Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1492

بَابُ الْإِمَامَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْإِمَامَةِ

Zujajat al-Masabih 1492Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٢ - عَنْ أَبِي مُوسَى (رضي الله عنه) قَالَ: مَرِضَ النَّبِيُّ ﷺ فَاشْتَدَّ مَرَضُهُ، فَقَالَ: «مُرُوْا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ قَالَتْ عَائِشَةُ (رضي الله عنه): إِنَّهُ رَجُلٌ رَقِيقٌ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، قَالَ: «مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَعَادَتْ، فَقَالَ مُرِي أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلَّ بِالنَّاسِ، فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوْسُفَ، فَأَتَاهُ الرَّسُوْلُ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ ﷺ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ. قُلْتُ: تَبْوِيبُ الْبُخَارِيِّ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْأَحَقَّ بِالْإِمَامَةِ هُوَ الْأَعْلَمُ، حَيْثُ قَالَ: «بَابُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ». وَقَالَ عُلَمَاؤُنَا: يُسْتَدَلُّ بِهَذَا الْحَدِيْثِ عَلَى تَقَدُّمِ الْأَعْلَمِ عَلَى الْأَقْرَأ ؛ لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ أَعْلَمَهُمْ وَقَدَّمَ عَلَى أُبَيَّ كَانَ أَقْرَأَهُمْ دَلِيلُ الْأَوَّلِ قَوْلُ أَبِي سَعِيدٍ: كَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَنَا. وَدَلِيْلُ الثَّانِي قَوْلُهُ : أَقْرَؤُكُمْ أُبَيُّ. وَهَذَا آخِرُ الْأَمْرَيْنِ مِنْ رَسُولِ اللهِ اللهِ فَيَكُوْنُ الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ، كَذَا فِي فَتْحِ الْقَدِيرِ وَجَامِعِ الْآثَارِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِلْحَاكِمِ وَالدَّارَقُطْنِي: فَأَفْقَهُهُمْ فِي الدِّيْنِ، فَإِن كَانُوا فِي الْفِقْهِ سَوَاءً فَأَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ». وَفِي رِوَايَةِ مُسْلِمٍ: «فَأَقْدَمُهُمْ هِجْرَةٌ، فَإِنْ كَانُوا فِي الْهِجْرَةِ سَوَاءً فَأَقْدَمُهُمْ سِنًا، وَلَا يَؤْمَنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي سُلْطَانِهِ، وَلَا يَقْعُدُ فِي بَيْتِهِ عَلَى تَكْرِمَتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ». وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى لَهُ: «وَلَا يَؤْمَنَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي أَهْلِهِ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 678 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 420 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اس حدیث شریف سے ثابت ہوا کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اگر جماعت میں سب سے زیادہ قرأت جاننے والا بھی ہو تو عالم کے مقابلہ میں وہ بھی امامت کا مستحق نہیں سمجھا جائے گا اور یہی حنفی مذہب ہے، امام بخاری رحمہ اللہ بھی اسی کے قائل ہیں، اسی لئے انہوں نے صدر کی اس حدیث کو جس باب کے تحت ذکر کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ”بَابُ اَهْلِ الْعِلْمِ وَالْفَضْلِ اَحَقُّ بِالْاِمَامَةِ“ (علماء و فضلاء امامت کے زیادہ حقدار ہیں) اس حدیث شریف سے حنفی مذہب اس طرح ثابت ہو رہا ہے کہ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ قاری حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھے جن کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”اَقْرَؤُكُمْ اُبَيٌّ“ (تم میں سب سے بڑے قاری اُبی ہیں) اس لئے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے ”كَانَ اَبُوْبَكْرٍ اَعْلَمَنَا“ (ہم میں سب زیادہ علم والے ابوبکر ہیں) اگر قاری امامت کے لئے افضل ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امامت کے لئے حضرت اُبی کو منتخب فرماتے، ایسا نہیں ہوا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امامت کے لئے حضرت ابوبکر کو منتخب فرمایا، جس سے صاف ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ علم والا امامت کا سب سے زیادہ مستحق ہے، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بڑے عالم کو امامت کا مستحق قرار دیا، اور امامت کے لئے ترجیح دی اور یہ آپ کے آخری زمانہ کا واقعہ ہے، اس لئے اس کے منسوخ ہونے کا بھی احتمال نہیں ہے۔ اس لئے ثابت ہوا کہ امامت کے لئے زیادہ علم والے کی زیادہ قرأت والے پر ترجیح قطعی امر ہے۔ (یہ مضمون عمدۃ القاری، فتح القدیر، جامع الآثار اور مرقات سے ماخوذ ہے۔12) اور حاکم اور دارقطنی کی روایت میں اس طرح ہے کہ امامت کا مستحق اور امامت کے لئے افضل جماعت میں وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ علم والا ہو، اور سب سے زیادہ علم دین کی سمجھ رکھتا ہو، اگر سب کے سب علم دین کے جاننے میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو سب سے زیادہ قاری ہو، قرأت جاننے کے لحاظ سے یا قرآن زیادہ یاد رکھنے کے لحاظ سے، اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ (اگر سب کے سب قرأت کے جاننے میں برابر ہوں تو) امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو گناہوں سے ہجرت (یہ مرقات سے ماخوذ ہے۔12) کر کے سب سے زیادہ نیکیوں کی طرف آیا ہو، یعنی سب سے زیادہ متقی اور پرہیزگار ہو (اور اگر سب کے سب تقویٰ میں برابر ہوں تو امامت کے لئے سب سے زیادہ مستحق اور افضل وہ ہے جو ان میں زیادہ عمر رسیدہ اور دوسرے کے حلقہ اثر میں (بغیر اس کی اجازت کے) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ اس سے افضل ہو) اور کسی شخص کے مکان میں اس کے مخصوص بستر وغیرہ پر اس کی بغیر اجازت کوئی نہ بیٹھے۔ اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ کسی کے گھر میں (گھر والے کی اجازت کے بغیر) کوئی امامت نہ کرے (اگرچہ کہ یہ اس سے افضل ہو)۔