Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "The Prophet (peace be upon him) used to pray eleven rak'ahs between finishing Isha and Fajr. He would pray four rak'ahs – do not ask about their beauty and length – then pray another four rak'ahs – do not ask about their beauty and length – then pray three rak'ahs. He would prostrate 1 in each prostration long enough for one of you to recite fifty verses before raising his head. When the Mu’adhdhin fell silent after the Fajr call and the dawn became clear to him, he would stand and pray two brief rak'ahs. If I was awake, he would talk to me; otherwise, he would lie on his right side until the Mu’adhdhin came for the Iqamah, then he would go out (to the mosque)."
[Agreed upon] 2
In a narration by Bukhari: "Then he would pray Witr, lie down until the Mu’adhdhin came, then stand and pray two rak'ahs, then go out to pray Fajr."
In a narration by Abu Dawud: "Then he would lie down until the Mu’adhdhin came to call for Fajr prayer. He would pray two brief rak'ahs, then go out to pray."
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشاء سے فارغ ہونے کے بعد سے لے کر صبح صادق طلوع ہونے تک
کی درمیانی رات میں گیارہ رکعت نماز ادا فرماتے تھے (ان گیارہ رکعت کی تفصیل یہ ہے کہ عشاء
کے بعد آپ آرام فرماتے تھے، پھر تہجد کے لئے بیدار ہو کر پہلے) چار رکعت ادا فرماتے تھے تم ان کی
خوبی اور درازی تو دریافت ہی نہ کرو (کہ وہ کیسی عمدہ اور کس قدر طویل قرأت سے پڑھی جاتی تھیں)
پھر اس کے بعد اور چار رکعتیں پڑھتے تھے، ان کی خوبی اور ان کا طول بھی کچھ نہ پوچھو، (کہ وہ کیسی
عمدہ اور کس قدر طویل قرأت سے ادا کی جاتی تھیں) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر
کے ادا فرماتے تھے۔ (ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ تہجد کی ان آٹھ رکعتوں کو
جس خوبی سے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھتے تھے اس کو تو تم نے سن لیا، اب ذرا ان رکعتوں میں
جو سجدے ادا کئے جاتے تھے ان کی کیفیت بھی سن لو) حضور کو سجدہ میں جا کر سر اٹھانے تک اتنی دیر
ہوتی تھی جتنی دیر تم کو پچاس آیتیں ترتیل کے ساتھ پڑھنے میں ہوا کرتی ہیں، پھر جب صبح صادق
طلوع کرتی تو (اول وقت) مؤذن اذان دے کر اذان سے فارغ ہو جاتا اور حضور دیکھ لیتے کہ (افق
میں) صبح کی روشنی پھیل گئی ہے تو آپ ہلکی قرأت سے دو رکعت سنت فجر ادا فرماتے اگر میں بیدار
رہتی تو مجھ سے (دینی) گفتگو فرماتے اور اگر بیدار نہ رہتی تو حضور سیدھی کروٹ لیٹ جاتے، جب
مؤذن اقامت کی اطلاع دینے آتا تو آپ فجر کی فرض پڑھانے کے لئے باہر تشریف لے جاتے
تھے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام (تہجد کی نماز سے
فارغ ہو کر) وتر ادا فرمائے اور کروٹ لیٹے رہے جب مؤذن نے آ کر اطلاع دی (کہ جماعت
تیار ہے تو) آپ اٹھے اور دو رکعت سنت فجر ادا فرمائے (پھر صبح کی سنت کے بعد دوبارہ لیٹے بغیر)
گھر سے نکلے اور فجر کی فرض پڑھائے۔
اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ (کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ) پھر حضور علیہ الصلوٰۃ
والسلام (تہجد کی نماز سے فارغ ہو کر وتر ادا فرماتے) اور کروٹ لئے رہتے، جب مؤذن آ کر
اطلاع دیتا (کہ جماعت تیار ہے تو) آپ مختصر قرأت سے دو رکعت سنت فجر ادا فرماتے (پھر صبح کی
سنت کے بعد دوبارہ لیٹے بغیر) فجر کی فرض پڑھانے کے لئے نکلتے۔
And the saying of Allah, the Almighty: "And from [part of] the night, pray with it as additional [worship] for you." (Quran 17:79)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1123 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 1147 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 738a (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 736a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (6)
Note 1
He would prostrate
(1) His statement: "He would prostrate" – Ali Al-Qari said: "The apparent meaning is that the letter 'fa' (then) is used to elaborate on the general statement, meaning he would prostrate in each of those prostrations for a long time."
Note 2
Agreed upon
(2) His statement: "Agreed upon" – This refers to the collective agreement on the Hadith, even if it is not in this exact wording in a single narration, as mentioned in Mishkat Al-Masabih.
Chapter-heading commentary
قوله
(۲) قوله: متفق عليه: أي بمجموع الحديث، وإن لم يكن بهذا السياق في حديث واحد، كذا حديث «مشكاة» الذي نقله صاحب المشكاة» أول هذا الباب.
Note 1
قوله
(۱) قوله: فيسجد قال علي القاري والظاهر أن الفاء لتفصيل المجمل، يعني فيسجد كل واحدة من سجدات تلك الركعات طويلة.
Note 2
قوله
(۲) قوله: متفق عليه: أي بمجموع الحديث، وإن لم يكن بهذا السياق في حديث واحد، كذا حديث «مشكاة» الذي نقله صاحب المشكاة» أول هذا الباب.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ رات میں تہجد کی آٹھ رکعتوں کو چار چار رکعت
کر کے ادا کرنا چاہئے اگر ایسا نہ ہوتا تو ام المؤمنین یہ ارشاد فرماتیں کہ حضور تہجد کے آٹھ رکعات پڑھتے
تھے، ایسا نہ کہہ کر ام المؤمنین نے یہ ارشاد فرمایا کہ چار رکعت پڑھتے پھر چار رکعت پڑھتے اس سے ثابت
ہوتا ہے کہ ہر چار رکعت کو ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ادا فرماتے تھے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی
یہی قول ہے۔ یہ شرح القدیر میں مذکور ہے، رد المحتار میں لکھا ہے کہ دوسری احادیث کی بنا پر صاحبین کے
پاس تہجد کے 8 رکعت دو دو کر کے چار سلام سے ادا کرنا چاہئے۔ اور عمل درآمد بھی اسی پر ہے۔
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "When the Prophet (peace be upon him) prayed the two rak'ahs of Fajr, if he had a need to speak to me, he would do so 3; otherwise, he would go out to pray."
[Narrated by Tirmidhi, who said: "This is a Hasan Sahih Hadith."]
