English
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, reported: "I asked Ibn Abbas: 'How was the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him)?' He said: 'I spent a night with him while he was at Maymunah’s house. He slept until a third or half of the night had passed, then he woke up and went to a water skin, performed ablution, and I performed ablution with him. Then he stood up, and I stood to his left. He moved me to his right, placed his hand on my head as if he were touching my ear to wake me, and prayed two brief rak'ahs, reciting Surah Al-Fatihah in each rak'ah. Then he said the Salam. After that, he prayed until he had prayed eleven rak'ahs, including Witr. Then he slept until Bilal came and said: 'The prayer, O Messenger of Allah!' He stood and prayed two rak'ahs, then led the people in prayer.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٥٧٧ - وَعَنْ كُرَيْبٍ - مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ - أَنَّهُ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما): كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بِاللَّيْلِ؟ قَالَ: بِتُ عِنْدَهُ لَيْلَةً وَهُوَ عِنْدَ مَيْمُوْنَةَ، فَنَامَ حَتَّى إِذَا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ اسْتَيْقَظَ فَقَامَ إِلَى شَنَّ فِيْهِ مَاءُ ، فَتَوَضَّأَ وَتَوَضَّأْتُ مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ عَلَى يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَلَى يَمِينِهِ، ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِي كَأَنَّهُ يَمَسُّ أُذُنِي كَأَنَّهُ يُوْقِظُنِي، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ. قَدْ قَرَأَ فِيْهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، ثُمَّ سَلَّمَ. ثُمَّ صَلَّى حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ، ثُمَّ نَامَ فَأَتَاهُ بِلَالٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ يَا رَسُوْلَ اللهِ، فَقَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى لِلنَّاسِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1814
کریب رضی اللہ عنہ مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں
کہ میں نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز
کیسی ہوتی تھی (یہ سن کر) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بسر کی، اس روز آپ (میری خالہ) حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی
اللہ عنہا کے یہاں تشریف فرما تھے، آپ (نماز عشاء کے بعد اوّل شب) آرام فرمائے اور جب
تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو آپ بیدار ہوئے اور ایک مشکیزہ کے پاس تشریف لے جا کر جس میں
پانی تھا وضو فرمائے، میں نے بھی آپ کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور
میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا (یہ میرے
بچپن کا زمانہ تھا اور مجھے کچھ غنودگی تھی، حضور اس کو معلوم کر کے) میرے سر پر آپ نے اپنا دست
مبارک رکھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ میرا کان پکڑ کر مجھے نیند سے جگا رہے ہیں اس کے بعد آپ
نے دو رکعتیں مختصر قرأت کے ساتھ ادا فرمائیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ صرف سورہ فاتحہ پر ہی
اکتفا فرمائے ہیں (حالانکہ آپ مختصر ضم سورہ بھی کئے تھے) پھر آپ ان دو رکعتوں کو ختم فرما کر سلام
پھیر دیئے، اس کے بعد آپ تہجد مع وتر کے گیارہ رکعت ادا فرمائے جس میں آٹھ رکعت تو تہجد کے
تھے اور باقی تین رکعت وتر کے، اس کے بعد پھر آپ سو رہے (اور جب صبح صادق طلوع ہوئی اور
جماعت کا وقت آ گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جماعت تیار ہے تو آپ نے نیند سے بیدار ہو کر دو سنتیں پڑھیں، پھر جا کر لوگوں کو فجر کی فرض نماز
پڑھائی۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1357 (unverified) 75% confidence · Validation similarity: 0.495
Confidence and text similarity are not editorial verification.