اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2020
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے لئے اور آپ کی امت کے لئے) (ظہر، عصر اور عشاء میں) حضر (حضر میں چار
رکعت کا فرض ہونا آخری حالت کے لحاظ سے ہے، ورنہ ابتداء میں سفر اور حضر میں نماز دو رکعت فرض
ہوئی تھی، جس کی تفصیل حدیث 380 میں مذکور ہے، اس حدیث کی روایت ام المؤمنین حضرت
عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمائی ہے۔12) میں چار رکعت فرض کئے گئے اور سفر میں (ان نمازوں میں
ابتداء ہی سے دو رکعت ہی فرض کئے گئے اس لئے اگر کوئی بحالت سفر ظہر، عصر اور عشاء میں دو رکعت
زیادہ کر کے چار رکعت پڑھے گا تو گنہگار ہوگا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضر میں فرض کے پہلے
اور فرض کے بعد جو سنت پڑھی جاتی ہیں سفر میں بھی فرض کے بعد کی، اور پہلے کی سنتیں (اگر اطمینان
ہو اور جلدی نہ ہو تو بغیر قصر کئے کے) پوری پڑھا کرتے تھے (اگر جلدی ہو تو بغیر قصر کئے کے پوری
رکعتوں کے ساتھ سنتوں کو ترک فرماتے تھے)۔ (اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے۔)