Al-Allamah Al-Ayni said: "These Hadiths indicate that sometimes he would lie down before the Sunnah, sometimes after it, and sometimes not at all. I say: This lying down was for rest, not for legislation."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کے دو رکعت سنت پڑھنے کے بعد اگر کوئی ضرورت ہوتی تو مجھ سے دینی کلام
کرتے، ورنہ فجر کی فرض کے لئے تشریف لے جاتے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
(یہ حدیث حسن صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 418 (unverified) 91% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
He would talk to me
(3) His statement: "He would talk to me" – Ali Al-Qari said: "His speech was undoubtedly from the speech of the Hereafter. As for worldly speech, it is undoubtedly contrary to the best practice at all times, let alone between prayers, because the wisdom behind the Sunnah is to prepare for a perfect state and dispel heedlessness, so one enters the obligatory prayer with full presence and delight."
Note 3
قوله
(۳) قوله: كلمني: قال علي القاري: كلامه لا شك أنه من كلام الآخرة. وأما كلام الدنيا فلا شك أنه خلاف الأولى دائما، فضلا عما بين الصلاتين؛ لأن الحكمة في وضع السنة أن يتهيأ لكمال الحالة وطرد الغفلة فيدخل في الفريضة على كمال الحضور واللذة.
Note 1
ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ ان مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی تو سنت فجر کے بعد پہلے کروٹ لیٹے ہیں اور کبھی سنت فجر کے بعد بھی کروٹ لیٹے
ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ آپ نہ تو سنت فجر سے پہلے لیٹے اور نہ تو سنت فجر کے بعد، ان مختلف
احوال سے معلوم ہوا کہ حضور کبھی کبھی صرف استراحت یعنی آرام لینے اور تکان دور کرنے کے لئے لیٹے
ہیں، اگر آپ ہمیشہ لیٹتے تو اس سے مسئلہ بنتا اور یہ فعل سنت ہوتا۔
Abdullah ibn Umar (may Allah be pleased with him) saw a man pray the two rak'ahs of Fajr, then lie down. Ibn Umar said: "What is he doing?" Nafi’ said: "I replied: 'He is separating his prayers.' Ibn Umar said: 'What virtue is greater than the Salam (salutation)?'"
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص دو رکعت
سنت فجر پڑھ کر کروٹ لیٹ گیا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس شخص کو کیا ہوا ہے، نافع نے کہا
کہ میں نے حضرت ابن عمرؓ سے عرض کیا کہ یہ شخص کروٹ لیٹ کے فجر کے فرض اور سنت کے درمیان
فصل پیدا کر رہا ہے، اس پر ابن عمرؓ نے فرمایا کہ سلام پھیرنا (سنت اور فرض کے درمیان خود فصل ہے)
اس سے بہتر اور کیا فصل چاہئے (اس کو لیٹ کر فصل کرنے کی ضرورت نہیں) اس کی روایت امام محمد
نے کی ہے، اور فرمایا ہے کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول پر عمل کرتے ہیں اور یہی قول امام ابو حنیفہ
رحمہ اللہ کا ہے اور انہوں نے فرمایا ہے کہ فجر کے سنت اور فرض کے درمیان لیٹنے کی ضرورت نہیں۔
Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) said: "What is wrong with a man who, after praying two rak'ahs, rolls around like an animal or a donkey? If he has said the Salam, he has already separated (his prayers)."
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا ہے کہ جو شخص فجر کی دو
رکعت سنت پڑھ کر جانور اور گدھے کی طرح زمین پر لوٹا کرتا ہے اس سے اس کی کیا غرض ہے (اگر
اس سے وہ فجر کی سنت اور فرض کے درمیان فصل پیدا کرنا چاہتا ہے تو اس طرح فصل کرنے کی ضرورت
نہیں) فجر کی سنت کے ختم پر اس کا سلام پھیرنا خود فصل ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Abu As-Siddiq An-Naji reported: "Ibn Umar (may Allah be pleased with him) saw some people lying down after the two rak'ahs of Fajr. He sent someone to them to forbid them. They said: 'We intend this as a Sunnah.' Ibn Umar said: 'Go back to them and inform them that it is an innovation.'"
ابو صدیق ناجی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ابن عمر رضی اللہ
عنہما نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ فجر کی دو رکعت سنت پڑھنے کے بعد کروٹ لیٹے ہوئے ہیں تو
حضرت ابن عمر نے کسی کو بھیج کر ان کو اس طرح لیٹنے سے منع فرمایا (یہ سن کر) ان لوگوں نے جواب دیا
کہ ہم اس طرح لیٹ کر سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں تو حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ دوبارہ جا کر ان
سے کہہ دو کہ فجر کی سنتوں کے بعد اس طرح لیٹنا (سنت نہیں ہے) بلکہ بدعت ہے۔
(اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان سے کسی نے پوچھا کہ فجر کی
سنتوں کے بعد لیٹنا کیسا ہے تو) آپ نے فرمایا کہ (جو لوگ اس طرح لیٹا کرتے ہیں دراصل ان کو)
شیطان بہکا کر لٹایا کرتا ہے۔ (اس کی روایت ابن ابی شیبہ نے کی ہے۔)
Humaid ibn Abdur-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) narrated: "A man from the companions of the Prophet (peace be upon him) said: 'While I was on a journey with the Messenger of Allah (peace be upon him), I said: By Allah, I will observe the Messenger of Allah (peace be upon him) during prayer until I see his actions.' When he prayed Isha – which is Atamah – he lay down for a while at night, then woke up and looked at the horizon. He said: 'Our Lord, You did not create this in vain,' until he reached: 'Indeed, You do not fail in Your promise.' (Quran 3:191-194). Then the Messenger of Allah (peace be upon him) reached for his bed, took a toothstick from it, poured water from a container nearby, and cleaned his teeth. Then he stood and prayed until I thought: 'He has prayed as long as he slept.' Then he lay down until I thought: 'He has slept as long as he prayed.' Then he woke up and did as he had done the first time, saying the same words. The Messenger of Allah (peace be upon him) did this three times before Fajr."
حمید بن عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی نے فرمایا کہ میں (ایک دفعہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھ سفر میں تھا (حضور سفر میں ہونے سے حضور کا ہر فعل میری آنکھوں کے سامنے تھا) اس لئے
میں نے مصمم ارادہ کر لیا اور دل میں یہ ٹھان لیا تھا کہ آپ کی نماز تہجد کو دیکھوں کہ آپ کس طرح اداء
فرماتے ہیں، پھر میں اس پر خود بھی عمل کروں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز اداء
فرما لئے تو دیر تک آرام فرماتے رہے پھر بیدار ہوئے اور افق کی طرف نظر فرمائے اور تاروں پر اور
آسمان پر جب نگاہ مبارک پڑی تو فرمانے لگے:
(3۔ سورہ آل عمران، پ:4، آیت نمبر:191/194) ترجمہ: اے ہمارے پروردگار!
