Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1638

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نماز وتر واجب ہے اور اس کے تین رکعات ایک سلام

Zujajat al-Masabih 1638Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1883
عبداللہ بن ابی قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وتر کے کتنے رکعت پڑھا کرتے تھے؟ ام المومنین ارشاد فرمائیں کہ آپ کبھی تہجد کے چار رکعت پڑھتے تھے، اور تین رکعت وتر کے (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) پڑھتے تھے اور کبھی تہجد کے 6 رکعت پڑھتے تھے، اور وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور کبھی تہجد کے آٹھ رکعت پڑھتے تھے اور وتر کے تین رکعت (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور کبھی تہجد کے دس رکعت پڑھتے تھے اور وتر کے تین رکعات (ایک تکبیر تحریمہ اور ایک سلام سے) اور وتر و تہجد کا مجموعہ سات رکعت سے کم اور تیرہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1357 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

and three

(1) The phrase "and three" indicates that Witr is essentially three rak'ahs, and what precedes it is considered part of the night prayer (Tahajjud). Referring to the entire prayer as Witr is a metaphorical usage. This is supported by the authentic hadith: "Make the last of your night prayer Witr."

Note 1

قوله

(۱) قوله: وثلاث قال العلامة العيني: فقد نصت على الوتر بثلاثة، ولم تذكر الوتر بواحدة، فدل على أنه لا اعتبار للركعة البتيراء. انتهى وقال علي القاري وفي إتيانها بثلاث في كل عدد دلالة ظاهرة بأن الوتر في الحقيقة هو الثلاث، وما وقع قبله من مقدمامته المسمى بصلاة التهجد، فإطلاق الوتر على الكل مجاز، ويؤيده الحديث الصحيح: اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا.

Note 1

ف: علامہ عینی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث شریف سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وتر کے تین رکعات ہوتے ہیں، اس لئے کہ ام المومنین نے بار بار وتر کے تین رکعات کا ذکر فرمایا ہے اگر وتر ایک رکعت ہوتی تو ام المومنین اس کو ظاہر فرماتیں، ام المومنین کا ایک رکعت کا ذکر نہ فرمانا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر کے تین رکعت ہیں اور وتر ایک رکعت کبھی نہیں پڑھی گئی۔ اس لئے کہ وہ بتراء ہے جس کی ممانعت گزر چکی ہے۔