اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1871
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (نفل) نماز پڑھ رہا ہو، اور وہ
اونگھنے لگے (یا اس کو گہری نیند آ جائے پھر بھی وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے نماز
مختصر کر کے) اس کو سوجانا چاہئے۔ (جب اونگھ اور نیند اس سے دور ہو جائے تو پھر نماز پڑھے، باوجود
نیند کے غلبہ کے اگر وہ نماز پڑھتا چلا جائے تو نہیں معلوم نیند کے غلبے میں زبان سے کیا نکل جائے،
دعا کی بجائے بددعا کرنے لگے، مثلاً مغفرت کی دعا کرنا چاہتا ہے، اور نیند میں مغفرت مانگنے کے
بجائے عذاب مانگ لے (اسی لئے نوافل میں اعتدال کا حکم دیا گیا ہے تاکہ یہ نوبت ہی نہ آئے)
(اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 212 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 786 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1244 (unverified) 82% confidence
Mishkat (candidate) 1244
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس حدیث شریف کے ترجمہ سے پہلے یہ ضروری بات سن لیجئے: ایک زمانہ ایسا تھا کہ لوگوں کو مشقت میں ڈالنے والی) عبادت کا بے حد شوق تھا اس لئے ان کو اس افراط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا گیا ہے لیکن اس زمانہ میں معمولی سے معمولی عبادات بھی مشکل معلوم ہورہی ہیں اس لئے ان کو بھی تفریط سے ہٹا کر اعتدال پر لایا جا رہا ہے، اس تمہید کے بعد حدیث شریف کو سنئے:)