English
Amr ibn Abasah (may Allah be pleased with him) narrated that when the Prophet (peace be upon him) arrived in Madinah, he went to him and asked, "Tell me about prayer." The Prophet (peace be upon him) said, "Pray the Fajr prayer, then refrain from prayer until the sun has fully risen, for it rises between the horns of Satan, and at that time the disbelievers prostrate to it. Then pray, for the prayer is witnessed and attended by angels until the shadow of a spear is at its shortest. Then refrain from prayer, for at that time Hell is stoked. When the shadow begins to lengthen, pray, for the prayer is witnessed and attended by angels until you pray Asr. Then refrain from prayer until the sun has fully set, for it sets between the horns of Satan, and at that time the disbelievers prostrate to it."
Amr said, "O Prophet of Allah, tell me about ablution." The Prophet (peace be upon him) said, "When one of you performs ablution, rinses his mouth, and cleans his nose, the sins of his face and nostrils fall away. When he washes his face as Allah has commanded, the sins of his face fall from the edges of his beard with the water. When he washes his hands up to the elbows, the sins of his hands fall from his fingertips with the water. When he wipes his head, the sins of his head fall from the ends of his hair with the water. When he washes his feet up to the ankles, the sins of his feet fall from his toes with the water. If he then stands to pray, praises Allah, glorifies Him, and devotes his heart to Allah, he emerges from his sins as pure as the day he was born."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤١٢ - وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَدِمَ النَّبِيُّ ﷺ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ. فَقَالَ: صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حِيْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ، ثُمَّ صَلَّ؛ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةُ مَحْضُورَةٌ، حَتَّى يَسْتَقِلَّ الظُّلُّ بِالرُّمْحِ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ؛ فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ، فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْءُ فَصَلِّ؛ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُوْرَةٌ، حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ، وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ».
قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، فَالْوُضُوْءَ حَدَّثْنِي عَنْهُ. قَالَ: «مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يُقَرِّبُ وَضُوْءَهُ فَيُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ فَيَنْتَثِرُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ وَفِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ، ثُمَّ إِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مِنْ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ. ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ. ثُمَّ يَمْسَحُ رَأْسَهُ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ إِلَّا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ. فَإِنْ هُوَ قَامَ فَصَلَّى فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَتَجَدَهُ بِالَّذِي هُوَ لَهُ أَهْلُ وَفَرَّغَ قَلْبَهُ لِلَّهِ، إِلَّا انْصَرَفَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1617
عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ
وسلم مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میں مدینہ پہنچ کر خدمت اقدس میں حاضر ہوا، میں نے عرض
کیا کہ یا رسول اللہ ارشاد ہو کہ وہ اوقات کیا ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز ہے اور یہ بھی ارشاد ہو کہ وہ
اوقات کون سے ہیں جن میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: (اچھا
سنو) فجر کی نماز سنت اور فرض جب اس کے مستحب وقت میں پڑھو تو پھر نفل نماز اس وقت تک نہ
