواہ رہیں گے۔ پھر جب تم نماز عصر پڑھو تو نفل نماز سے رک جاؤ، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے (سورج ڈوبتے وقت ایک نفل ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس وقت تو کل نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ بھی ممنوع ہے) کیونکہ سورج جب ڈوبتا ہے تو شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان میں ڈوبتا ہے (اور یہ ایسا شیطانی وقت ہے) جس میں کفار سورج کو سجدہ کیا کرتے ہیں۔ (اور سورج کی یہ پرستش حقیقت میں شیطان ہی کی پرستش ہے اور چونکہ اس وقت عبادت کرنے سے کفار کے فعل سے مشابہت ہوتی ہے اس لئے تمام مذکورہ عبادتوں سے منع کیا گیا) پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ (نماز کے ممنوعہ اوقات تو معلوم کرلیا) اب کچھ وضوء کی فضیلت بیان فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو عمرو! جب تم میں سے کوئی شخص وضوء (کی نیت سے) وضوء کا پانی لے کر بیٹھے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے پہنچوں تک ہاتھ دھو کر منہ اور ناک میں پانی ڈال کر منہ دھوتا ہے تو منہ کے گناہ (مثلاً ناجائز کھانا کھانے اور ناجائز کلام کرنے سے ہوئے ہوں) اس کے منہ کے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ایسا ہی ناک کے گناہ (مثلاً حرام پیسے سے خریدی ہوئی خوشبو سونگھتا ہے) اس کے ناک کے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ چہرہ کے ظاہری حصّہ کو دھوتا ہے جس کے دھونے کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے تو اس کے چہرہ کے گناہ (مثلاً آنکھوں کے گناہ) اس کے داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لیتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کے گناہ اس کے انگلیوں کے سروں سے نکل کر پانی کے ساتھ بہہ کر کہنیوں سے ہوتے ہوئے گر جاتے ہیں پھر جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ پانی کی تری کے ساتھ اس کے سر کے بالوں کے کناروں سے گر جاتے ہیں (اسی طرح کانوں کا مسح کرتے وقت کانوں کے گناہ بھی پانی کی تری کے ساتھ کانوں سے گر جاتے ہیں) (جیسا کہ مرقاۃ میں مذکور ہے۔12) پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لیتا ہے تو دونوں پاؤں کے گناہ پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے نکل کر پانی کے ساتھ بہہ کر ایڑیوں سے ہوتے ہوئے گر جاتے ہیں (اور اس طرح کے وضوء سے ظاہری طہارت حاصل ہو جاتی ہے) پھر جب نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے اور (نماز میں) اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی عظمت بیان کرتا ہے جس کا وہ سزاوار ہے اور حتی الامکان حضور قلب کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے (جس سے اس کو باطنی طہارت حاصل ہو جاتی ہے) پھر جب وہ اس طرح نماز ختم کرتا ہے تو ان دونوں ظاہری و باطنی طہارتوں کی وجہ سے وہ گناہوں سے) اس طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت گناہوں سے پاک و صاف تھا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 832 (unverified) 98% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.