آپ نے اس (کارخانہ عالم) کو بے کار اور بے فائدہ (تو) نہیں بنایا، آپ کی ذات عالی (ایسے فعل
عبث کرنے سے) پاک ہے (اور یہ کارخانہ خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں نیکی کی جزاء اور بدی کی سزا
ہونی ہے) تو اے ہمارے پروردگار ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار
جس کو آپ نے دوزخ میں ڈالا اس کو (بہت ہی) ذلیل و رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار
نہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک منادی کرنے والے یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا
کہ وہ ایمان کی منادی کر رہے تھے (اور لوگوں کو سمجھا رہے تھے) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم
ایمان لے آئے۔ بس اے ہمارے پروردگار، ہمارے قصور کو معاف فرمائیے اور ہماری برائیوں کو ہم
سے مٹا دیجئے اور نیک بندوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالخیر کیجئے۔ اور اے ہمارے پروردگار جن جن
نعمتوں کے وعدے ہم سے آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائے ہیں وہ ہم کو نصیب فرمائیے
اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل و رسوا نہ کیجئے۔ کچھ شک نہیں کہ آپ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے۔
پھر آپ بستر کی طرف جھکے اور بستر کے نیچے سے مسواک کھینچ لئے۔ پھر چھاگل میں سے ایک
بڑے کٹورے میں پانی ڈالے اور دانتوں پر مسواک رگڑے (اس کے بعد راوی خاموش ہیں، صاحب
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
مرقات کہتے ہیں کہ یہاں دو احتمال ہیں: ممکن ہے کہ آپ نے دوبارہ وضوء فرمایا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے
کہ آپ نے سابقہ وضوء ہی سے تہجد ادا فرمائی ہو اس لئے کہ نیند سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وضوء
نہیں ٹوٹتا تھا اور یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات سے ہے) پھر آپ کھڑے ہوئے اور نماز تہجد
شروع فرمائی۔ کیا کہوں کہ آپ نے کس قدر نماز ادا فرمائی۔ جتنی دیر تک آپ آرام فرما رہے تھے، اتنی
ہی دیر تک آپ نے نماز ادا فرمائی پھر آپ لیٹ گئے اور جتنی دیر آپ نے نماز پڑھی تھی اتنی ہی دیر
آپ آرام فرماتے رہے اور پھر بیدار ہوئے (ابھی آپ نے جو کچھ سنا ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم وہ سب پھر ادا فرمائے اور وہ سب اذکار بھی پڑھے جن کو آپ نے پہلی بار پڑھا تھا، پھر صبح صادق
طلوع ہونے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین بار اسی طرح سوتے اور جاگتے رہے اور (یہی
عمل فرماتے رہے)۔ (اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Aisha (may Allah be pleased with her) said: "The Prophet (peace be upon him) used to pray thirteen rak'ahs at night, including Witr and the two rak'ahs of Fajr."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم (کبھی) رات (کے آخری حصہ) میں (بھی تہجد کے لئے اٹھتے اور) تیرہ رکعت
پڑھتے تھے (اس کی تفصیل یہ تھی کہ آٹھ رکعت تہجد کے ہوتے تھے اور تین رکعت وتر کے) (وتر کی تین
رکعتوں کا ذکر صحیح مسلم اور شمائل ترمذی میں موجود ہے۔12) (اتنے میں صبح صادق طلوع کرتی تو)
آپ فجر کی دو سنتیں ادا فرما لیتے۔ (اس طرح جملہ تیرہ رکعت ہوتے تھے)۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Masruq reported: "I asked Aisha about the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him). She said: 'He would pray seven, nine, or eleven rak'ahs, excluding the two rak'ahs of Fajr.'"
مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین
عائشہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات میں جو نماز پڑھا کرتے تھے وہ
کتنی رکعتیں ہوا کرتی تھیں؟ ام المؤمنین فرمائیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتوں کے
علاوہ سات رکعات بھی پڑھتے تھے، نو رکعات بھی اور گیارہ رکعات بھی (اس کی تفصیل یہ ہے کہ کبھی
تہجد چار رکعت پڑھتے ہیں اور وتر تین رکعت، اور کبھی تہجد 6 رکعت ہوتی اور وتر تین، اور اکثر تو تہجد
آٹھ رکعت ہوتی اور وتر تین) (اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Kuraib, the freed slave of Ibn Abbas, reported: "I asked Ibn Abbas: 'How was the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him)?' He said: 'I spent a night with him while he was at Maymunah’s house. He slept until a third or half of the night had passed, then he woke up and went to a water skin, performed ablution, and I performed ablution with him. Then he stood up, and I stood to his left. He moved me to his right, placed his hand on my head as if he were touching my ear to wake me, and prayed two brief rak'ahs, reciting Surah Al-Fatihah in each rak'ah. Then he said the Salam. After that, he prayed until he had prayed eleven rak'ahs, including Witr. Then he slept until Bilal came and said: 'The prayer, O Messenger of Allah!' He stood and prayed two rak'ahs, then led the people in prayer.'"
کریب رضی اللہ عنہ مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ کہتے ہیں
کہ میں نے حضرت ابن عباس سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز
کیسی ہوتی تھی (یہ سن کر) حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں بسر کی، اس روز آپ (میری خالہ) حضرت ام المؤمنین میمونہ رضی
اللہ عنہا کے یہاں تشریف فرما تھے، آپ (نماز عشاء کے بعد اوّل شب) آرام فرمائے اور جب
تہائی یا آدھی رات گزر گئی تو آپ بیدار ہوئے اور ایک مشکیزہ کے پاس تشریف لے جا کر جس میں
پانی تھا وضو فرمائے، میں نے بھی آپ کے ساتھ وضو کیا، پھر آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور
میں بھی آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا (یہ میرے
بچپن کا زمانہ تھا اور مجھے کچھ غنودگی تھی، حضور اس کو معلوم کر کے) میرے سر پر آپ نے اپنا دست
مبارک رکھا ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ میرا کان پکڑ کر مجھے نیند سے جگا رہے ہیں اس کے بعد آپ
نے دو رکعتیں مختصر قرأت کے ساتھ ادا فرمائیں، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ صرف سورہ فاتحہ پر ہی
اکتفا فرمائے ہیں (حالانکہ آپ مختصر ضم سورہ بھی کئے تھے) پھر آپ ان دو رکعتوں کو ختم فرما کر سلام
پھیر دیئے، اس کے بعد آپ تہجد مع وتر کے گیارہ رکعت ادا فرمائے جس میں آٹھ رکعت تو تہجد کے
تھے اور باقی تین رکعت وتر کے، اس کے بعد پھر آپ سو رہے (اور جب صبح صادق طلوع ہوئی اور
جماعت کا وقت آ گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جماعت تیار ہے تو آپ نے نیند سے بیدار ہو کر دو سنتیں پڑھیں، پھر جا کر لوگوں کو فجر کی فرض نماز
پڑھائی۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "He slept near the Messenger of Allah (peace be upon him). The Prophet (peace be upon him) woke up, used the toothstick, performed ablution, and recited: 'Indeed, in the creation of the heavens and the earth...' (Quran 3:190) until he finished the verse. Then he stood and prayed two rak'ahs, prolonging the standing, bowing, and prostration. Then he went back to sleep until he snored. He did this three times, praying six rak'ahs, each time using the toothstick, performing ablution, and reciting those verses. Then he prayed Witr with three rak'ahs." [Narrated by Muslim]
In a narration by Abu Dawud: "Then he prayed Witr, and Bilal came to inform him of the prayer when dawn appeared. He prayed the two rak'ahs of Fajr, then went out to lead the prayer."
