English
Ya’la ibn Umayyah reported: "I said to Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him): ‘Allah says: “There is no blame on you for shortening the prayers if you fear persecution” (Qur’an 4:101), but people are now safe.’ Umar replied: ‘I wondered the same, so I asked the Messenger of Allah (ﷺ), who said: “It is a charity Allah has bestowed upon you; accept His charity.” 1
العربية
Typed, pending editorial approval
۱۷۳۹ - وَعَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: قُلْتُ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه): إِنَّمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى: {لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا (النساء: (۱۰۱) فَقَدْ أَمِنَ النَّاسُ؟ فَقَالَ: عَجِبْتُ مِمَّا عَجِبْتَ مِنْهُ فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: صَدَقَةٌ تَصَدَّقَ اللهُ بِهَا عَلَيْكُمْ، فَاقْبَلُوا1 صَدَقَتَهُ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2008
یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن
خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اگر تم کو خوف ہو کہ نماز پڑھنے کی حالت میں
کفار تم پر حملہ کر دیں گے تو تم (چار رکعت والی) فرض نمازوں میں قصر کیا کرو، اب (جبکہ کفار کے حملہ
کا خوف باقی نہ رہا اور) لوگ امن و چین کی زندگی بسر کر رہے ہیں (تو آیت شریفہ میں قصر کے لئے
خوف کی جو قید تھی باقی نہ رہنے سے قصر کا حکم بھی باقی نہ رہنا چاہئے۔ پھر نماز قصر سے کیوں پڑھی
جا رہی ہے) (یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تم جس چیز سے تعجب کر کے مجھ سے
پوچھ رہے ہو، میں نے بھی اسی طرح تعجب کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تھا
تو حضور والا نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ خدائے تعالیٰ کی عنایت اور احسان ہے کہ وہ اپنے فضل و کرم سے
تم پر آسانی کررہے ہیں (تم کیوں سختی میں مبتلا ہورہے ہو) ان کی اس آسانی کو قبول کرلو (سفر میں
خوف ہو یا نہ ہو ہر حال میں قصر کیا کرو)۔ (اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 686a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The phrase “accept His charity” implies obligation, supporting Abu Hanifah’s view that shortening prayers is mandatory, while completing them is improper. – Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: فاقبلوا وأمر فاقبلوا» ظاهره الوجوب، فيؤيد قول أبي حنيفة: إن القصر عزيمة والإتمام إساءة». قاله في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے: ”فَاقْبَلُوا صَدَقَتَهُ“، یعنی سفر میں قصر کرنے کی جو اجازت دی گئی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا صدقہ یعنی اس کا احسان ہے، تم اس احسان کو قبول کرلو، اس ارشاد گرامی میں ”فَاقْبَلُوا“ امر کا صیغہ ہے اور عموماً امر وجوب کے لئے ہوتا ہے تو اس حدیث سے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے کہ سفر میں چار رکعت والی فرض نمازوں میں قصر کرنا واجب ہے اور قصر نہ کرکے پورے چار رکعت پڑھنا گناہ ہے۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)