اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1869
ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اوراد و وظائف و نوافل اپنے اوپر تم اسی قدر لازم کرلو جو تم سے
ہمیشہ ہوسکیں (دواماً ان کو نباہ سکو، اس سے کیا فائدہ کہ چار دن کسی عمل کو کریں اور پھر چھوڑ بیٹھیں، تھوڑا
ہی ہو مگر ہمیشہ ہو، اس سے قلب میں وہ صفائی پیدا ہوتی ہے جو بہت سے اوراد و وظائف و نوافل
شروع کرکے اور پھر چھوڑ دینے سے نہیں ہوسکتی دیکھو! پانی کی لوٹ پتھر کی چٹان پر سے گزر جائے تو
اس میں کوئی سوراخ پیدا نہیں کرسکتی، اس کے برخلاف اگر پتھر پر پانی کا ایک ایک قطرہ ہمیشہ ٹپکتا
رہے تو ایک نہ ایک دن پتھر میں سوراخ کرکے رہے گا۔ اس کو بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کے پاس ثواب
کے بیحد خزانے بھرے ہوئے ہیں) اور اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے تھکتے نہیں (تم جتنا کرو گے اس قدر
ثواب دیتے جائیں گے، مگر تم اپنے کو دیکھو کہ) تم اتنے اوراد و وظائف و نوافل مقرر کرلے جن کو تم
نباہ نہ سکو اور تھک کر چھوڑ بیٹھو (اس سے کیا فائدہ، اسی لئے اوراد و وظائف و نوافل میں اعتدال اللہ
اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہت پسند ہے۔
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 43 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.