In a narration by Bukhari and Muslim: "In his supplication, he would say: 'O Allah, place light in my heart, light in my sight, light in my hearing, light on my right, light on my left, light above me, light below me, light in front of me, light behind me, and grant me light.'" Some added: "Light on my tongue," and mentioned: "Light in my nerves, flesh, blood, hair, and skin." In another narration by them: "Place light in my soul and increase light for me." In another narration by Muslim: "O Allah, grant me light."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک رات
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سو گیا تھا (اور حضور بھی سو گئے تھے پھر رات کا ایک حصہ
گزرنے پر) حضور بیدار ہو کر مسواک کئے اور وضو کرتے ہوئے ان آیتوں کی تلاوت فرمائی۔
(سورہ آل عمران پ4ع19-12، آیت نمبر:190تا200) اِنَّ فِى خَلْقِ السَّمٰوٰتِ
ترجمہ:۔ آسمان و زمین کی بناوٹ اور رات و دن کے آنے جانے میں عقلمندوں (کے سمجھنے)
کے لئے بے شمار نشانیاں (موجود) ہیں کہ یہ لوگ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد
کرتے اور آسمان اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے ہیں اور بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے
پروردگار! آپ نے اس (کارخانہ عالم) کو بے فائدہ (تو) نہیں بنایا آپ کی ذات عالی (ایسے فعل
عبث کرنے سے پاک ہے (اور یہ کارخانہ خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں نیکی کی جزا اور بدی کی سزا
ہونی ہے) تو اے ہمارے پروردگار ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار
جس کو آپ نے دوزخ میں ڈالا اس کو (بہت ہی) ذلیل و رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، اے
ہمارے پروردگار ہم نے ایک منادی کرنے والے یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ منادی کر
رہے تھے (اور وہ لوگوں کو سمجھا رہے تھے) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے پس
اے ہمارے پروردگار! ہمارے قصور معاف فرمائیے اور ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجئے اور نیک
بندوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالخیر کیجئے اور اے ہمارے پروردگار جن جن نعمتوں کے وعدے ہم سے
آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائے ہیں وہ ہم کو نصیب فرمائے اور قیامت کے دن ہمیں
ذلیل و رسوا نہ کیجئے۔ کچھ شک نہیں کہ آپ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے۔ تو ان کے پروردگار نے ان
کی دعا قبول کرلی اور (فرمایا) کہ ہم تم میں سے کسی (نیک) عمل کرنے والے کے عمل کو اکارت نہیں
جانے دیں گے خواہ وہ مرد ہو یا عورت (اس بارے میں مرد و عورت میں کچھ فرق نہیں) کیونکہ تم مرد و
عورت ایک ہی جنس سے ہیں تو جن لوگوں نے ہمارے لئے اپنے وطن چھوڑے اور ہمارے ہی وجہ
سے اپنے گھروں سے نکالے اور میرے راستہ میں ستائے گئے اور انہوں نے (راہ جہاد میں) قتال کیا
اور (خود بھی) قتل ہوئے میں ان سے ان کی خطاؤں کو (ان کے نامہ اعمال سے) ضرور میٹ دوں گا
اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، یہ بدلہ ان کو اللہ کے
پاس سے ملے گا اور اللہ ہی کے پاس اچھا بدلہ ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کا
شہروں میں (دنیا کمانے کے لئے) چلنے پھرنے اور پھر ان کے کامیاب ہونے سے آپ یہ خیال نہ
کریں (اور یہ نہ سمجھیں کہ یہ منفعت کثیر ہے بلکہ) (دنیا کا یہ) تھوڑا سا فائدہ ہے۔ (کیونکہ دنیا فانی
ہے اور دنیا کے تمام فائدے ثواب آخرت کے مقابلہ میں بہت کم ہیں) پھر آخرکار ان کافروں کا
ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں
آخرت میں ان کے لئے باغات ہیں جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں
گے اللہ کی طرف سے یہ ان کی مہمانی ہوگی اور اللہ کے پاس جو ساز و سامان ہے وہ نیک بندوں کے
لئے (دنیا و مافیہا سے) بہتر ہے اور اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ اور اس کی کتاب پر
جو تم پر نازل ہوئی اور اس کتاب پر جو اُن پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی
کرتے ہیں۔ (یہودی کی عادت تھی کہ تورات کے بعض مضامین کو مال و دولت لے کر عوام کے حسب
مرضی بدل دیتے تھے مگر یہ اہل کتاب جو ایمان لائے ہیں) اللہ کی آیتوں کو دنیا کے حقیر معاوضہ کے
بدلے نہیں بیچتے (اور اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کرتے ہیں) یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے
پروردگار کے ہاں تیار موجود ہے (ان کو اجر کے حاصل کرنے میں انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی
کیونکہ) اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والے ہیں (ان کے نیکیوں کا بہت جلد بدلہ دیں گے) مسلمانو! (
ان تکلیفوں کو جو خدا کی راہ میں تم کو پیش آئیں) برداشت کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تعلیم دو اور
آپس میں مل کر رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تا کہ آخرکار تم اپنی مراد کو پہنچو۔
(وضوء سے فارغ ہوکر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھے جن
میں قیام، رکوع اور سجدوں کو حسب عادت مبارکہ طویل کیا اور نماز سے فارغ ہوکر سوگئے یہاں تک کہ
خراٹے کی آواز آنے لگی (جو گہری نیند کی علامت ہے) پھر اسی طرح آپ تین بار سوتے اور جاگتے
رہے اور ہر دفعہ میں دو دو رکعت کر کے جملہ(6) رکعات ادا فرمائے اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو
مثل سابق ہر دفعہ مسواک کر کے وضو فرماتے اور مذکورہ آیات بھی تلاوت فرماتے۔ آخر میں حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر کے ادا فرمائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر
