English
Kharijah ibn Hudhafah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us and said: 'Allah has given you a prayer that is better for you than red camels—the Witr prayer. Allah has made it for you between the Isha prayer and the dawn.'"
العربية
Typed, pending editorial approval
١٦٤٦ - وَعَنْ خَارِجَةَ بْنِ حُذَافَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُوْلُ اللهِ ﷺ وَقَالَ: «إِنَّ اللهَ أَمَدَّكُمْ بِصَلَاةٍ هِيَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ الْوِتْرُ، جَعَلَهُ اللهُ لَكُمْ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ الْفَجْرُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1892
خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک روز) ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو
پانچ فرض نمازوں پر ایک زائد نماز عطا کی ہے اور وہ وتر ہے (صاحبو جانتے ہو کہ وتر کیا ہے؟
تمہارے سمجھانے کے لئے کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ تمہارے پاس جیسے مرغوب ہیں، اور
سارے اموال سے زیادہ قیمتی ہیں ایسا ہی) وتر (بلحاظ ثواب کے) ان سرخ اونٹوں سے بھی
زیادہ بہتر ہے (12 رکعت سنت مؤکدہ جو فرض نمازوں کے تابع ہیں، ان کی طرح وتر کسی نماز
کے تابع نہیں بلکہ وتر ایک مستقل اور زائد نماز ہے اور واجب ہے، اس لئے اس کا وقت تم کو بتایا
جاتا ہے) اللہ تعالیٰ نے اس کا وقت تمہارے لئے عشاء اور صبح صادق کے درمیان رکھا ہے۔
(اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 452 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1418 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ فرض نمازوں کے سوا دن رات میں سنن مؤکدہ، تہجد اور دیگر نوافل جو پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر اس طرح نہیں کیا گیا جیسے کہ وتر کا ذکر اس حدیث شریف میں کیا گیا ہے۔ حدیث شریف کے الفاظ پر غور کیجئے: وتر کے لئے ارشاد ہوا ہے فرض نمازوں پر وتر زائد کی جا رہی ہے، جو چیز زیادہ ہوتی ہے اور جس پر زائد ہوتی ہے وہ اسی کے جنس سے ہوتی ہے اسی وجہ سے 12 رکعت سنتوں کو فرائض پر زائد کیا گیا نہیں۔ ارشاد فرمایا گیا؛ تہجد کو عشاء پر زائد کیا گیا نہیں، ارشاد فرمایا گیا: ان کے برخلاف ”وتر کو پانچ فرضوں پر زائد کیا گیا“ ارشاد ہوا ہے جس سے معلوم ہوا کہ وتر بھی فرائض کے قسم سے ہے اس لئے وتر واجب ہے۔