Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 1493

بَابُ الْإِمَامَةِ

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ الْإِمَامَةِ

Zujajat al-Masabih 1493Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
١٤٩٣ - وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِي قَالَ: كَانَ مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلَى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا. قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهُ: تَقَدَّمْ فَصَلِّهِ، قَالَ لَنَا: قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُوْلُ: «مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمَهُمْ، وَلْيَؤُمَهُمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهُ اقْتَصَرَ عَلَى لَفْظِ النَّبِيِّ ﷺ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 596 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 356 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Sunan al-Nasa'i 786 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جو شخص لوگوں کو ملاقات کو جائے تو ان لوگوں کا امام نہ بنے بلکہ انہیں لوگوں میں سے کوئی امام بنے“ یہ حکم بظاہر مطلق معلوم ہوتا ہے یعنی خواہ مقامی لوگ اجازت دیں یا نہ دیں کسی حال میں بھی ملاقات کے لئے جانے والے کو امام نہ بننا چاہئے۔ مگر حضرت ابن مسعود اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے اسی قسم کی جو حدیثیں مروی ہیں ان میں ”إِلَّا بِإِذْنِهِ“ کا استثناء صاف موجود ہے یعنی ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان لوگوں کی امامت کر سکتا ہے، اس لئے صدر کی حدیث جو مالک ابن الحویرث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بھی ان حدیثوں میں جو اجازت مروی ہے اس سے مقید ہو جائے گی اس لئے ملاقات کو جانے والا مقامی لوگوں کی اجازت سے ان کی امامت کر سکتا ہے۔ اب رہا مالک بن الحویرث رضی اللہ عنہ نے مقامی لوگوں کی اجازت کے باوجود جو امامت نہیں کی تو یہ ان کا اپنا احتیاط تھا کہ انہوں نے اس حدیث شریف کے مطلق حکم کو مطلق رکھا اور باوجود اجازت کے امامت نہیں فرمائی۔ (منتقی، اشعۃ اللمعات)۔