ادا فرمائے اور جب صبح صادق طلوع ہوئی (اور جماعت کا وقت آگیا) تو بلال رضی اللہ عنہ نے
حاضر ہو کر (جماعت کے تیار ہونے کی) اطلاع دی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتیں پڑھ
کر فرض پڑھانے کے لئے باہر تشریف لے گئے۔
اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ (جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
فجر کی سنتیں پڑھ کر فرض پڑھانے کے لئے تشریف لے چلے تو) یہ دعا پڑھتے ہوئے مصلّے تک پہنچے:
ترجمہ: الٰہی (میں انسان ہونے کی حیثیت سے جہالت اور گمراہی میں گھرا ہوا ہوں، اب آپ
ہی میری مدد کیجئے اور) میرے دل میں نور پیدا کیجئے۔ اور میری بصر میں نور پیدا کیجئے اور میری
سماعت میں نور پیدا کیجئے اور میرے سیدھے طرف نور، اور میرے بائیں طرف نور اور میرے اوپر نور
اور میرے نیچے نور اور میرے سامنے نور اور میرے پیچھے نور پیدا کیجئے، (غرض میرے ہر طرف سے
نور ہی نور ہو اور میں سراپا نور ہو جاؤں جس سے ہر وقت مجھے آپ کی ہدایت پہنچتی رہے اور میں کسی
بہکانے والے کے بہکانے سے گمراہ نہ ہو جاؤں) اور آپ میرے لئے نور پیدا فرمائیے۔
اور بعض روایتوں میں اس دعا کے بعد ذیل کے یہ الفاظ بھی اضافہ آئے ہیں:
الٰہی میری زبان میں نور، میرے پٹھوں میں نور، میرے گوشت میں نور، میرے خون میں نور،
میرے بالوں میں نور اور میرے پوست میں نور پیدا کیجئے (یعنی مجھے سراپا ہدایت بنا دیجئے)۔
اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں یہ بھی ہے:
الٰہی! میری جان میں نور پیدا کیجئے (یہ جو کچھ نور آپ عطا فرمائیں گے معمولی نور نہ ہو بلکہ سب
سے بڑا نور ہو جس سے مجھے کامل ہدایت ملے)۔
اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے:
الٰہی (آخر میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ) آپ مجھے اس قدر نور عطا فرمائیے کہ میں سر تا پا
نور ہی نور ہو جاؤں۔
Zaid ibn Khalid Al-Juhani reported: "I resolved to observe the night prayer of the Messenger of Allah (peace be upon him). He prayed two brief rak'ahs 1, then two very long rak'ahs, then two rak'ahs shorter than the previous two, then two rak'ahs shorter than those before them, then two rak'ahs shorter than those before them, then he prayed Witr. That made thirteen rak'ahs." 2
زید بن خالد جُہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: (ایک دفعہ کا واقعہ
ہے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے حجرات سے باہر ڈیرہ کی طرح ایک مقام بنایا گیا تھا اور
آپ اس میں تشریف فرما تھے چونکہ میں ڈیرہ کی چوکھٹ پر سر رکھ کر سو رہا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے حجرات سے باہر ہونے سے حضور کا ہر فعل میرے سامنے تھا اس لئے میں نے مصمم ارادہ کر لیا
اور دل میں ٹھان لیا تھا کہ آج شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کو دیکھوں، (کہ
آپ کس طرح ادا فرماتے ہیں) تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مختصر قرأت سے
(تحیۃ الوضو کی) دو رکعتیں ادا فرمائے (اس کے بعد تہجد کا سلسلہ شروع ہوا) پھر آپ نے دو رکعتیں
بہت طویل قرأت سے ادا فرمائے، اس کے بعد آپ نے پھر دو رکعتیں جو پڑھیں وہ طویل تو تھیں
مگر قرأت میں پہلے دو کی نسبت کسی قدر مختصر تھیں، پھر اس کے بعد دو رکعتیں طویل قرأت سے ادا
فرمائیں مگر بہ نسبت ان کے پہلے کی دو رکعتوں سے قرأت میں کسی قدر مختصر تھیں، پھر اس کے بعد اور
دو رکعتیں طویل قرأت سے ادا فرمائے مگر یہ رکعتیں قرأت میں ان کے پہلے کی دو رکعتوں سے کسی
قدر مختصر تھیں (یہ آٹھ رکعتیں تو تہجد کی ہوئیں) اس کے بعد آپ نے پھر تین رکعت وتر کے ادا
فرمائے اس طرح یہ جملہ 13 رکعتیں ہوئیں۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 765 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (4)
Note 1
Two brief rak'ahs
(1) His statement: "Two brief rak'ahs" – The two brief rak'ahs refer to the two rak'ahs after ablution. It is recommended to keep them short, as indicated by narrations emphasizing their brevity in both words and actions, as understood from Al-Azhar.
Note 2
That made thirteen rak'ahs
(2) His statement: "That made thirteen rak'ahs" – In Al-Mabsut, it is mentioned that the maximum number of rak'ahs he prayed at night was eight, and the minimum was two. It is narrated that he sometimes prayed five rak'ahs, seven rak'ahs, nine rak'ahs, eleven rak'ahs, or thirteen rak'ahs. Those who said five rak'ahs meant two rak'ahs for night prayer and three for Witr. Those who said seven rak'ahs meant four for night prayer and three for Witr. Those who said nine rak'ahs meant six for night prayer and three for Witr. Those who said eleven rak'ahs meant eight for night prayer and three for Witr. Those who said thirteen rak'ahs meant eight for night prayer, three for Witr, and two for the Sunnah of Fajr. This is mentioned in Fath Al-Qadir.
(۲) قوله: فذلك ثلاث عشرة ركعة وفي المبسوط»: أن منتهى تهجده ثمان ركعات، وأقله ركعتان؛ فإنه قال روي أنه كان يصلي من الليل خمس ركعات، وسبع ركعات، وتسع ركعات، وإحدى عشرة ركعة، وثلاث عشرة ركعة. فالذي قال: «خمس ركعات ركعتان صلاة الليل وثلاث وتر. والذي قال: سبع ركعات»، أربع صلاة الليل وثلاث وتر. والذي قال: «تسع، ست وثلاث. والذي قال: «إحدى عشرة»، ثمان وثلاث، والذي قال: «ثلاث عشرة ثمان صلاة الليل وثلاث وتر وركعتان سنة الفجر. كذا في فتح القدير».
