اردو
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے (کچھ عجیب اتفاق ہوا کہ باوجود شہسوار ہونے کے) گھوڑے سے زمین
پر گر پڑے اور حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا دایاں پہلو گرا چھل گیا (جس کی وجہ سے آپ کھڑے ہو کر
نماز نہیں پڑھ سکے) اس لئے ایک فرض نماز کو آپ نے بیٹھے ہوئے پڑھائی اور ہم نے بھی آپ کے
مقتدی ہو کر بیٹھے ہوئے اس فرض نماز کو ادا کیا، جب آپ سلام پھیر کر نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری
طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا اے (صاحبو! تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ امام بنانے کا مقصد کیا ہے؟ سنو!)
امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ امام جیسا کرے مقتدی بھی ویسا ہی کریں (یعنی) جب امام کھڑے ہو کر
نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جس وقت وہ رکوع کرے تو تم بھی اس کے بعد ہی
متصل بلا فصل رکوع کرو اور جب وہ رکوع سے سر اٹھائے تو تم بھی سر اٹھاؤ اور جب وہ ”سَمِعَ اللّٰهُ
لِمَنْ حَمِدَهُ“ کہے تو تم ”رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ“ کہو، اور جب (یہ ایک اضافہ ایک روایت میں مذکور
ہے۔ مرقات۔12) وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو، اور جب امام (کسی عذر سے) بیٹھ کر نماز
پڑھے تو تم سب بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔
اور مسلم کی ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے: تم امام سے اختلاف نہ
کرو! جب وہ سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 689 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور امام بخاری اس حدیث کو بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ان کے استاد حمیدی نے کہا: ”وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا“ (جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد مرض الموت سے بہت پہلے زمانہ کا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کا واقعہ اس کا ناسخ ہے۔ جس میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر امامت فرمائی اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہو کر اقتداء کی اور صحابہ کرام کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم نہیں دیا۔ اس لئے امام کا کسی عذر سے بیٹھ کر امامت کرنا اور مقتدیوں کا بھی بلا عذر بیٹھ کر اقتداء کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض الموت کے واقعہ سے منسوخ ہوگا اور یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ کسی مسئلہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابتدائی زمانہ کا فعل ایک ہو اور آخری زمانہ کا فعل دوسرا ہو تو آخری فعل واجب العمل ہوتا ہے، پہلا فعل منسوخ ہوتا ہے اور آخری فعل ناسخ، اس لئے امام کسی عذر سے بیٹھ کر نماز پڑھے تو مقتدیوں کو کھڑے ہو کر اقتداء کرنا چاہئے۔ (یہ بخاری میں مذکور ہے اور مذہب حنفی بھی یہی ہے۔)