English
Abu Bakrah (may Allah be pleased with him) narrated that he came to the Prophet (ﷺ) while he was bowing, so he bowed before reaching the row, then walked to the row. He mentioned this to the Prophet (ﷺ), who said: "May Allah increase you in eagerness, but do not repeat it."
العربية
Typed, pending editorial approval
١٤٨٥ - وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ (رضي الله عنه): أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ ﷺ وَهُوَ رَاكِعُ، فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، ثُمَّ مَشَى إِلَى الصَّفِّ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ، فَقَالَ: «زَادَكَ اللهُ حِرْصًا، وَلَا تَعُدْ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1696
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے اور) وہ خدمت اقدس میں ایسے وقت پہنچے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم رکوع میں تھے (رکوع میں شریک ہونے کے لئے وہ دوڑتے ہوئے چلے، جس سے ان کی سانس
پھول گئی تو وہ صف کے پیچھے کھڑے ہوگئے، نیت کی اور تکبیر تحریمہ اداء کئے) پھر صف تک پہنچنے سے
پہلے (دوسری تکبیر کہتے ہوئے) وہیں رکوع کئے۔ پھر (رکوع ہی کی حالت میں ایک یا دو قدم) چل کر
صف میں شریک ہوگئے (ختم نماز پر جب) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے ابوبکرہ! اللہ تعالیٰ اسی طرح (نیک کاموں پر)
تمہاری حرص بڑھادے، یہ کہہ کر حضور نے فرمایا ”لَا تَعُدْ“ (تاء کے زبر، عین کے پیش، دال کے
جزم کے ساتھ) دوبارہ ایسا نہ کرنا (یعنی نماز کے لئے دوڑ کر نہ چلنا (جیسا کہ ایک روایت میں
”لَا تَعْدُ“ (تاء کے زبر، عین کے جزم، دال کے پیش کے ساتھ۔12) صف کے پیچھے تنہا نماز شروع
نہ کرنا اور پھر صف میں شریک ہونے کے لئے نماز کی حالت میں ایسا نہ چلنا) (چونکہ اس واقعہ میں
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے کوئی ایسا فعل سرزد نہیں ہوا جو مفسد نماز ہو، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے آپ کو نماز کے اعادہ کا حکم نہیں دیا) اسی لئے ایک روایت میں ”لَا تُعِدْ“ (تاء کے پیش، عین
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 783 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
کے زیر، دال کے جزم کے ساتھ۔12) آیا ہے جس کے معنی ہیں ”نماز کو نہ لوٹاؤ“۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)