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Prophet (peace be upon him) stood at night to pray, he would begin his prayer with two brief rak'ahs."
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم رات میں جب تہجد پڑھنے کھڑے ہوتے تو پہلے (تحیۃ الوضوء کی) دو مختصر رکعتیں
پڑھتے اس کے بعد تہجد کی نماز شروع فرماتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you stands at night to pray, let him begin his prayer with two brief rak'ahs."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص تہجد کے لئے نیند سے اٹھے تو پہلے (تحیۃ الوضوء
کی) دو مختصر رکعتیں پڑھے، اس کے بعد تہجد کی نماز شروع کرے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated: "I recognized the pairs of Surahs that the Prophet (peace be upon him) used to recite together." He mentioned twenty Surahs from the beginning of the Mufassal (short Surahs), according to the arrangement of Ibn Mas’ud, reciting two Surahs in each rak'ah, the last of which were Surah Al-Dukhan and Surah 'Amma Yatasa'aloon. [Agreed upon]
In a narration by Muslim from Shaqiq: "A man from Banu Bajilah, named Nahik ibn Sinan, came to Abdullah (ibn Mas’ud) and said: 'I recite the Mufassal in every rak'ah.' Abdullah said: 'Is this like reciting poetry? I know the pairs of Surahs that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to recite, two Surahs in each rak'ah. 3'"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں مفصل کی
ان سورتوں کو جانتا ہوں جو مقدار میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں اور ان میں کی دو دو سورتوں
کو ملا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد کی ہر ایک رکعت میں پڑھا کرتے تھے۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک اور روایت میں شقیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ بنی
بُجیلہ کے ایک صاحب جن کا نام نُہیک بن سنان تھا حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں
حاضر ہو کر عرض کئے کہ میں تہجد کی ہر رکعت میں مفصل کی تمام سورتوں کو پڑھ لیا کرتا ہوں، تو ابن
مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (عرب کے شعراء اپنی یاد بتانے کے لئے اشعار کو بہت تیزی سے پڑھا
کرتے تھے): کیا تم بھی قرآن کو یہی سمجھے ہو، میں تم کو بتلاتا ہوں کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے طریقہ پر عمل کیا کرو۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تہجد کی ہر رکعت میں مفصل کی دو دو سورتیں جو
مقدار میں ایک دوسرے کے قریب قریب ہوتیں نہایت ترتیل سے پڑھا کرتے تھے (تم بھی ایسا ہی
پڑھا کرو)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 775 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 822a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 3
Two Surahs in each rak'ah
(3) His statement: "Two Surahs in each rak'ah" – Iyad said: "This is consistent with the narration of Aisha that his night prayer was eleven rak'ahs, including Witr, and this was the extent of his recitation most of the time. His prolonging of the prayer was due to reflection and extending the pillars of prayer. His recitation of Surah Al-Baqarah and Surah An-Nisa’ was rare. Ibn Mas’ud’s disapproval of the man was to encourage him to reflect, not to say that reciting the Mufassal in one rak'ah is impermissible." This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 3
قوله
(۳) قوله : سورتين في كل ركعة : قال عياض: وهذا موافق لرواية عائشة أن قيامه كان إحدى عشرة ركعة بالوتر، وأن هذا قدر قراءته غالبا، وتطويله بسبب التدبر وتطويل الأركان وقراءته (البقرة» و«النساء» نادر، وإنكار ابن مسعود على الرجل؛ ليحضه على التأمل، لا أنه لا يجوز قراءة المفصل في ركعة. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: رد المحتار میں لکھا ہے کہ فرض کی ہر رکعت میں اگر کوئی دو دو سورتیں جو ایک دوسرے کی
متصل ہوں پڑھے تو جائز ہے مگر بخلاف اولیٰ اور مکروہ تنزیہی ہے البتہ نوافل اور تہجد کی ہر رکعت میں دو
دو سورتوں کو ملا کر پڑھنا بلا کراہت جائز ہے خواہ یہ سورتیں متصل ہوں یا غیر متصل۔
Hudhaifah (may Allah be pleased with him) narrated: "He saw the Prophet (peace be upon him) praying at night. He would say: 'Allahu Akbar' three times, then say: 'Possessor of the kingdom, power, majesty, and greatness.' Then he would begin his recitation with Surah Al-Baqarah. His bowing was nearly as long as his standing, and he would say in his bowing: 'Subhana Rabbiyal-'Adheem.' When he raised his head from bowing, his standing was nearly as long as his bowing, and he would say: 'Lillahil-hamd.' His prostration was nearly as long as his standing, and he would say in his prostration: 'Subhana Rabbiyal-A'la.' When he raised his head from prostration, he would sit between the two prostrations for nearly as long as his prostration, saying: 'Rabbi ighfir li, Rabbi ighfir li.' He prayed four rak'ahs, reciting Surah Al-Baqarah, Surah Al-Imran, Surah An-Nisa’, and Surah Al-Ma’idah or Surah Al-An’am – Shu’bah was uncertain."
حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں (ایک مرتبہ) حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو تہجد پڑھتے ہوئے دیکھنے کا موقع ملا، کیا دیکھتے ہیں کہ (دل میں) تہجد کی نیت کر کے آپ
تکبیر تحریمہ اس طرح شروع فرمائے:
اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں، اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں اللہ تعالیٰ سب سے بڑے ہیں،
دو جہاں کے آپ ہی مالک ہیں سب غلاموں پر آپ ہی غالب ہیں۔ جن جن کو بڑائی ہے ان میں
آپ ہی سب سے بڑے ہیں، آپ کی عظمت اور بزرگی کے سامنے کسی کی عظمت و بزرگی نہیں۔
پھر اس کے بعد آپ ثناء پڑھے (اور جب قرأت کا موقع آیا تو سورہ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت
میں) سورہ بقرہ نہایت ترتیل سے پڑھے، پھر رکوع فرمائے، کیا کہوں کیسا رکوع تھا جیسے عادت مبارکہ
سے زیادہ غیر معمولی قیام تھا، قیام کی مناسبت سے عادت سے زیادہ رکوع بھی غیر معمولی طویل تھا۔
حسب عادت شریفہ پورے رکوع میں ”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيم“ بار بار پڑھتے جا رہے تھے، پھر آپ
رکوع سے سر اٹھا کر قومہ کئے، قومہ بھی رکوع کی طرح عادت سے زیادہ غیر معمولی طویل تھا۔ قومہ
میں (سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کے بعد) ”لِرَبِّيَ الْحَمْدُ“ بار بار پڑھ رہے تھے یعنی اے میرے رب
حمد کے مستحق صرف آپ ہی ہیں، پھر آپ سجدہ فرمائے، کچھ نہ پوچھو کہ سجدہ کیسا تھا، سجدہ بھی قومہ کی
طرح عادت شریفہ سے زیادہ غیر معمولی طویل تھا، حسب عادت شریفہ پورے سجدہ میں آپ
”سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَىٰ“ بار بار پڑھ رہے تھے، پھر آپ پہلے سجدہ سے سر اٹھا کر جلسہ میں آگئے اور
یہ جلسہ بھی سجدہ کی طرح عادت شریفہ سے زیادہ غیر معمولی طویل تھا اور آپ جلسہ میں ”رَبِّ اغْفِرْلِيْ
رَبِّ اغْفِرْلِيْ“ بار بار پڑھ رہے تھے (یہ پہلی رکعت تھی) اسی طرح آپ چار رکعات ادا فرمائے،
ان چار رکعتوں میں جو قرأت آپ فرمائے تھے اس کی تفصیل یہ تھی، پہلی رکعت میں سورہ بقرہ، دوسری
میں آل عمران، تیسری میں سورہ نساء، چوتھی میں۔ حضرت شعبہ راوی کو شک ہے کہ۔ مائدہ تھا یا سورہ
انعام۔ بہرحال ان دو سورتوں میں سے کوئی ایک سورت تھی۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Amr ibn Al-As (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "Whoever prays with ten verses will not be recorded among the heedless. Whoever prays with a hundred verses will be recorded among the devout. Whoever prays with a thousand verses will be recorded among those who accumulate good deeds."
