Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1627

Chapter on Moderation in Actions

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Moderation in Actions

Zujajat al-Masabih 1627Volume 1

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: "If one of you feels drowsy while praying, let him sleep until his drowsiness goes away. If one of you prays while drowsy, he may not know whether he is seeking forgiveness or cursing himself."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٦٢٧ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ وَهُوَ يُصَلِّي فَلْيَرْقُدْ، حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ النَّوْمُ؛ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا صَلَّى وَهُوَ نَاعِسٌ لَا يَدْرِي لَعَلَّهُ يَسْتَغْفِرُ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1871
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (نفل) نماز پڑھ رہا ہو، اور وہ اونگھنے لگے (یا اس کو گہری نیند آ جائے پھر بھی وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے نماز مختصر کر کے) اس کو سوجانا چاہئے۔ (جب اونگھ اور نیند اس سے دور ہو جائے تو پھر نماز پڑھے، باوجود نیند کے غلبہ کے اگر وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو نہیں معلوم نیند کے غلبے میں زبان سے کیا نکل جائے، دعا کی بجائے بددعا کرنے لگے، مثلاً مغفرت کی دعا کرنا چاہتا ہے، اور نیند میں مغفرت مانگنے کے بجائے عذاب مانگ لے (اسی لئے نوافل میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے تاکہ یہ نوبت ہی نہ آئے) (اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 212 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 786 (unverified) 94% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1244 (unverified) 82% confidence

Mishkat (candidate) 1244

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(اس حدیث شریف کے ترجمہ سے پہلے یہ ضروری بات سن لیجئے: ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگوں کو مشقت میں ڈالنے والی) عبادت کا بے حد شوق تھا اس لئے ان کو اس افراط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا گیا ہے لیکن اس زمانہ میں معمولی سے معمولی عبادات بھی مشکل معلوم ہورہی ہیں اس لئے ان کو بھی تفریط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا جا رہا ہے، اس تمہید کے بعد حدیث شریف کو سنئے:)