اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 186
ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن کا نزول پانچ طرح پر ہوا ہے (1) حلال (2) حرام (3) محکم (4) متشابہ
(5) اور امثال۔ حلال کو حلال سمجھو اور حرام کو حرام، محکم آیتوں پر عمل کرو، اور متشابہ آیتوں پر ایمان لاؤ، اور
امثال (یعنی گزری ہوئی امتوں کے قصوں) سے عبرت حاصل کرو (یہ مصابیح کے الفاظ ہیں اور بیہقی نے
شعب الایمان میں جو روایت کی ہے وہ یہ ہے کہ حلال پر عمل کرو اور حرام سے بچو اور محکم کی اتباع کرو)۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: محکم سے مراد قرآن کی ایسی آیتیں ہیں جن کے معنوں میں کوئی اشتباہ نہ ہو جیسے ﴿وَأَقِيمُوا الصَّلٰوةَ وَآتُوا الزَّكٰوةَ﴾ (نماز پابندی سے باقاعدہ پڑھا کرو اور زکات ادا کرتے رہو) (سورہ بقرہ، پ:1، ع:5، آیت نمبر:43)۔ اور متشابہ سے وہ آیتیں مراد ہیں جن کے معنی خوب واضح نہ ہوں اور ان کے کئی معنی ہوسکتے ہیں، جیسے ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (تمہارا پروردگار آیا) (سورہ فجر، پ:30، ع:1، آیت نمبر:22) وغیرہ۔12