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص (تہجد یا صلاۃ اللیل میں سورہ فاتحہ کے
سوائے) دس آیتیں پڑھے تو اس کا نام غافلین کے دفتر میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص (تہجد یا صلاۃ
اللیل میں سوائے سورہ فاتحہ کے) سو آیتیں پڑھے تو اس کا نام قانتین یعنی خدا کے فرمانبرداروں میں
لکھا جائے گا اور جو شخص (تہجد یا صلاۃ اللیل میں) ایک ہزار آیتیں پڑھے (تو کچھ نہ پوچھو کہ اس کا
نام کن میں لکھا جائے گا) ”مُقَنْطِرِينَ“، یعنی بے گنتی ثواب جمع کرنے والوں میں لکھا جائے گا۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abu Dharr (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) stood in prayer until morning, reciting one verse: 'If You punish them, they are Your servants; and if You forgive them, indeed, You are the Mighty, the Wise.'" (Quran 5:118)
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں: (کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ
) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تہجد کے لئے کھڑے ہوئے (اور اپنی امت اور ان کے گناہ یاد
آ گئے) تو ذیل کی آیت پڑھتے پڑھتے صبح کر دیئے اور بار بار یہ فرماتے تھے: اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ
اِلٰہَ العالمین! اگر آپ (میری امت کے گنہگاروں کو ان کے گناہوں پر) سزا دیں تو یہ آپ
کے بندے ہیں (آپ کو اختیار ہے آپ کی طرف کوئی ظلم کی نسبت نہیں کر سکتا) اور اگر آپ ان کے
گناہوں کو معاف فرما دیں (تو اس کا بھی آپ کو اختیار ہے اور کوئی آپ کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں اس
لئے کہ) آپ زبردست قدرت والے اور ایسا ہی بڑی حکمت والے ہیں (حکیم کے فعل پر کوئی
اعتراض نہیں کر سکتا)۔ (اس کی روایت نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔)
Ya’la ibn Mamlak reported: "He asked Umm Salamah, the wife of the Prophet (peace be upon him), about the Prophet’s recitation and prayer. She said: 'What is it to you and his prayer? He would pray, then sleep for as long as he had prayed, then pray for as long as he had slept, then sleep for as long as he had prayed until dawn.' Then she described his recitation, and it was a clear recitation, letter by letter."
یعلی بن مَمْلَک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ
رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کیسی ہوتی تھی اور اس
میں آپ کی قرأت کس طرح ہوا کرتی؟ (یہ سن کر حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز اور آپ کی قرأت یاد آ گئی، آپ کا دل بھر آیا) اور آپ فرمانے لگیں کہ
آپ کی نماز اور آپ کی قرأت کا حال سن کر کیا کرو گے (اس لئے کہ حضور کے جیسی نماز اور قرأت
پڑھنے کی کس میں طاقت ہے؟ حضور کے دل میں محبت الٰہی اس قدر تھی کہ وہ آپ کو سونے دیتی نہ
تھی، بار بار آپ کو اٹھا کر بٹھا دیتی تھی، اس لئے آپ (نیند سے اٹھ کر) نماز تہجد ادا فرماتے، پھر جتنی
دیر آپ نے نماز پڑھی تھی، اتنی ہی دیر آپ آرام فرماتے پھر (بیدار ہو کر) جتنی دیر آپ آرام
فرماتے اتنی دیر تک نماز پڑھتے رہتے تھے، پھر جتنی دیر آپ نے نماز پڑھی تھی اتنی دیر آرام فرماتے
یہاں تک کہ صبح صادق طلوع کرتی (یہ تو آپ کی نماز کا حال ہوا۔ اب حضور کی قرأت کا حال سنو) ام
المؤمنین آپ کی قرأت کو اس طرح بیان فرمائیں کہ آپ کی قرأت نہایت ترتیل کے ساتھ ہوتی کہ ہر
حرف علیحدہ علیحدہ ہوتا اور ام المؤمنین خود بھی ترتیل کے ساتھ ایک ایک حرف الگ الگ پڑھ کر سنائیں
(کہ حضور اس طرح قرآن پڑھا کرتے تھے)۔
(اس کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet’s (peace be upon him) recitation at night would sometimes be loud and sometimes soft."
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم تہجد کی نماز میں اکثر متوسط آواز سے قرأت فرمایا کرتے تھے اور کبھی دھیمی آواز سے بھی
قرأت فرمائے ہیں۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated: "The Prophet’s (peace be upon him) recitation was such that those in the room could hear it while he was in the house."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم مکان میں جب تہجد کی نماز پڑھتے تو اتنی آواز سے قرأت فرمایا کرتے کہ جو حجرہ میں
ہوتے ان کو آواز سنائی دیتی تھی (یعنی نہ بہت بلند آواز سے قرأت فرماتے اور نہ بالکل آہستہ کہ کسی کو
سنائی نہ دے بلکہ اس طرح قرأت فرماتے جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا)۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abu Qatadah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) went out one night and found Abu Bakr praying in a soft voice. Then he passed by Umar, who was praying in a loud voice. When they both gathered with the Prophet (peace be upon him), he said: 'O Abu Bakr, I passed by you while you were praying in a soft voice.' Abu Bakr said: 'I made audible to the One I was supplicating, O Messenger of Allah.' The Prophet (peace be upon him) said to Umar: 'I passed by you while you were praying in a loud voice.' Umar said: 'O Messenger of Allah, I was waking the drowsy and driving away Satan.' The Prophet (peace be upon him) said: 'O Abu Bakr, raise your voice slightly,' and to Umar, he said: 'Lower your voice slightly.'"
