Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1634

(یہ باب نفل اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں ہے یعنی افراط و تفریط

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب نفل اعمال میں میانہ روی اختیار کرنے کے بیان میں ہے یعنی افراط و تفریط

Zujajat al-Masabih 1634Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1879
سالم بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ کے ایک صاحب نے کہا کاش میں نماز پڑھتا تو مجھے راحت ملتی (یہ سن کر) لوگوں نے (ان کے اس کہنے کو اس وجہ سے) برا سمجھا (کہ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ نماز کو میں ادا کر دیتا تو نماز سے فارغ ہو کر آرام و راحت سے بیٹھتا تو قبیلہ خزاعہ کے ان صاحب نے کہا کہ میرا مطلب وہ نہیں تھا جو تم نے سمجھا
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 4985 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1253 (unverified) 90% confidence

Mishkat (candidate) 1253

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے بلکہ میرا مطلب یہ تھا کہ نماز شروع ہوجاتی، دنیا کے مشاغل سے بچ جاتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ راز و نیاز کرنے میں راحت حاصل ہوتی۔ یہ میرا مطلب تھا لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ غلط سمجھا ہے، میں جس لحاظ سے کہا تھا اسی لحاظ سے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اکثر فرمایا ہے۔ بلال! نماز کی تکبیر کہو! نماز شروع ہوجائے تو ہم کو نماز میں اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے میں راحت ملتی ہے (اسی وجہ سے حضور نے فرمایا ہے کہ نماز میں مجھے جو لطف ملتا ہے اس سے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، خزانہ کے ان صاحب نے جو کہا تھا اس سے ان کی مراد یہی ہے کہ لوگوں نے جو سمجھا ہے وہ مناسب نہیں۔ (اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)