English
Anas ibn Malik (may Allah be pleased with him) narrated: "We traveled with the Messenger of Allah (ﷺ) from Madinah to Makkah. He prayed two rak’ahs throughout the journey until we returned to Madinah. I asked: ‘Did you stay in Makkah for some time?’ He said: ‘We stayed for ten days.’" 2
العربية
Typed, pending editorial approval
١٧٤٠ - عَنْ أَنَسٍ (رضي الله عنه) يَقُوْلُ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ. قُلْتُ: أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا؟ قَالَ: أَقَمْنَا2 بِهَا عَشْرًا.
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2009
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے لئے مدینہ شریف سے نکل کر مکہ معظمہ پہنچے (مکہ معظمہ سے
عرفات مزدلفہ اور منیٰ ہوتے ہوئے پھر مدینہ منورہ واپس ہوئے) اس سفر میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم چار رکعت والی فرض نماز کو قصر کرکے دو رکعت ہی پڑھاتے رہے۔ انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے
دریافت کیا کہ مکہ معظمہ میں (داخل ہونے کے بعد حج سے فارغ ہوکر مکہ معظمہ سے نکلنے تک) کتنے
دن کا قیام رہا تو حضرت انس نے جواب دیا کہ دس دن! (حضرت انس رضی اللہ عنہ کے اس قول سے
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1081 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
(2) The statement “We stayed for ten days” invalidates the four-day limit, as this occurred during the Farewell Pilgrimage. They intended to stay longer for completing rites. – Al-Ta’liq al-Mumjad. Al-Mirqat states: This Hadith contradicts Al-Shafi’i’s view that one must complete prayers after four days. Abu Hanifah said: Shorten prayers unless intending to stay fifteen days, a view traced to Ibn Abbas and Ibn Umar.
Note 2
(۲) قوله: أقمنا بها عشرا : هذا الحديث مما يدلُّ على فساد التحديد بأربعة أيام؛ لأنه إنما هو في حجة الوداع. فتعين أنهم نووا الإقامة أكثر من أربعة أيام؛ لأجل قضاء النسك. قاله في التعليق الممجد». وقال في «المرقاة»: والحديث بظاهره ينافي مذهب الشافعي من أنه إذا قام أربعة أيام يجب الإتمام. وقال أبو حنيفة: يقصر ما لم ينو الإقامة خمسة عشر يوما، وهو مأثور عن ابن عباس وابن عمر .
Note 1
معلوم ہوا کہ اگر کسی مقام پر دس روز کے لئے قیام کیا جائے تو وہ وطن اقامت نہیں بنے گا اس لئے کہ حضور مکہ معظمہ میں دس دن اقامت فرمائے اور چار رکعت والی فرض نمازوں کا قصر کرکے دو رکعت ہی پڑھتے رہے، اگر یہ وطن اقامت بن جاتا تو آپ قصر نہیں کرتے)۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔) ف: واضح ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجۃ الوداع کے لئے جب مکہ معظمہ شریف لائے تو ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ تھی، 5/6 اور 7 تاریخ تک یہ تین دن آپ مکہ معظمہ میں ٹھہرے۔ آٹھویں کو منٰی روانہ ہوئے اور نویں کو عرفات پہونچے اور دسویں کو پھر منٰی میں لوٹ آئے اور گیارہویں بارہویں کو وہاں رہے اور تیرہویں کو پھر مکہ معظمہ لوٹ آئے اور چودھویں کو مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ روانہ ہوئے۔ اس سے بعض حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف تین دن مکہ معظمہ میں قیام فرمائے تھے، اس لئے نماز قصر کرتے رہے، اگر چار دن مکہ میں رہتے تو نماز قصر نہیں فرماتے بلکہ پوری نماز پڑھتے۔ یہ خیال اس وقت صحیح ہوتا کہ حضور تین دن مکہ میں رہ کر مدینہ کو مکہ ہی سے رخصت ہوجاتے حالانکہ ایسا نہیں ہوا حضور مکہ سے رخصت نہیں ہوئے۔ عرفات جا کر منٰی میں آئے۔ اور منٰی سے فرض طواف کے لئے پھر مکہ میں آئے۔ فرض طواف سے فارغ ہو کر منٰی میں تشریف لائے، منٰی سے طواف وداع کے لئے پھر مکہ میں آئے اور اس کے بعد مکہ سے مدینہ شریف کو روانہ ہوئے، مکہ میں حضور کا بار بار تشریف لانا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ مکہ سے رخصت نہیں ہوئے اسی لئے انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں آپ کا قیام دس دن رہا۔ مکہ میں (4) دن نہیں بلکہ (10) دن قیام فرما رہے اور نمازوں کو قصر کرتے رہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ (4) دن ہوں، یا (10) دن کسی مقام پر رہنے سے وہ مقام وطن اقامت نہیں بنتا اس لئے قصر پڑھنا چاہئے۔ چنانچہ اس کے بعد والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ کسی مقام پر (15) دن یا (15) دن سے زائد رہنے کی نیت کرنے سے وہ مقام وطن اقامت ہوجاتا ہے اور وہاں نماز قصر نہیں کرنا چاہئے۔ (مرقات۔ اشعۃ اللمعات)۔