پڑھنا کہ سورج نکل کر (ایک نیزہ برابر) اونچا نہ ہو جائے۔ (سورج نکلنے کے وقت ایک نفل ہی کی
ممانعت نہیں ہے بلکہ اس وقت تو کل نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ بھی ممنوع ہیں) کیونکہ
سورج جب نکلتا ہے تو شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان سے نکلتا ہے، یہ ایسا شیطانی
وقت ہے جس میں کفار سورج کو سجدہ کیا کرتے ہیں (اور سورج کی یہ پرستش حقیقت میں شیطان ہی
کی پرستش ہے اور چونکہ اس وقت عبادت کرنے سے کفار کے فعل سے مشابہت ہوتی ہے، اس لئے
تمام مذکورہ عبادتوں سے منع کیا گیا) پھر جب سورج نیزہ برابر اونچا ہو جائے تو (اشراق اور چاشت
اور ان کے سوا جو نفل نماز چاہے پڑھو اس لئے کہ یہ مقبولیت کا وقت ہے) ان اوقات میں فرشتے
حاضر ہوا کرتے ہیں اور اس وقت تم جو نمازیں ادا کرو گے فرشتے اس پر گواہ رہیں گے (یہ مقبولیت کا
وقت اس وقت تک رہتا ہے جبکہ سایہ نیزہ کے قدم میں غائب ہو جائے، یعنی ٹھیک دوپہر ہو جائے تو
اس وقت نہ کوئی نماز پڑھنا اور نہ سجدۂ تلاوت ادا کرنا اور نہ نماز جنازہ) کیونکہ اس وقت دوزخ کی
آگ دہکائی جاتی ہے، پھر جب سایہ ڈھل جائے یعنی زوال ہو جائے تو اس وقت ظہر اور نوافل جو
چاہو ادا کرو (کیونکہ زوال کے بعد مقبولیت کا وقت شروع ہوتا ہے) اس لئے اس وقت بھی فرشتے
حاضر ہوا کرتے ہیں، اور اس وقت تم جو نمازیں پڑھو گے فرشتے اس پر گواہ رہیں گے۔ پھر جب تم نماز
عصر پڑھو تو نفل نماز سے رک جاؤ، یہاں تک کہ سورج ڈوب جائے (سورج ڈوبتے وقت ایک نفل
ہی کی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس وقت تو کل نمازیں، سجدۂ تلاوت اور نماز جنازہ بھی ممنوع ہے)
کیونکہ سورج جب ڈوبتا ہے تو شیطان کے سر کے دونوں جانبوں کے درمیان میں ڈوبتا ہے (اور یہ
ایسا شیطانی وقت ہے) جس میں کفار سورج کو سجدہ کیا کرتے ہیں۔ (اور سورج کی یہ پرستش حقیقت
میں شیطان ہی کی پرستش ہے اور چونکہ اس وقت عبادت کرنے سے کفار کے فعل سے مشابہت ہوتی
ہے اس لئے تمام مذکورہ عبادتوں سے منع کیا گیا) پھر عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول
اللہ (نماز کے ممنوعہ اوقات تو معلوم کرلیا) اب کچھ وضوء کی فضیلت بیان فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: سنو عمرو! جب تم میں سے کوئی شخص وضوء (کی نیت سے) وضوء کا پانی لے کر
بیٹھے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے ہوئے پہنچوں تک ہاتھ دھو کر منہ اور ناک میں پانی ڈال کر منہ دھوتا
ہے تو منہ کے گناہ (مثلاً ناجائز کھانا کھانے اور ناجائز کلام کرنے سے ہوئے ہوں) اس کے منہ کے
پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں ایسا ہی ناک کے گناہ (مثلاً حرام پیسے سے خریدی ہوئی خوشبو سونگھتا ہے)
اس کے ناک کے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں۔ پھر جب وہ چہرہ کے ظاہری حصّہ کو دھوتا ہے جس
کے دھونے کو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے تو اس کے چہرہ کے گناہ (مثلاً آنکھوں کے گناہ) اس کے
داڑھی کے کناروں سے پانی کے ساتھ جھڑ جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں
سمیت دھو لیتا ہے تو اس کے دونوں ہاتھوں کے گناہ اس کے انگلیوں کے سروں سے نکل کر پانی کے
ساتھ بہہ کر کہنیوں سے ہوتے ہوئے گر جاتے ہیں پھر جب وہ سر کا مسح کرتا ہے تو اس کے سر کے گناہ
پانی کی تری کے ساتھ اس کے سر کے بالوں کے کناروں سے گر جاتے ہیں (اسی طرح کانوں کا مسح
کرتے وقت کانوں کے گناہ بھی پانی کی تری کے ساتھ کانوں سے گر جاتے ہیں) (جیسا کہ مرقاۃ
میں مذکور ہے۔12) پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں کو ٹخنوں سمیت دھو لیتا ہے تو دونوں پاؤں کے
گناہ پاؤں کی انگلیوں کے سروں سے نکل کر پانی کے ساتھ بہہ کر ایڑیوں سے ہوتے ہوئے گر جاتے
ہیں (اور اس طرح کے وضوء سے ظاہری طہارت حاصل ہو جاتی ہے) پھر جب نماز پڑھنے کھڑا
ہوتا ہے اور (نماز میں) اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور اس کی عظمت بیان کرتا ہے جس کا وہ سزاوار ہے اور حتی
الامکان حضور قلب کے ساتھ نماز ادا کرتا ہے (جس سے اس کو باطنی طہارت حاصل ہو جاتی ہے)
پھر جب وہ اس طرح نماز ختم کرتا ہے تو ان دونوں ظاہری و باطنی طہارتوں کی وجہ سے وہ گناہوں
سے) اس طرح پاک و صاف ہو جاتا ہے جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہونے کے وقت گناہوں سے
پاک و صاف تھا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 832 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.