اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1703
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم جب اس مرض سے بیمار ہوئے (جس کے بعد آپ دنیا سے تشریف لے گئے) اور یہ بیماری
بہت بڑھ گئی (اور ناتوانی بیحد ہوگئی جس کی وجہ سے آپ باہر نہیں تشریف لاسکتے تھے، اس حالت میں
مؤذن نے حاضر ہوکر جماعت کے تیار ہونے کی اطلاع دی) تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد
فرمایا: ابوبکر (رضی اللہ عنہ) سے کہو کہ (امام ہوکر) وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں (اس پر) ام المؤمنین
عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: حضور! وہ بہت نرم دل (آدمی) ہیں (جب آپ کی جگہ خالی دیکھیں
گے تو ان پر ایسی رقت غالب ہوگی کہ) وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوکر (گریہ و بکا کی وجہ سے) لوگوں کو
نماز نہیں پڑھا سکیں گے (یہ سن کر) حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نہیں جی! ابوبکر ہی سے
کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوبارہ وہی عرض کیا جو پہلے عرض
کیا تھا تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے (پھر) ارشاد فرمایا: نہیں! ابوبکر ہی سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز
پڑھائیں، عائشہ! تم تو حضرت یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ کی عورتوں کی طرح معلوم ہوتی ہو
کہ جیسے وہ اپنی بات منوانے اڑی ہوئی تھیں تم بھی اپنی بات منوانے اڑی ہوئی ہو (یہ سن کر ام
المؤمنین خاموش ہوگئیں) اور حضور کی طرف سے پیام پہونچانے والا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر
آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیام پہنچایا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ (حکم کی تعمیل کر کے) حضور علیہ
الصلوٰۃ السلام کے دنیا سے تشریف لے جانے تک لوگوں کو نماز پڑھاتے رہے۔ اس کی روایت
بخاری اور مسلم دونوں نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 678 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 420 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرأت جاننے والا بھی ہو تو عالم کے مقابلہ میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور یہی حنفی مذہب ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اسی لئے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”بَابُ اَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْاِمَامَةِ“ (علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار ہیں) اس حدیث شریف سے حنفی مذہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے جن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اَقْرَؤُكُمْ اُبَيٌّ“ (تم میں سب سے بڑے قاری اُبی ہیں) اس لئے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ”كَانَ اَبُوْبَكْرٍ اَعْلَمَنَا“ (ہم میں سب زیادہ علم والے ابوبکر ہیں) اگر قاری امامت کے لئے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کے لئے حضرت اُبی کو منتخب فرماتے، ایسا نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لئے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بڑے عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لئے ترجیح دی اور یہ آپ کے آخری زمانہ کا واقعہ ہے، اس لئے اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ امامت کے لئے زیادہ علم والے کی زیادہ قرأت والے پر ترجیح قطعی امر ہے۔ (یہ مضمون عمدۃ القاری، فتح القدیر، جامع الآثار اور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دارقطنی کی روایت میں اس طرح ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اور سب سے زیادہ علم دین کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرأت جاننے کے لحاظ سے یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (اگر سب کے سب قرأت کے جاننے میں برابر ہوں تو) امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو گناہوں سے ہجرت (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، یعنی سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقویٰ میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو ان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دوسرے کے حلقہ اثر میں (بغیر اس کی اجازت کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے مخصوص بستر وغیرہ پر اس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے گھر میں (گھر والے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کہ یہ اس سے افضل ہو)۔