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں ایک رات کا واقعہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اتفاق سے) باہر نکلے (اور کہیں تشریف لے جا رہے تھے تو)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر ہوا اس وقت ابوبکر صدیق تہجد پڑھ رہے تھے
اور بہت آہستہ آواز سے قرأت فرما رہے تھے (ان کی قرأت سماعت فرماتے ہوئے حضور آگے
بڑھے اور) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے مقام پر سے گزر ہوا تو حضرت عمر تہجد کی نماز میں
قرأت کر رہے تھے، حضور نے کہ حضرت عمر بہت بلند آواز سے قرأت کر رہے ہیں، ابوقتادہ کہتے ہیں
کہ (جب صبح ہوئی تو) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر دونوں حضور کی خدمت مبارک میں حاضر ہوئے
(حضور باطنی امراض کے طبیب تھے جس میں جو مرض دیکھتے اس کا علاج فرما دیتے۔ اسی لئے صحابہ
کرام کو باطنی امراض سے کامل صحت حاصل ہوگئی تھی، مریض سے پہلے کیفیت سن کر علاج کیا جا سکتا
ہے اس لئے) حضور نے ارشاد فرمایا: ابوبکر میں (آج کی رات) تمہارے مقام پر سے ہو کر گزرا تو تم
کو بہت آہستہ آواز سے قرأت کرتا ہوا پایا تو ابوبکر صدیق عرض کئے: حضور میں اس ذات سے راز و
نیاز کر رہا تھا جو آہستہ سے آہستہ آواز کو بھی سن لیتا ہے اس کو بلند آواز سے سنانے کی ضرورت نہیں،
پھر حضرت عمر سے مخاطب ہو کر فرمائے: عمر! میں جب تمہارے مقام پر سے گزرا تو تم کو تہجد میں بہت
بلند آواز سے قرأت کرتے ہوئے پایا تو حضرت عمر عرض کئے: حضور میں بلند آواز سے اس لئے
قرأت کر رہا تھا کہ سوتوں کو جگاؤں (غافلوں کو ہوشیار کروں) اور شیطان کو (اپنی قرأت سے)
بھگاؤں (دونوں کی کیفیتوں کو سن کر اب حضور صحیح علاج فرماتے ہیں) ابوبکر! تم اپنی آواز کو کچھ اونچا
کرو، اور حضرت عمر سے فرمائے: عمر! تم اپنی آواز کو کچھ پست کردو (اس لئے کہ میانہ روی ہر کام میں
بہت بہتر ہے)۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ترمذی نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Masruq reported: "I asked Aisha: 'Which deed was most beloved to the Messenger of Allah (peace be upon him)?' She said: 'The consistent one.' I asked: 'At what time would he rise at night?' She said: 'He would rise when he heard the crowing of the rooster.'"
مسروق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین
عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس عمل کو بہت پسند فرماتے
تھے؟ ام المومنین فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیمی کاموں (یعنی اوراد و وظائف اور
نوافل میں) سب سے پیارا اور پسندیدہ وہ کام معلوم ہوتا تھا جس پر ہمیشہ پابندی کی جائے پھر میں
نے عرض کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رات کو تہجد کے لئے کب اٹھتے تھے؟ ام المومنین
فرمائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اس وقت تہجد پڑھنے کھڑے ہوتے جب مرغ کی
آواز سنتے (اکثر مرغ اس وقت بانگ دیا کرتے ہیں جب ایک تہائی رات باقی رہ جاتی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated: "Whenever we wished to see the Messenger of Allah (peace be upon him) praying at night, we would see him, and whenever we wished to see him sleeping, we would see him."
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کو رات کے کسی خاص حصہ میں سونے یا کسی خاص حصہ میں جاگنے کی عادت نہ تھی اس لئے
جب) ہم خیال کرتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت نماز نہیں پڑھ رہے ہوں گے مگر (جب
دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ) حضور اس وقت نماز پڑھ رہے ہیں (ایسا ہی) ہمارا خیال ہوتا کہ حضور اس
وقت نہیں سو رہے ہوں گے مگر (جب دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ) حضور اس وقت سو رہے ہیں (اس
سے معلوم ہوا کہ حضور کے رات میں سونے اور نماز تہجد پڑھنے کی عادت شریفہ مقرر نہ تھی)۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) grew older and heavier, he performed most of his prayers while sitting."
Commentary and footnotes (6)
Note 1
(1) His statement: "He would prostrate" – Ali Al-Qari said: "The apparent meaning is that the letter 'fa' (then) is used to elaborate on the general statement, meaning he would prostrate in each of those prostrations for a long time."
Note 2
(2) His statement: "Agreed upon" – This refers to the collective agreement on the Hadith, even if it is not in this exact wording in a single narration, as mentioned in Mishkat Al-Masabih.
Chapter-heading commentary
(۲) قوله: متفق عليه: أي بمجموع الحديث، وإن لم يكن بهذا السياق في حديث واحد، كذا حديث «مشكاة» الذي نقله صاحب المشكاة» أول هذا الباب.
Note 1
(۱) قوله: فيسجد قال علي القاري والظاهر أن الفاء لتفصيل المجمل، يعني فيسجد كل واحدة من سجدات تلك الركعات طويلة.
Note 2
(۲) قوله: متفق عليه: أي بمجموع الحديث، وإن لم يكن بهذا السياق في حديث واحد، كذا حديث «مشكاة» الذي نقله صاحب المشكاة» أول هذا الباب.
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ رات میں تہجد کی آٹھ رکعتوں کو چار چار رکعت کر کے ادا کرنا چاہئے اگر ایسا نہ ہوتا تو ام المؤمنین یہ ارشاد فرماتیں کہ حضور تہجد کے آٹھ رکعات پڑھتے تھے، ایسا نہ کہہ کر ام المؤمنین نے یہ ارشاد فرمایا کہ چار رکعت پڑھتے پھر چار رکعت پڑھتے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر چار رکعت کو ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے ادا فرماتے تھے، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ شرح القدیر میں مذکور ہے، رد المحتار میں لکھا ہے کہ دوسری احادیث کی بنا پر صاحبین کے پاس تہجد کے 8 رکعت دو دو کر کے چار سلام سے ادا کرنا چاہئے۔ اور عمل درآمد بھی اسی پر ہے۔