Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1578

(یہ باب رات کی نماز کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب رات کی نماز کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1578Volume 1

اردو

ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سو گیا تھا (اور حضور بھی سو گئے تھے پھر رات کا ایک حصہ گزرنے پر) حضور بیدار ہو کر مسواک کئے اور وضو کرتے ہوئے ان آیتوں کی تلاوت فرمائی۔ (سورہ آل عمران پ4ع19-12، آیت نمبر:190تا200) اِنَّ فِى خَلْقِ السَّمٰوٰتِ ترجمہ:۔ آسمان و زمین کی بناوٹ اور رات و دن کے آنے جانے میں عقلمندوں (کے سمجھنے) کے لئے بے شمار نشانیاں (موجود) ہیں کہ یہ لوگ کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی تخلیق میں غور کرتے ہیں اور بے اختیار بول اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! آپ نے اس (کارخانہ عالم) کو بے فائدہ (تو) نہیں بنایا آپ کی ذات عالی (ایسے فعل عبث کرنے سے پاک ہے (اور یہ کارخانہ خبر دے رہا ہے کہ آخرت میں نیکی کی جزا اور بدی کی سزا ہونی ہے) تو اے ہمارے پروردگار ہم کو دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھئے۔ اے ہمارے پروردگار جس کو آپ نے دوزخ میں ڈالا اس کو (بہت ہی) ذلیل و رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں، اے ہمارے پروردگار ہم نے ایک منادی کرنے والے یعنی پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا کہ منادی کر رہے تھے (اور وہ لوگوں کو سمجھا رہے تھے) کہ اپنے پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے پس اے ہمارے پروردگار! ہمارے قصور معاف فرمائیے اور ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجئے اور نیک بندوں کے ساتھ ہمارا خاتمہ بالخیر کیجئے اور اے ہمارے پروردگار جن جن نعمتوں کے وعدے ہم سے آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ فرمائے ہیں وہ ہم کو نصیب فرمائے اور قیامت کے دن ہمیں ذلیل و رسوا نہ کیجئے۔ کچھ شک نہیں کہ آپ وعدہ خلافی نہیں کیا کرتے۔ تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی اور (فرمایا) کہ ہم تم میں سے کسی (نیک) عمل کرنے والے کے عمل کو اکارت نہیں جانے دیں گے خواہ وہ مرد ہو یا عورت (اس بارے میں مرد و عورت میں کچھ فرق نہیں) کیونکہ تم مرد و عورت ایک ہی جنس سے ہیں تو جن لوگوں نے ہمارے لئے اپنے وطن چھوڑے اور ہمارے ہی وجہ سے اپنے گھروں سے نکالے اور میرے راستہ میں ستائے گئے اور انہوں نے (راہ جہاد میں) قتال کیا اور (خود بھی) قتل ہوئے میں ان سے ان کی خطاؤں کو (ان کے نامہ اعمال سے) ضرور میٹ دوں گا اور ان کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، یہ بدلہ ان کو اللہ کے پاس سے ملے گا اور اللہ ہی کے پاس اچھا بدلہ ہے۔ اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کا شہروں میں (دنیا کمانے کے لئے) چلنے پھرنے اور پھر ان کے کامیاب ہونے سے آپ یہ خیال نہ کریں (اور یہ نہ سمجھیں کہ یہ منفعت کثیر ہے بلکہ) (دنیا کا یہ) تھوڑا سا فائدہ ہے۔ (کیونکہ دنیا فانی ہے اور دنیا کے تمام فائدے ثواب آخرت کے مقابلہ میں بہت کم ہیں) پھر آخرکار ان کافروں کا ٹھکانا دوزخ ہی ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں آخرت میں ان کے لئے باغات ہیں جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ کی طرف سے یہ ان کی مہمانی ہوگی اور اللہ کے پاس جو ساز و سامان ہے وہ نیک بندوں کے لئے (دنیا و مافیہا سے) بہتر ہے اور اہل کتاب میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو اللہ اور اس کی کتاب پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس کتاب پر جو اُن پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور اللہ کے آگے عاجزی کرتے ہیں۔ (یہودی کی عادت تھی کہ تورات کے بعض مضامین کو مال و دولت لے کر عوام کے حسب مرضی بدل دیتے تھے مگر یہ اہل کتاب جو ایمان لائے ہیں) اللہ کی آیتوں کو دنیا کے حقیر معاوضہ کے بدلے نہیں بیچتے (اور اس میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کرتے ہیں) یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار موجود ہے (ان کو اجر کے حاصل کرنے میں انتظار کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی کیونکہ) اللہ تعالیٰ جلد حساب کرنے والے ہیں (ان کے نیکیوں کا بہت جلد بدلہ دیں گے) مسلمانو! ( ان تکلیفوں کو جو خدا کی راہ میں تم کو پیش آئیں) برداشت کرو اور ایک دوسرے کو صبر کی تعلیم دو اور آپس میں مل کر رہو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو تا کہ آخرکار تم اپنی مراد کو پہنچو۔ (وضوء سے فارغ ہوکر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور دو رکعت نماز پڑھے جن میں قیام، رکوع اور سجدوں کو حسب عادت مبارکہ طویل کیا اور نماز سے فارغ ہوکر سوگئے یہاں تک کہ خراٹے کی آواز آنے لگی (جو گہری نیند کی علامت ہے) پھر اسی طرح آپ تین بار سوتے اور جاگتے رہے اور ہر دفعہ میں دو دو رکعت کر کے جملہ(6) رکعات ادا فرمائے اور جب نیند سے بیدار ہوتے تو مثل سابق ہر دفعہ مسواک کر کے وضو فرماتے اور مذکورہ آیات بھی تلاوت فرماتے۔ آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین رکعت وتر کے ادا فرمائے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز وتر ادا فرمائے اور جب صبح صادق طلوع ہوئی (اور جماعت کا وقت آگیا) تو بلال رضی اللہ عنہ نے حاضر ہو کر (جماعت کے تیار ہونے کی) اطلاع دی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی دو سنتیں پڑھ کر فرض پڑھانے کے لئے باہر تشریف لے گئے۔ اور بخاری و مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ (جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی سنتیں پڑھ کر فرض پڑھانے کے لئے تشریف لے چلے تو) یہ دعا پڑھتے ہوئے مصلّے تک پہنچے: ترجمہ: الٰہی (میں انسان ہونے کی حیثیت سے جہالت اور گمراہی میں گھرا ہوا ہوں، اب آپ ہی میری مدد کیجئے اور) میرے دل میں نور پیدا کیجئے۔ اور میری بصر میں نور پیدا کیجئے اور میری سماعت میں نور پیدا کیجئے اور میرے سیدھے طرف نور، اور میرے بائیں طرف نور اور میرے اوپر نور اور میرے نیچے نور اور میرے سامنے نور اور میرے پیچھے نور پیدا کیجئے، (غرض میرے ہر طرف سے نور ہی نور ہو اور میں سراپا نور ہو جاؤں جس سے ہر وقت مجھے آپ کی ہدایت پہنچتی رہے اور میں کسی بہکانے والے کے بہکانے سے گمراہ نہ ہو جاؤں) اور آپ میرے لئے نور پیدا فرمائیے۔ اور بعض روایتوں میں اس دعا کے بعد ذیل کے یہ الفاظ بھی اضافہ آئے ہیں: الٰہی میری زبان میں نور، میرے پٹھوں میں نور، میرے گوشت میں نور، میرے خون میں نور، میرے بالوں میں نور اور میرے پوست میں نور پیدا کیجئے (یعنی مجھے سراپا ہدایت بنا دیجئے)۔ اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں یہ بھی ہے: الٰہی! میری جان میں نور پیدا کیجئے (یہ جو کچھ نور آپ عطا فرمائیں گے معمولی نور نہ ہو بلکہ سب سے بڑا نور ہو جس سے مجھے کامل ہدایت ملے)۔ اور مسلم کی ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے: الٰہی (آخر میں آپ سے دعا کرتا ہوں کہ) آپ مجھے اس قدر نور عطا فرمائیے کہ میں سر تا پا نور ہی نور ہو جاؤں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 58 (unverified) 91% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.